"پلندری" کے نسخوں کے درمیان فرق

حذف شدہ مندرجات اضافہ شدہ مندرجات
م خودکار: خودکار درستی املا ← طلبہ، اس ک\1، ئے، وزیر اعظم، سے، پڑ گیا، سے، فرماں بردار، لیے، \1 رہے
م درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
سطر 45:
 
== سیاحت مقامات ==
پلندری راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ سے مشرق میں دریائے جہلم کے کنارے واقع تین ہزار سے سات ہزار فٹ پہاڑوں پر مشتمل خوب صورت علاقہ سے بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان میں چھوٹی چھوٹی وادیاں اس حسن کو دوبالا کرتی ہیں سیاحتی اعتبار سے کئی خوب صورت مقامات ہیں یہ علاقہ مری کے بالمقابل جنوب مشرق میں واقع ہے اس علاقے کے چند اہم مقامات جوسیاحوں کے لیےپرلیے پر کشش ہیں اور جہاں کچھ سہولتیں موجود ہیں ان کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
=== پلندری ===
پلندری راولپنڈی سے 93کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے سطح سمندر سے ساڑھے چار ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ایک نہایت پر فضا مقامات ہے۔ موسمی اعتبار سے یہ آزادکشمیر کا سب سے بہترین مقام ہے کیونکہ یہاں نہ تو بہت بلند مقامات کی طرک شدید سردی ہوتی ہے اور نہ ہی زیریں علاقوں کی طرح گرمیوں میں شدید گرمی، یہاں کا موسم سال کا بیشتر حصہ معتدل رہتا ہے پلندری کی وادی تقریباً چار مربع کلومیٹر ہے۔ یہاں کے لیے بنیادی سہولیات ریسٹ ہاوس، ہوٹل، ہسپتال وغیرہ موجود ہیں اور دیگر ضروریات بھی دستیاب ہیں شہر کے مشرق میں تاریخی مقام جو رانی بلاس پوری کی باولی کے نام سے مشہور ہیں، فن تعمیر کا شاہکار ہیں محکمہ سیاحت کی عدم توجمی کے باوجود قدیم زمانے کی یہ تاریخی عمارت آج بھی قابل دید ہے پلندری راولپنڈی اسلام آباد سے آزادکشمیر کا قریب ترین مقام ہونے کی وجہ سے سیاحوں ک لیے ایک موزوں مقام ہے۔
سطر 53:
 
پلندری آزاد کشمير سے بارہ ميل جنوب کی طرف دو بڑے نالوں کی درميان اونچی گھاٹی پر ايک عمر رسيدہ اور خستہ حال عمارت جو قلعہ بارل کے نام سے مشہور ہے، زمانے کی مسلسل بے اعتنائيوں کے باوجود اپنی مثال آپ ہے۔ يہ عمارت تقريبا” پونے دو سو سال قبل تعمیر ہوئی- تیرھویں صدی میں کشمير پر مسلم سلاطين کی حکومت کا آغاز ہوا اور سو برس تک مغل حاکم رہے۔ ستر برس تک پٹھان اور 1819ء سے 1845 تک سکھوں کا عمل دخل رہا جبکہ 1846 سے 1947 تک ڈوگرہ خاندان نے اس سر زمين پر اپنے ظلم و تشدد کا بازار گرم رکھا۔ ان حکومتوں کے دوران يہاں کے کئی علاقے آزاد رہے جن میں علاقہ پونچھ (سابق) سر فہرست ہے- آزاد قباءل کی زندگی پرسکون، خوشحال اور فارغ البال تھی- یہ لوگ اپنی طرز زندگی کا ايک عميق اور منفرد فلسفہ رکھتے تھے۔ بيرونی تسلط کو کبھی قبول نہ کرتے تھے۔ جب سری سکھ حکمران نے یہ چاہا کہ پوری رياست پر ان کا قبضہ رہے تو انہوں نے يہاں کے آزاد حکمرانوں کی آزادی سلب کرنے کی غرض سے حملہ کر ديا مگر آزاد قبائل نے متحد ہو کر کفر کو پاک سر زمين سے بھاگنے پر مجبور کر ديا ۔
يہ قلعہ جو بارل کے وسط ميں واقع ہے۔ ايک سو برس تک ڈوگراہ بربريت کا مرکذ رہا ہے۔ اس کے مشرق ميں کوہالہ، مغرب ميں اٹکورہ، شمال ميں پلندری اور جنوب ميں سہنسہ و اقع ہيں۔ اس کا سنگ بنياد 1837 ميں مہاراجہ گلاب سنگھ کے دور ميں رکھا گيا۔ اس کی تعمير ايک آنہ يوميہ کی مزدوری پر عمل ميں آ‎‎ئی۔ اس کے پتھر سہر نالہ (جو ڈيڑھ ميل کی دوری پ رہے) سے لائے گئے۔ عوام علاقہ عمارت کی جائے وقوعہ سے مذکورہ نالے تک ايک لمبی قطار بناتے اور پتھروں کو حرکت ديتے رہتے۔ يہ سلسلہ صبح تا شام جاری رہتا حتی کہ عمارت ميں صرف ہونے والےتماموالے تمام پتھر اسی طریقہ سے لائے گئے ۔علاوازيں۔ علاوازيں سرخی اور چونا پنيالی(جو پانچ میل کی دوری پر ہے) سے لايا گيا۔
ڈوگرہ سا مراج نے مقامی آبادی کو ہراساں کرنے اور ہميشہ کے لیے اپنا مطيع و فرماں بردار بنانے کی غرض اس قدر مظالم ڈھا‎‎ئے کے قلعہ کی تعمير کی ابتدا ميں ايک مقامی مسلمان کو قلعے کے بڑے دروازے کے سامنے والے ستون کے نيچے زندہ دفن کر ديا گيا تاکہ لوگ آزادی کی سی انمول نعمت کو ذہن میں نہ لا سکیں
قلعہ کی تعمير ميں جو پتھر استعمال ہوئے ہیں وہ مختلف سا‎‎‎ئيز کے ہيں جن ميں سب سے چھوٹا پتھر “4”7 اور سب سے بڑا “12”7 کا ہے البتہ ايک پتھر کی لمبا‎‎‎‎ئ 96 انچ ہے يہ پتھر بڑے دروازس سے داخل ہوتے ہو‎‎ئے با‎‎‌‌ئيں طرف کے دروازے ميں نصب ہے قلعے کی اندرونی ديواريں 22‎ انچ چوڑی ہيں جبکہ باہر کی ديوار 38 انچ چوڑی ہے جس ميں چاروں بندوںکوںبندوں کوں اور ہلکی توپوں سے فا‎‎ئير کرنے کی جگہيں موجود ہيں۔
قلعے کی تکميل اس کی تاريخ آغاز سے لے کر مسلسل کام کے باوجود 1839 ميں ہو‎ئی ۔ہو‎ئی۔ ڈوگرا سا مراج کے قدم اکھڑتے ہی وہی قتل گاہ خاص و عام بچوں کی ايک تربيت گاہ ميں بدل گئی۔ 1947 سے 1957 تک اس قلعے سے مڈل سکول کا کام ليا گيا۔ کيونکہ سکول کيلئے کوئی دوسری عمارت موجود نہ تھی۔
يہ عمارت جو آج کل اپنی بے بسی اور کسمپرسی پر سرگر يہ کناں ہے دو ہال اور اٹھارہ کمروں پر مشتمل ہے۔ اس کے وسط ميں ايک کنواں جو سنتے ہيں کہ بہت گہرا ہوا کرتا تھا، اب مٹی اور پتھروں سے بھر چکا ہے۔ عصر حاضر ميں اس قلعے کے اندر جس کی عمارت تين کنال کے رقبے ميں پھيلی ہوئی ہے۔ شہتوت، ہاڑی، جنگلی اناروں کے علاوہ بے شمار قسم کی خود رو جڑی بوٹياں اگی ہو‏ئی ہيں۔ کچھ ديواريں حالت رکوع ميں ہيں اور کچھ گريباں چاک ہيں۔ چھت گويا تھی ہی نہيں۔ اے کاش کوئی اس بے چارگی و کسمپرسی پر چارہ گری کا بيڑا اٹھاتا۔ قلعہ بارل آج بھی منتظر ہے کسی ايسی آنکھ کا جس کے دريچے ماضی کی عظمت رفتہ کی ديوار پر کھلتے ہيں۔
 
سطر 84:
آزادی کے وقت موجودہ آزادکشمیر میں ایک ہی کالج تھا جو میرپور میں قائم تھا آزادی کے بعد جلد ہی مظفرآباد اور راولاکوٹ میں کالج قائم کیے گیے ان تین کالجوں کے بعد 1962ء میں کوٹلی اور باغ اور پھر پلندری میں کالج قائم ہو 1974ء میں اسے ڈگری کا درجہ دیا گیااور پھر 2010ء میں پوسٹ گریجویٹ کالج کا درجہ دیا گیا اس نے علاقے میں تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کیاآج اس ادارے سے فارغ ہونے والے طلبہ زندگی کے مختلف میدانون، افواج پاکستان، سیاست، معیشت، تعلیم، صحت، انتظامیہ اور دیگر شعبون میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
=== گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج، پلندری ===
1980ء میں گرلز ہائی اسکول کو ترقی دے کر انٹر کالج قائم کیاگیااور اب ڈگری کالج قائم ہے ۔ہے۔ یہ تعلیمی اداردہ سدھنوتی میں خواتین کی تعلیمی ضروریات کو پورا کر رہاہے۔
 
{{نامکمل}}