خالد الحایک

عالم حدیث

ابو صُہیب خالد بن محمود بن علی بن حمدان بن حسن الحایک ہاشمیُ نوفلی حسینی قَطنی (یا قطناوی) مَرداوی مقدسی اردن سے تعلق رکھنے والے محدث، عالم الرجال والعلل ہیں۔

خالد الحایک
معلومات شخصیت
پیدائش 20 فروری 1970 (51 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عمان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش ریاستہائے متحدہ امریکا (–1996)  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Jordan.svg اردن  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ یرموک
جامعہ اردن  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ محدث،  رجال شناس  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

پیدائشترميم

اردن کے شہر عمان میں 13 ذی الحجہ 1389ھ بمطابق 20 فروری 1970ء کو جمعہ کے روز پیدا ہوئے۔

تعلیمی سفرترميم

سنہ 1988ء میں عمان کے علاقے حی نزال سے ثانوی تعلیم مکمل کی۔

اردن کی یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی میں کلیہ انجینئری میں داخلہ لیا۔ پھر انجینئری ترک کرکے حصول علم کی خاطر ریاستہائے متحدہ امریکا آ گئے۔

وہ امریکا میں سنہ 1996ء تک مقیم رہے۔ ان پر احمد دیدات کا بھی کچھ اثر ہے، امریکا میں ان کے لیکچر سنے اور استفادہ کیا۔ خالد الحایک نے میلکم ایکس کی کچھ کتب کا انگریزی سے عربی میں بھی ترجمہ کیا۔

سنہ 1996ء میں وہ اردن واپس آئے اور جامعہ اردن میں کلیہ شریعہ میں داخلہ لیا اور سنہ 2001ءء میں اصول دین میں بیچلر کی سند حاصل کی۔ اور سنہ 2004ء میں حدیث نبوی میں بدرجہ امتیاز ماسٹر کی سند حاصل کی۔ ان کے مقالہ کا عنوان "منهج الحافظ أبي الفتح الأزدي في الحديث وعلومه" تھا۔

پھر سنہ 2004ء میں انہوں نے تعلیم جاری رکھتے ہوئے جامعہ یرموک کی کلیہ شریعہ سے حدیث میں ڈاکٹریٹ کی غرض سے داخلہ لیا، تاہم سنہ 2005ء میں جامعہ اردن میں منتقل ہو گئے اور سنہ 2008ء میں وہاں کی کلیہ شریعہ سے بدرجہ امتیاز حدیث میں دکتور کی سند حاصل کی۔ ان کے مقالہ کا عنوان "الراوي المجهول/ دراسة نظرية وتطبيقية في كتاب تقريب التهذيب لابن حجر" تھا۔

جامعہ اردن کے شعبہ حدیث میں یہ ان کا پہلا مقالہ تھا جس پر اتنی بحث ہوئی۔[1]

نام و نسبترميم

ان کا شجرہ نسب ذریت حسین بن علی میں سے سادات نوافلہ تک پہنچتا ہے:

خالد بن محمود بن علی بن حمدان بن حسن بن حسین بن محمد المعروف (الحایک) بن محمود بن شمس الدین بن محمد ابو عرموش بن حسن بن علی بن نوفل بن اسماعیل بن نوفل بن حسن المعروف اللیثی بن علی الصویص بن محمد بن اسماعیل بن حسن بن احمد ابی اللیث بن سعد الدین بن ابراہیم بن محمد ابی بکر بن اسماعیل بن عمر بن علی بن عثمان بن حسین بن محمد بن موسى بن یحیى بن عیسى بن علی بن محمد بن حسن بن جعفر التواب الزکی ابن علی الہادی ابن محمد الجواد ابن علی الرضا ابن موسى الکاظم ابن جعفر الصادق ابن محمد الباقر ابن علی زین العابدین ابن الحسین ابن علی بن ابی طالب۔[2]

شیوخترميم

علم حدیث
  • عبد المجید محمود عبد المجید المصریّ
  • محمد محمد الشریف المصری
  • محمود نَادی عُبیدات
  • سلطان العکایلہ
  • محمد عید الصاحب
  • حمزہ المِلیباری
  • عبد الرزاق ابو البصل
تفسیر
  • صلاح الخالدی
  • احمد نوفل
  • احمد فرید ابو ہزیم
  • فرید السلمان
فقہ واصول
  • عمر سلیمان الاشقر
  • عبد المجید الصلاحین
  • محمد نعیم یاسین
  • محمد عثمان شبیر
  • عبد المُعز حریز
عربی زبان
  • محمد حسن عواد

حوالہ جاتترميم

  1. http://www.addyaiya.com/uin/arb/ShowContent.aspx?Id=106
  2. عشيرة السادة النوافلة في الأردن وفلسطين، للدكتور محمد جاسم المشهداني، ص32، وكتاب دوحة السادة الحسينيين الأشراف في قطنة - القدس للنسابة عيسى خليل محسن الحسيني