خاندانی ڈراما سے مراد وہ ڈراما ہوتا ہے جس کا موضوع خاندانی رشتوں کے اطراف گھومتا ہے۔ اس میں کبھی باپ بیٹے کے تعلقات، ماں بیٹی کے تعلقات، ساس اور بہو اور بہو کے تعلقات ممکنہ طور پر شامل ہو سکتے ہیں۔ چونکہ ڈرامے کا نچوڑ عمومًا کسی قسم کا تصادم یا رسہ کشی ہوتا ہے، اس لیے ان ڈراموں میں کبھی نئی پرانی نسلوں کی سوچ میں فرق، نوجوان جوڑوں کی شادی کے انتخاب میں ماں باپ کی جانب سے مختلف رائے یا مخالفت، ساس بہو کے جھگڑے، جائداد کے بٹوارے، وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔

بھارت میں بنی 2015ء کی خاندانی ڈراما فلم آل از ویل کے اداکار ہدایتکار امیش شکلا کے ساتھ جے پور میں تشہیری مہم میں حصہ لیتے ہوئے۔

کبھی کبھی تصادم کی بجائے سادہ تفریحی ڈرامے بنائے جاتے ہیں۔ ان میں ایک پہلو عمومًا کامیڈی یا مزاح کا ہوتا ہے۔ لوگوں کا بھولنا، شوہر کا بیوی پر یا بیوی کا شوہر پر بے جا شک، بچوں کا پڑھائی سے جی چرانا وغیرہ کے واقعات ایک سلسلے وار اور تفریحی و مذاقیہ انداز میں پیش ہوتے ہیں۔

فلموں میں اور ٹی وی پر خاندانی ڈراما کی وکالت

ترمیم

بھارت میں خاندانی ڈراما پر مبنی فلموں کے لیے پہچانے جانے والے فلمی ہدایتکار سورج بڑجاتيا کا خیال ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جدید دور میں ایسی ہی فلمیں دیکھنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ ان کی فلموں اسی طرز پر بنی ہیں۔ ان میں 'ہم آپ کے ہیں کون'، 'ہم ساتھ ساتھ ہیں' اور 'ویواہ' جیسی فلمیں شامل ہیں۔[1]

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم