خدا آباد (انگریزی Khudabad) پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع دادو میں ایک قدیم شہر واقع ہے۔ یہ شہر دادو کے جنوب میں 10 کلومیٹر کے فاصلے پر انڈس ہائی وے پر قائم ہے۔ مغل سلطنت کے دور میں ملتان کے گورنر مغل شہرزادہ معزالدین نے کلہوڑہ حکمرانوں کو زیربار کرنے کے لیے 1700ء میں کلہوڑوں کے مرکزی گائوں گاڑہی (موجودہ تحصیل خیرپور ناتھن شاہ) پر حملہ کیا۔ گاج ندی کے کنارے کھوڑ (ٹوڑ) کے مقام پر خونریز جنگ ہوئی جس میں دونوں اطراف سے جنرل مارے گئے۔ تاریخ تحفتہ الکرام کے مصنف میر علی شیر قانع کے مطابق پورے علائقے میں خون کے نالے بہے تھے۔ میاں دین محمد کلہوڑو گرفتار ہوئے اور ملتان میں 28 کارکنوں کے ساتھ مارے گئے جب کہ اس کے چھوٹے بھائی میاں یار محمد کلہوڑو نے خان آف قلات کے ہاں پناہ لے لی۔ کچھ عرصے کے بعد (1701ء) میاں یارمحمد کلہوڑو واپس سندھہ آئے اور گائوں گاہا (تحصیل جوہی) میں بیٹھ کر میانوال تحریک کو فعال کیا اور سامتانی، مرکھپور اور فتحپور (اب دادو ضلع کے گائوں) کے علاقوں پر اپنا اثر بڑھایا۔ اس اثنا میں میان یار محمد نے مغل شہنشاہت کو بھی راضی کیا۔ مغل شہنشاہت نے اسے خدایار کا خطاب دے کر سندھ پرحکومت کا پروانہ دیا تو میاں یارمحمد کلہوڑو نے گاہا گائوں کے قریب پنہور قبیلے کی “شکارپور پنہورکی” نامی بستی اپنے قبضے میں لے کر اس کو خداباد کا نام دے کر نیا شہر پرپا کیا اور اسے اپنی حکومت کا صدر مقام یا گادی کا شہر بنایا۔ سندھ کی تاریخ میں یہ بستی خداباد-1 سے پہچانی جاتی ہے اور کلہوڑہ حکمرانوں کا پہلا پڑا صدر مقام یا گادی کا شہر رہا ہے۔ اس شہر کے بارے میں مورخین کے بیانات تاریخ میں درج ہیں کے یہ بڑے رقبے پر پھیلا ہوئا تھا۔ حکمرانوں کی حویلیوں کے علاوہ دوسری فلک بوس اور خوبصورت عمارتیں تھیں۔ اس شہر میں مختلف بڑے باغات تھے۔ دریا کے قریب ہونے کی وجہ سے تجارت کا مرکز بھی تھا۔ اس شہر میں میاں یارمحمد نے جامع مسجد کا بنیاد ڈالا جس کا کام اس کے بیٹے میاں نورمحمد کلہوڑو نے مکمل کیا۔ یہ جامع مسجد آج بھی صفحہ ہستی پر موجود ہے جو طرز تعمیر کی نادر مثال ہے۔ اس دیواریں مغل اور اسلامی آرٹ آف پینٹنگ سے آرستہ ہیں۔ اس شہر کے قریب میاں یارمحمد کلہوڑو کا شاندار مقرہ بھی ہے۔ اس شہر میں ریلوی اسٹیشن بھی ہے۔[1][2]

Khudabad
خدا آباد کی جامع مسجد
خدا آباد is located in سندھ
خدا آباد
خدا آباد
متناسقات: 26°23′N 67°27′E / 26.39°N 67.45°E / 26.39; 67.45
ملک پاکستان
صوبہسندھ
بلندی31 میل (102 فٹ)
منطقۂ وقتپی ایس ٹی (UTC+5)


خدا آباد کا یہ علاقہ اور جامع مسجد، سندھ کے ضلع دادو میں، دادو شہر کے جنوب میں، اس سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر انڈس ہائی وے پر واقع ہے۔ مغل سلطنت کے دور میں ملتان کے گورنر مغل شہزادہ معزالدّین نے کلہوڑہ حکمرانوں کو زیرِ بار کرنے کے لیے 1700 ء میں کلہوڑوں کے مرکزی گاؤں ’گاڑھی‘ (جوموجودہ تحصیل خیرپور ناتھن شاہ میں واقع ہے ) پر حملہ کیا۔ گاج ندی کے کنارے ’کھوڑ‘ (ٹوڑ) کے مقام پر خونریز جنگ ہوئی، جس میں دونوں اطراف کے جرنیل مارے گئے۔

تاریخِ ’تحفتہ الکرام‘ کے مصنف، میر علی شیر قانع ٹھٹوی کے مطابق، اس لڑائی سے پورے علاقے میں خُون کے نالے بہے تھے۔ میاں دین محمد کلہوڑو گرفتار ہوئے اور ملتان میں 28 کارکنوں کے ساتھ مارے گئے، جبکہ اس کے چھوٹے بھائی میاں یار محمد کلہوڑو نے خان آف قلات کے وہاں پناہ لے لی۔ کچھ عرصے کے بعد ( 1701 ء میں ) میاں یارمحمد کلہوڑو واپس سندھ آئے اور گاؤں ’گاہا‘ (تحصیل جوہی) میں بیٹھ کر میانوال تحریک کو فعال کیا اور سامتانی، مرکھپور اور فتحپور (اب دادو ضلع کے گاؤں ) کے علاقوں پر اپنا اثر و رسُوخ بڑھایا۔

اسی اثنا میں میاں یار محمّد نے مغل شہنشاہوں کو بھی راضی کیا۔ مغل شہنشاہت نے اُسے ’خدایار‘ کا خطاب دے کر، سندھ پر حکومت کا پروانہ دیا، تو میاں یارمحمد کلہوڑو نے ’گاہا‘ گاؤں کے قریب پنہور قبیلے کی ’شکارپور پنہورکی‘ نامی بستی اپنے قبضے میں لے کر، اسے ’خدا آباد‘ کا نام دے کر نیا شہر برپا کیا اور اسے اپنی حکومت کا پہلا صدر مقام بنایا۔ سندھ کی تاریخ میں یہ بستی ’خداباد‘ کے نام سے پہچانی جاتی ہے اور کلہوڑا حکمرانوں کا پہلا بڑا صدر مقام یہی سمجھا جاتا ہے

حوالہ جات

ترمیم
  1. "Khudabad near Dadu, Sindh. Jami Masjid from south-east, outside walls"۔ 04 دسمبر 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 05 اپریل 2017 
  2. "خدا آباد | SindhSalamat"۔ 01 اکتوبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 05 اپریل 2017