دادو پاکستان کے صوبہ سندھ کا شہر ہے جو ضلع دادو میں واقع ہے۔ یہ ضلع دادو کا صدر مقام ہے۔ دادو شہر کلہوڑا خاندان کے دور (1783ع-1701ع) میں صفحہ ہستی پر موجود نہ تھا۔ کلہوڑا دور میں اس شہر کے محلے مرکھپور کا تاریخی ذکر موجود ہے۔ دادو شہر کی قدامت کے لیے دو روایات ملتی ہیں۔ ایک روایت یہ ہے کے دادو شاہ کے نام سے دادو پہ نام پڑا مگر دادو شاہ کی نہ مزار ہے نہ ہی کوئی ٹھکانہ یا تکیہ۔ دوسری روایت کے مطابق یہاں دادو ونسی ہندو جاتی رہتی تھی جو مشہور صوفی شاعر دادو دیال کی پیروکار تھی۔ دادو دیال کا سیوہن میں آنا اور سندھ کے صوفی شاعر قاضی قاضن سے ملنے کی تاریخ بھی موجود ہے اور دادو ونسی کمیونٹی کا تاریخی کتب میں ذکر بھی ملتا ہے جو برطانوی ہند کے دور میں دادو میں رہتی تھی۔ بہرحال دادو شہر برطانوی ہند کے دور کے رکارڈ میں موجود ہے۔ دریائے سندھ کے دائیں کنارے موجود دادو شہر کی طرف ایک نہر بہتی تھی جو دریائے سندھ سے نکل کر دادو کے قریب گذرتی تھی اور پھر بہتے ہوئے دوبارہ دریا سے جا کر ملتی تھی۔ دادو پہلے ضلع کراچی میں شامل تھا۔1931ع میں دادوکو ضلع بنایا گیا تو اس شہر نے ترقی کرنے شروع کی۔1980ع کے بعد دادو شہر نے بہت ترقی کی ہے۔ تجارت اور زراعت کا مرکز ہے۔ دادو میں 3 بوائیز ہائی اسکول، ایک گرلز ہائی اسکول، ایک گرلز ڈگری کالج، ایک بوائیز ڈگری کالج ہے۔ لاکالج کے علاوہ سندھ یونیورسٹی کئمپس بھی ہے۔ دادو میں سول ہسپتال بھی ہے۔ یہاں موسم بہت گرم ہے۔۔[2] دادو، جوہی، میہڑ اور خیرپور ناتھن شاہ ضلع دادو کی تحصیلیں ہیں۔

دادو
Railway Station Road Dadu - panoramio.jpg
 

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
دارالحکومت برائے
تقسیم اعلیٰ ضلع دادو  ویکی ڈیٹا پر (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 26°43′55″N 67°46′30″E / 26.731944444444°N 67.775°E / 26.731944444444; 67.775  ویکی ڈیٹا پر (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلندی 24 میٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2044) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 146179 (2017)  ویکی ڈیٹا پر (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فون کوڈ 025  ویکی ڈیٹا پر (P473) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قابل ذکر
جیو رمز 1180809  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حوالہ جاتترميم

  1.    "صفحہ دادو في GeoNames ID". GeoNames ID. اخذ شدہ بتاریخ 28 جولا‎ئی 2020ء. 
  2. Ancient sites, towns and villages | Aziz Kingrani