خلافت قرطبہ، اس خلافت کو کہا جاتا ہے کہ جو 929ء تا 1031ء تک بطور امارت قرطبہ جزیرہ نمائے آئیبیریا (اندلس) اور شمالی افریقا پر قرطبہ کے مرکز سے جاری رہی۔ اس خلافت کو دریائے ایبرو کے نام سے ماخوذ آئبیریا پر، اسلامی دور کی ایک اہم اور شاندار تاریخ رکھنے والی خلافت میں شمار کیا جاتا ہے۔

فہرست حکمران

ترمیم
خلیفہ اموی پیدائش تخت نشینی وفات

معزول

عبد الرحمان الداخل 756ء 138ھ 788ء

172ء

ہشام (اول)

عبد الرحمان دوم

محمد اول

منزر

عبد اللہ

عبد الرحمان ناصر

حکم

ہشام دوم

172ھ۔788ء

796ء

822 ء

856ء

886ء

888ء

912ء

961ء

796ء

823ء

856ء

886ء

888ء

912ء

961ء

976ء

ہشام کے بعد سلطنت کمزور ہو گئی 1030ء خاتمہ

جب دمشق پر خلافت عباسیہ نے اپنا قبضہ پکا کر لیا تو خاندان اموی کے افراد کا چن چن کے قتل عام شروع کر دیا، عبد الرحمان الداخل ، آخری اموی بادشاہ ہشام کا پوتا تھا، جو بھاگ نکلا، عبد الرحمان الداخل نے اپنی بہترین سپہ سالار اعظم کی حیثیت سے خود کو منوا لیا اور بے حد مصیبتوں کے بعد اندلس کی سلطنت کا مالک بن گیا ،

مدت خلافت

ترمیم

امویوں نے اندلس کی سر زمین پر 284 برس حکومت کی[1]، اندلس میں اس طرح کا شاندار اور بے حد کامیاب دور پھر کبھی نصیب نہیں ہوا، اس دور میں امویوں نے بے شمار فتوحات اور اصلاحات کی۔

عبد الرحمن کا طویل دور حکومت عرب اور بربر باشندوں کی بغاوتوں کیخلاف جدوجہد کرتے گذرا جن کی اکثریت آزادی چاہتی تھی۔ 763ء میں عبد الرحمن نے اپنے دار الحکومت کے قریب بھی ان باغیوں سے جنگ لڑی جو عباسیوں کی حمایت کر رہے تھی۔ اس نے فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ آخری سالوں میں عبد الرحمن نے کئی محلاتی سازشوں کو بھی کچلا۔ اس نے فن تعمیر کے نادر شاہکار مسجد قرطبہ کی بنیاد رکھی جس کی تعمیر اس کے بیٹے اور جانشیں ہشام اول کے دور میں بھی جاری رہی۔ اس نے جس حکومت کو قائم کیا وہ 1031ء تک ہسپانیہ پر حکومت کرتی رہی۔[2]

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. مسلم سائنسدان 
  2. استشهاد فارغ (معاونت)