شاہ محمد یحیی سرہندی شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی کے فرزند ارجمند تھے۔

ولادتترميم

شاہ محمد یحیی کی ولادت 1024ھ بمطابق 1615ء میں مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کے گھر سرہند شریف میں ہوئی۔ آپ کی ولادت کے وقت مجدد الف ثانی پر اس آیت کریمہ کا الہام ہوا۔ ترجمہ : ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں، اس کا نام یحیی ہے۔ مجدد الف ثانی نے اس اشارہ پر آپ کا نام یحیی رکھا۔

لقبترميم

صاحب روضتہ القیومیہ کی ایک روایت کے مطابق شیخ محمد یحیی کا لقب شاہ جیو تھا۔ آپ کے بچپن میں ایک روز حضرت شاہ کمال کیتھلی کے پوتے شاہ سکندر مجدد الف ثانی کے ہاں آئے اور انہوں نے حضرت مجدد سے درخواست کی کہ اپنا ایک صاحبزادہ مجھے عنایت فرمائیں۔ اتفاقا محمد یحیی موجود تھے۔ مجدد الف ثانی نے فرمایا: اسی کو لے لو۔ شاہ سکندر کیتھلی نے اپنی نسبت آپ کو القا کیا اور فرمایا: انہیں شاہ کے نام سے پکارا جائے۔ پسں اسی روز سے آپ کا لقب شاہ جیو ہوگیا۔

تعلیمترميم

شیخ محمد یحیی بچپن ہی سے بڑی اعلی استعداد کے حامل تھے۔ اپنے والد بزرگوار مجدد الف ثانی کی تعلیم وتربیت سے فیض یاب ہوئے۔ آپ نے آٹھ نو برس کی عمر میں حفظ قرآن کی سعادت سے بہرہ ور ہو گئے۔ بچپن کے زمانے میں تحصیل علم میں کامل استغراق اور محوریت حاصل تھی۔ آپ نے موطا امام مالک شیخ عبد الحق محدث دہلوی سے پڑھی۔ آپ کی نسبت رابطہ شروع ہی سے بڑی مضبوط و قوی تھی۔ ایک مرتبہ حضرت مجدد الف ثانی اجمیر شریف کے سفر سے واپس تشریف لائے تو خدام سرہند شریف دو تین منزل دور آپ کے استقبال کے لیے گئے۔ شاہ محمد یحیی بھی ان خدام کے ہمراہ تھے۔ آپ کو معلوم ہوا کہ والد بزرگوار کسی وجہ سے اس جگہ سے تین چار روز کے بعد سرہند شریف تشریف لے جائیں گے۔ اس پر آپ نے اپنے والد بزرگوار مجدد الف ثانی سے اجازت طلب کی کہ مجھے سرہند شریف جانے دیا جائے۔ اس پر مجدد الف ثانی نے فرمایا : اتنی جلدی رخصت لینے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ نے عرض کیا: میرے سبق میں ناغہ ہوتا ہے اور میرے ہم سبق مجھ سے آگے نکل جائیں گے۔ یہ سن کر حضرت مجدد الف ثانی نے مسرت کا اظہار فرمایا اور ارشاد فرمایا:”ایسی طبیعت کیوں نہ ہو، جبکہ یہ علماء کے طبقہ اور حقاظ و صلحاء کے خاندان میں سے ہیں۔ پھر والد بزرگوار نے شاباش دے کر آپ کو سرہند شریف چلے جانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔

والد کی محبت و شفقتترميم

شیخ محمد یحیی کے والد بزرگوار مجدد الف ثانی آپ پر بہت ہی زیادہ مہربان تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ محمد یحیی کی استعداد بہت بلند ہے۔ اجمیر شریف میں قیام کے دنوں میں ایک روز حضرت مجدد نے ارشاد فرمایا: میں محمد یحیی کو ان کے بھائیوں جیسا بنانا چاہتا ہوں لیکن کیا کروں ایک تو ان کی عمر چھوٹی ہے، دوسرے اب میری زندگی میں تھوڑے دن باقی رہ گئے ہیں۔ یہ ارشاد فرماتے ہوئے مجدد الف ثانی کی آنکھوں میں آنسو پھوٹ پڑے۔

تکمیل علوم ظاہری و باطنیترميم

شیخ محمد یحیی ظاہری علوم میں ید بیضا رکھتے تھے۔ والد بزرگوار مجدد الف ثانی کے وصال کے بعد آپ نے اپنے بڑے بھائیوں کی تربیت میں تمام عقلی و نقلی علوم کی تحصیل سے فراغت پائی۔ آپ نے اپنے بھائی حضرت خواجہ محمد معصوم کی خدمت میں رہ کر ظاہری علوم بھی انتہائی درجے تک حاصل کیے اور ان کی خدمت میں ہی باطنی سلوک بھی مکمل کیا۔ وہ آپ کی بے حد رعایت فرماتے تھے۔ انہوں نے حضرت مجدد بیان کے تمام خصائص کی بشارتیں عنایت فرمائیں۔

درس و تدریسترميم

شیخ محمد یحیی پندرہ برس کی عمر میں درس و تدریس اور علوم کی نشر و اشاعت میں مشغول ہوئے۔ آپ نہایت پایبندی، کامل توجہ اور استحضار کے ساتھ یہ خدمات سرانجام دیتے رہے۔

زہد و تقویترميم

شیخ محمد یحیی سرہندی شریعت و طریقت کے بڑے پکے پابند تھے۔ آپ کی پیشانی پر نجابت اور روحانی نسبت کی وراثت کے آثار نمایاں تھے۔ آپ ہمیشہ زہد و تقوی، آزادی و تعلقی، ضبط اوقات، سنت مطہرہ کی اتباع کی پابندی اور طریقہ عالیہ نقشبند یہ مجددیہ کی رعایت کرنے میں پوری طرح مستعد و قائم رہتے تھے۔

حج بیت اللهترميم

شیخ محمد یحیی کو حج بیت اللہ شریف کی سعادت نصیب ہوئی۔ پہلی بار 1067ھ بمطابق 1658ء میں اپنے بھائیوں کے ہمراہ حج بیت اللہ شریف اور زیارت حرمین شریفین کے لیے حجاز مقدس تشریف لے گئے۔ اس دوران آپ کو حج کی سعادت حاصل ہوئی۔ دوسری بار بھی آپ کو حج کی سعادت ارزانی ہوئی۔

وصالترميم

شیخ محمد یحیی کا وصال 27 جمادی الثانی 1096 بمطابق 31 مئی 1685ء میں سرہند شریف میں ہوا۔ آپ کا مزار والد بزرگوار کے مزار کے مغرب کی طرف ہے۔ آپ کے مزار پر الگ سے گنبد تعمیر کیا گیا ہے۔

اولادترميم

شیخ محمد یحیی سرہندی کی اولاد میں تین صاحبزادے اور ایک صازحبزادی تھی۔ بیٹوں کے نام درج ذیل ہیں۔

  1. شیخ ضیاء الدین سرہندی
  2. شیخ شاہ احمد سرہندی
  3. شیخ زین العابدین سرہندی [1]

حوالہ جاتترميم

  1. تاریخ و تذکرہ خانقاہ سرھند شریف مولف محمد نذیر رانجھا صفحہ 429 تا 432