مرکزی مینیو کھولیں

مجدد الف ثانی

گیارہویں صدی ھجری کے مجدد
(احمد سرہندی سے رجوع مکرر)
امام ربانی

شیخ احمد الفاروقی السرہندی

Sirhindi1.png 

معلومات شخصیت
پیدائش 26 جون 1564  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سرہند-فتح گڑھ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات منگل 28 صفر 1034ھ/ 10 دسمبر 1624ء

(عمر: 60 سال 6 ماہ 14 دن شمسی)
روضہ شریف، نزد بستی پٹھاناں، گردوارہ فتح گڑھ صاحب سے مشرقی جانب۔ موجودہ سرہند-فتح گڑھ، ضلع فتح گڑھ صاحب، پنجاب، بھارت

اولاد خواجہ محمد معصوم  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ امام، الٰہیات دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل شریعت، اسلامی فلسفہ  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر الغزالی، محمد الباقی باللہ
P islam.svg باب اسلام

شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی (مکمل نام:شیخ احمد سر ہندی ابن شیخ عبد الا حد فاروقی) (پیدائش: 26 جون 1564ء— وفات: 10 دسمبر 1624ء) دسویں صدی ہجریکے نہایت ہی مشہور عالم و صوفی تھے۔ جو مجدد الف ثانی اور قیوم اول سے معروف ہیں۔[1] آپ کے مشہور خلیفہ سید آدم بنوری ہیں.

زندگیترميم

آپ کی ولادت جمعۃ المبارک 14 شوال971 ھ (یہی خواجہ باقی باللہ کا سال ولادت ہے عجیب اتصال روحانی)بمطابق 26 مئی 1564ء کو نصف شب کے بعد سرہند شریف ہندوستان میں ہوئی۔[2] آپ کے والد شیخ عبد الاحد ایک ممتاز عالم دین تھے اور صوفی تھے۔ صغر سنی میں ہی قرآن حفظ کر کے اپنے والد سے علوم متداولہ حاصل کیے پھر سیالکوٹ جا کر مولانا کمال الدیّن کشمیری سے معقولات کی تکمیل کی اور اکابر محدثّین سے فن حدیث حاصل کیا۔ آپ سترہ سال کی عمر میں تمام مراحل تعلیم سے فارغ ہو کر درس و تدریس میں مشغول ہو گئے۔ تصوف میں سلسلہ چشتیہ کی تعلیم اپنے والد سے پائی، سلسلہ قادریہ کی شیخ سکندر کیتھلی اور سلسلہ نقشبندیہ کی تعلیم دہلی جاکر خواجہ باقی باللہ سے حاصل کی۔ 1599ء میں آپ نے خواجہ باقی باللہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ آپ کے علم و بزرگی کی شہرت اس قدر پھیلی کہ روم، شام، ماوراء النہر اور افغانستان وغیرہ تمام عالم اسلام کے مشائخ علما اور ارادتمند آکر آپ سے مستفید و مستفیض ہوتے۔ یہاں تک کہ وہ ’’مجدد الف ثانی ‘‘ کے خطاب سے یاد کیے جانے لگے۔ یہ خطاب سب سے پہلے آپ کے لیے ’’عبدالحکیم سیالکوٹی‘‘ نے استعمال کیا۔ طریقت کے ساتھ وہ شریعت کے بھی سخت پابند تھے۔ آپ کو مرشد کی وفات (نومبر 1603ء) کے بعد سلسلہ نقشبندیہ کی سربراہی کا شرف حاصل ہوا اور آخری عمر تک دعوت وارشاد سے متعلق رہے سرہند میں بروز سہ شنبہ 28 صفرالمظفر 1034؁ھ بعمر 62 سال اور کچھ ماہ وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے۔[3]

مجدد کا لقبترميم

بعض روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر ہزار سال کے بعد تجدید دین کے لیے اللہ تعالیٰ ایک مجددمبعوث فرماتا ہے۔ چنانچہ علما کا اتفاق ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بعد دوسرے ہزار سال کے مجدد آپ ہی ہیں اسی لیے آپ کو مجدد الف ثانی کہتے ہیں۔

دیگر القاباتترميم

بارگاہ فلک رفعت،آرام گاہ عالی مرتبت،دربار گوہر بار،مزار پر انوار،اعلیٰ عظیم البرکت،قیوم ملت،خزینۃ الرحمۃ،محدث رحمانی،غوث صمدانی،امام ربانی،المجدد المنور الف ثانی، ابو البرکات شیخ بد ر الدین احمد فاروقی،نقشبندی،سرہندی۔[4]

شریعت کی پابندیترميم

مجدد الف ثانی مطلقاً تصوف کے مخالف نہیں تھے۔ آپ نے ایسے تصوف کی مخالفت کی جو شریعت کے تابع نہ ہو۔ قرآن و سنت کی پیروی اور ارکان اسلام پر عمل ہی آپ کے نزدیک کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ آپ کے مرشد خواجہ رضی الدین محمد باقی با اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے ہندوستان میں تصوف کا نقشبندی سلسلہ متعارف کرایا اور آپ نے اس سلسلہ کو ترقی دی۔

بدعات کا ردترميم

مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے دور میں بہت سی ہندوانہ رسوم و رواج اور عقائد اسلام میں شامل ہو گئے تھے۔ اسلام کا تشخص ختم ہو چکا تھا اور اسلام اور ہندومت میں فرق کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق دین میں ہر نئی بات بدعت ہے اور بدعت گمراہی ہے۔ آپ اپنے ایک مکتوب میں بدعات کی شدید مخالفت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

لوگوں نے کہا ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں: بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ۔ بدعت دافع سنت ہے، اس فقیر کو ان بدعات میں سے کسی بدعت میں حسن و نورانیت نظر نہیں آتی اور سوائے ظلمت اور کدورت کے کچھ محسوس نہیں ہوتا۔

قید و بند کی صعوبتترميم

مجدد الف ثانی کو اپنے مشن کی تکمیل کے لیے دور ابتلا سے بھی گزرنا پڑا۔ بعض امرا نے مغل بادشاہ جہانگیر کو آپ کے خلاف بھڑکایا اور یقین دلایا کہ آپ باغی ہیں اور اس کی نشانی یہ بتائی کہ آپ بادشاہ کو تعظیمی سجدہ کرنے کے قائل نہیں ہیں، چنانچہ آپ کو دربار میں طلب کیا جائے۔ جہانگیر نے مجدد الف ثانی کو دربار میں طلب کر لیا۔ آپ نے بادشاہ کو تعظیمی سجدہ نہ کیا۔ جب بادشاہ نے وجہ پوچھی تو آپ نے کہا:

سجدہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے جائز نہیں ہے۔ یہ اللہ کا حق ہے جو اس کے کسی بندے کو نہیں دیا جا سکتا۔

بادشاہ نے ہر ممکن کوشش کی کہ شیخ جھک جائیں لیکن مجدد الف ثانی اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ بعض امرا نے بادشاہ کو آپ کے قتل کا مشورہ دیا۔ غیر معمولی اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تو نہ ہو سکا البتہ آپ کو گوالیار کے قلعے میں نظر بند کر دیا گیا۔ آپ نے قلعے کے اندر ہی تبلیغ شروع کر دی اور وہاں کئی غیر مسلم مسلمان ہو گئے۔ قلعہ میں متعین فوج میں بھی آپ کو کافی اثر و رسوخ حاصل ہو گیا۔ بالآخر جہانگیر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور آپ کو رہا کر دیا۔ رہائی کے بعد جہانگیر نے آپ کو اپنے لشکر کے ساتھ ہی رکھا۔

انتقالترميم

ایک دن بیماری کے دوران میں فرمایا:

  • آج ملاوی کنت سون سکھی سب جگ دیواں ہار (ترجمہ:آج دوست کا روز وصال ہے اے محبوب میں تمام دنیا کو اس نعمت پر قربان کرتا ہوں)۔ بروز منگل 28 صفر 1034ھ مطابق 10 دسمبر 1624ء کو وصال فرمایا اورسر ہند میں طلوع ہونے والا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ آپ کامزار پرانوار سرہند شریف (انڈیا)میں مرکزِ انوار وتجلیات ہے۔[5][6]

اولاد و امجادترميم

مجدد الف ثانی کے سات صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں تھیں جن کے نام یوں ہیں:

صاحبزادگانترميم

  1. خواجہ محمد صادق
  2. خواجہ محمد سعید
  3. خواجہ محمد معصوم
  4. خواجہ محمد فرخ
  5. خواجہ محمد عیسیٰ
  6. خواجہ محمد اشرف
  7. خواجہ محمد یحیی

صاحبزادیاںترميم

  • بی بی رقیہ بانو
  • بی بی خدیجہ بانو
  • بی بی ام کلثوم

سلسلہ شیوخترميم

سلسلہ قادریہترميم

سلسلہ نقشبندیہترميم

خلفاءترميم

بے شمار سالکین نے شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی سے بیعت و خلافت کا شرف حاصل کیا۔ منقول ہے کہ آپ کے مریدوں کی تعداد نو لاکھ کے قریب تھی اور تقریبا پانچ ہزارخوش نصیب حضرات کو آپ سے اجازت و خلافت کا شرف حاصل ہوا۔ آپ چند خلفا کے نام درج ذیل ہیں۔

  1. الحاج خضر خان افغان بہلول پوری (متوفی 1035ھ/1625ء)
  2. الحاج محمد فرگنی
  3. حاجی حسین
  4. حافظ محمود لاہوری
  5. خواجہ ہاشم برہانپوری (متوفی 1054ھ/1644ء)
  6. خواجہ محمد سعید (بسر) (متوفی 1070ھ/1660ء)
  7. خواجہ شاه محمد یحیی (بسر) (متوفی 1096ھ/1685ء)
  8. خواجہ محمد صادق (بسر) (متوفی 1025ھ/1616ء)
  9. خواجہ محمد صدیق کشمی دہلوی (متوفی 1051ھ/1642ء)
  10. خواجہ عبدالله خورد (متوفی 1075ھ/1665))
  11. خواجہ عبیداللہ کلاں (متوفی 1074ھ/1664ء)
  12. خواجہ محمد معصوم (بسر) (متوفی 1079ھ/1668ء)
  13. خواجہ محمد فرخ (بسر) (متوفی 1025ھ/1616ء)
  14. سید باقر سارنگ پوری
  15. سید حسین مانک پوری
  16. سید مبارک شاہ بخاری
  17. سید محب اللہ مانک پوری (متوفی 1058ھ/1648ء)
  18. شیخ آدم بنوری (متوفی 1054ھ/1644ء)
  19. شیخ احمد استنبولی حنفی فقیہ یمنی شافعی
  20. شیخ احمد دیبنی (دیو بندی)
  21. شیخ بدیع الدین سہارنپوری (متوفی 1042ھ/1633ء)
  22. شیخ حامد بہاری
  23. شیخ حسن برکی (متوفی 1046ھ/1637ء)
  24. شیخ حمید بنگالی (متوفی 1050ھ/1642ء)
  25. شیخ داؤد سانکی
  26. شیخ زین العابدین
  27. شیخ سلیم بنوری
  28. شیخ طاہر بدخشی (متوفی 1047ھ/1637ء)
  29. شیخ طاہر لاہوری (متوفی 1047ھ/1637ء)
  30. شیخ عبد الہادی فاروقی بدایونی (متوفی 1041ھ/1629ء)
  31. شیخ عبد الحی حصاری (متوفی 1070ھ/1660ء)
  32. شیخ عبد الرحیم برکی
  33. شیخ عبد العزیز نحوی مغربی مالکی یا حنبلی
  34. شیخ عبد القادر انبالوی
  35. شیخ علی المحقق مالکی مدنی
  36. شیخ علی طبری شافعی مالکی
  37. شیخ عیسی مغربی محدث
  38. شیخ فضل الله برہانپوری
  39. شیخ کریم الدین بابا حسن ابدالی (متوفی 1050ھ/1640ء)
  40. شیخ محمد مدنی
  41. شیخ محمد مری
  42. شیخ مزمل پورپی (متوفی 1026ھ/1617ء)
  43. شیخ نور محمد پٹنی
  44. شیخ نور محمد بہاری
  45. شیخ یوسف برکی (متوفی 1034ھ/1624ء)
  46. شیخ یوسف برکی
  47. عثمان یمنی شافعی
  48. قاضی تولک بخاری
  49. مرشد میر زمان بیگ
  50. مولانا احمد برکی (متوفی 1026ھ/1617ء)
  51. مولانا امان اللہ لاہوری (متوفی 1031ھ/1622ء)
  52. مولانا بدرالدین سرہندی
  53. مولانا حسن بخاری
  54. مولانا حمید الدین احمد آبادی
  55. مولانا صادق کابلی (متوفی 1018ھ/1609ء)
  56. مولانا صفر احمد رومی حنفی
  57. مولانا عبد الغفور سمرقندی
  58. مولانا عبد الواحد لاہوری
  59. مولانا غازی نو گجراتی
  60. مولانا فرخ حسین ہروی (متوفی 1068ھ/1657ء)
  61. مولانا قاسم علی
  62. صوفی قربان قدیم
  63. صوفی قربان جدید ارکنجی
  64. مولانا محمد ہاشم (خادم )
  65. مولانا محمد صالح کولابی (متوفی 1038ھ/1628ء)
  66. مولانا محمد یوسف سمرقندی (متوفی 1024ھ/1613)
  67. مولانا یار محمد جدید بخشی طالقانی
  68. مولانا یار محمد قدیم بخشی طالقانی (متوفی 1046ھ/1637ء)
  69. میر محمد نعمان اکبرآبادی (متوفی 1058ھ/1648ء) [7]

بيرونی روابطترميم

حوالہ جاتترميم

  1. مختصر تذکرہ
  2. جہان امام ربانی،اقلیم اول،ص 328،امام ربانی فاؤنڈیشن،کراچی
  3. مجدد الف ثانی ص: 233، بحوالہ زبدۃالمقامات وحضرات القدس
  4. جہان امام ربانی،اقلیم اول،ص 389،امام ربانی فاؤنڈیشن،کراچی
  5. سیرت مجدد الف ثانی، ص262
  6. انتقالِ پرملال
  7. تاریخ و تذکرہ خانقاہ سرھند شریف مولف محمد نذیر رانجھا صفحہ 435 تا 438