داودی بوہرہ اسماعیلی فرقے کے مستعلیہ گروہ کی بھارتی اور پاکستانی شاخ جو ہندو سے مسلمان ہوئی۔
بوہرہ گجراتی لفظ دوہروں کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس کے معنی تاجر کے ہیں۔ مغربی ہند میں ہندو بوہرے بھی ہیں اور سنی بوہرے بھی۔ بالعموم یہ بیوپاری ہیں اور شہروں میں رہتے ہیں۔ افریقا اور الجزائر میں بھی تجارت کرتے ہیں اور عرب و مسقط میں پھیلے ہوئے ہیں۔
احمد، عبد اللہ وغیرہ ان کے مشہور رہنما داعی مطلق تھے۔ جن کے مزارات قدیم شہر کھنبات ’’بھارت‘‘ میں ہیں۔ 151ھ تک ان کاایک ہی داعی مطلق مقرر ہوتا تھا۔ اس کے بعد ہندوستانی فرقے نے داؤد قطب شاہ کی حمایت کی اور اس لحاظ سے داؤدی بوہرہ کہلانے لگے۔
یمن والوں نے سلمان بن حسن کو اپنا داعی مطلق تسلیم کیا۔ وہ سلیمانی بوہرہ کہلائے۔ اس طرح ان کے دو فرقے ہو گئے۔ یمن مین سلیمانیوں کی اکثریت ہے اور پاکستان و بھارت میں داؤدیوں کی۔
گجرات کی اسلامی سلطنت کے زمانے میں ان میں سے بعض سنی ہو گئے جو صغیری بوہرہ کہلائے۔ ان لوگوں کے مذہبی رہنما۔ ’’ملا جی‘‘ کہلاتے ہیں۔ بوہروں کا لباس عام طور پر عمامہ اور لمبی اچکن ہوتاہے۔

عقائد

ترمیم

داؤدی بوہرہ اہل تشیع کی اسماعیلی شاخ کا ایک ذیلی فرقہ ہے۔ شیعہ حضرا ت بارہ امام کو مانتے ہیں جبکہ بوہری فرقے کے لوگ امام جعفر صادق کے بعد کسی بھی امام کو نہیں مانتے وہاں سے ان کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے ۔ ایک عرصہ قبل بوہریوں میں چھر یوں اور زنجیروں سے ماتم ہوتا تھا مگر بعد میں بوہریوں کے موجودہ پیر بر ھان الدین نے چھر یوں اور زنجیروں سے ماتم کرنے سے منع کر دیا اُس نے اپنے مریدین سے صرف ہاتھ سے ماتم کرنے کا حکم جاری کیالہٰذا وہ اب ہاتھ سے ماتم کرتے ہیں ۔

مزید دیکھیے

ترمیم

بوہرہ مستعلیہ