سید احمد شاہ المعروف استاد بخاری (پیدائش: 16 جنوری، 1930ء - وفات: 9 اکتوبر، 1992ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان کے مشہور و معروف شاعر اور پروفیسر تھے۔ ان کی شاعری کو بہت سے گلوکاروں نے گایا ہے۔ انھیں بے پناہ عوامی مقبولیت ملی۔ ادبی خدمات پر حکومت پاکستان کی جانب سے 2009ء میں انھیں صدارتی تمغابرائے حسن کارکردگی دیا گیا۔[1][2][3][4][5][6][7] استاد بخاری نے سندھی شاعری میں انمٹ نقوش چھوڑے۔ انھوں نے اپنے شاعرانہ اسلوب، رومانویت اور ندرت خیال سے نئی نسل کے شعرا کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کیا۔

استاد بخاری
معلومات شخصیت
پیدائش 16 جنوری 1930ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دادو ،  سندھ ،  بمبئی پریزیڈنسی   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 9 اکتوبر 1996ء (66 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی ،  پاکستان   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات سرطان   ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت   ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت برطانوی ہند
پاکستان   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ سندھ   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد ایم اے   ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر ،  معلم   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان سندھی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
بلاگ http://ustadbukhari.blogspot.com  ویکی ڈیٹا پر (P1581) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
باب ادب

شجرہ

ترمیم

استاد بخاری کا شجرہ یا حسب نسب 19 ویں نسب یا نسل میں اچ شریف کے جلال الدین شیر شاہ سرخ پوش بخاری سے ملتا ہے۔ استاد بخاری کا شجرہ سید جلال الدین سرخ پوش بخاری کے بیٹے بہاؤ الدین بخاری سے شروع ہوتا ہے۔

حالات زندگی

ترمیم

استاد بخاری 16 جنوری 1930ء کو گاؤں غلام چانڈیو ضلع دادو، برطانوی ہندوستان میں ایک غریب سید گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بزرگوار کے ذریعۂ معاش کا انحصار مریدوں کے خراج پر تھا۔ استاد بخاری بڑے ہو کر پیری مریدی کا سلسلہ ختم کر لیا اور تعلیم پر دھیان دیا۔ وہ پہلے پرائمری استاد بنے پھر پروفیسر بنے، 1980ء کے بعد گاؤں چھوڑ کر دادو شہر میں سکونت اختیار کی۔ عرصہ دراز سے کینسر میں مبتلا رہے اور 9 اکتوبر 1992ء کی رات کو کراچی میں وفات پائی۔[6]

تعلیم

ترمیم

استاد بخاری نے پرائمری تعلیم گاؤں غلام چانڈیو میں 1941ء کو مکمل کی۔ سندھی فائنل (7 درجے تک) تک تعلیم دادو سے 1943 میں حاصل کی۔ حالات کی گردشوں میں تعلیم حاصل کرنا چھوڑ دی۔ پھر جب پرائمری استاد بنے تو تعلیم کی طرف توجہ دی۔ سندھ یونیورسٹی سے 1964ء میں بی اے اور 1967ء میں ایم اے (سندھی ادب) میں پاس کیا۔ 1967ء میں سندھ پبلک سروس کمیشن کی سفارش پرسانگھڑ شہر میں لیکچرار مقرر ہوئے۔ وہ بطور لیکچرار نواب شاہ میں بھی رہے۔ 1971ء میں ان کا تبادلہ دادو ڈگری کالج میں ہوا۔ وہیں بطور پروفیسر ترقی پائی، 1990ء میں سروس سے رٹائر ہوئے۔ 1995ء میں استاد بخاری کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ڈگری کالج دادو کا نام بدل کر استاد بخاری کے نام پر رکھ دیا گیا۔[8]<[3][6][7]

حوالہ جات

ترمیم
  1. Pride of Performance Awards (2000–09) - Wikipedia
  2. KARACHI: Karachiites observe Pakistan Day in festive mood amid peace - DAWN.COM
  3. ^ ا ب Ustad Bukhari - Wikipedia
  4. "23rd death anniversary of Ustad Bukhari on Oct 09 - The Sindh Times"۔ 24 فروری 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2017 
  5. "24th death anniversary of Ustad Bukhari observed - Daily Times"۔ 19 اکتوبر 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2017 
  6. ^ ا ب پ http://www.encyclopediasindhiana.org/article.php?Dflt=استاد%20بخاري
  7. ^ ا ب استاد بخاري - وڪيپيڊيا
  8. "Sind govt should provide free education to children: Pir Mazhar - Daily Times"۔ 02 جون 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2017