روحانیت کے موضوع پر یہ کتاب عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشانِ اسلام کے سرپرست و بانی ریاض احمد گوھر شاہی کی تحریر کردہ آخری کتاب ہے۔[1] یہ کتاب 25 نومبر، 2000ء میں اُس وقت لکھی گئی تھی، جب ریاض احمد گوھر شاہی امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں قیام پزیر تھے۔ اس کتاب کا پہلی اشاعت آل فیتھ اسپریچوئل موومنٹ کے زیر اہتمام امریکا میں ہوئی۔ یہ کتاب اردو میں لکھی گئی تھی، تاہم اب تک اس کتاب کے ترجمے سندھی، انگریزی، فرینچ، ڈچ، اسپینش، ہندی، گجراتی سمیت کئی زبانوں میں ہوچکے ہیں۔
کتاب انسان کی باطنی صلاحیتوں اور طاقتوں اور ان روحانی قوتوں کی بنا پر انسان کے اشرف المخلوقات ہونے پر اور انسان کے مقامات کا تذکرہ کرتی ہے جو راہِ حق میں چلنے والے سالک کے ہوتے ہیں۔ مصنف دنیا میں انسان کی بنیاد سے لے کر آج تک کے انسانوں کا جائزہ اس کتاب میں پیش کرتا ہے۔ پھر انسان کے باطن یعنی اندرکی طاقتوں اور قوتوں اور اُن قوتوں کو جگانے کا طریقہ بھی بتایا ہے۔
کتاب میں اللہ کی پہچان اور رسائی کے لیے اللہ سے محبت کرنے پر زور دیا گیا ہے اور اللہ سے محبت ہی کو اصل دین کہا گیا ہے کیونکہ یہ وہ راستہ ہے کہ جس پر چل پر بندہ رب تک پہنچتا ہے اور رب کی محبت اس راستے کا وسیلہ بن جاتی ہے۔

دینِ الٰہی
مصنفریاض احمدگوھرشاہی
موضوعتصوف، روحانیت، باطن
صنفروحانیات
ناشردفتری روئے خط

اس کتاب میں روحانیت اور انسانی کا تذکرہ اتنی صراحت کے ساتھ کیا گیا ہے کہ اس کتاب کو صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلموں میں بھی بڑی پزیرائی ملی، پاکستان میں اس کتاب کے متعلق سب سے پہلے لکھنے والے ایک غیر مسلم اردشیر کاؤس جی تھے، جو روزنامہ ڈان سے وابستہ ہیں۔
تاہم حکومت پاکستان نے اس کتاب پر پاکستان میں پابندی لگا دی، جس کے خلاف مقدمہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیرِ سماعت ہے۔[2]

مزید دیکھیےترميم

بیرونی روابطترميم

حوالہ جاتترميم

  1. "چاند والا آدمی" تحریر “اُردشیرکاؤس جی روزنامہ ڈان انٹرنیٹ ایڈیشن (انگریزی) “
  2. گوھر شاہی کی کتاب پر پابندی کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں مقدمہ کی سماعت