راکھ (جلی ہوئی لکڑی)

راکھ (انگریزی: Ash) سے مراد وہ شے کسی چیز، خاص طور پر لکڑی کے جلنے سے برادے کی شکل میں حاصل ہو۔ حالاںکہ آگ کی نسبت عمومًا لکڑی سے کی جاتی ہے، مگر کسی بھی چیز کے خاکستر ہونے سے وہ راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ کئی بار گھروں کے آتش زدہ ہونے کے بعد وہ راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوتے ہیں۔ اسی طرح کپڑے اور گھر کے دوسرے سامان کا حال ہو سکتا ہے۔

2014ء میں مقام پر آتش زدگی کے بعد ایک آدمی وہاں سے نکلی راکھ پر جھاڑو دے رہا ہے۔

کچھ مذاہب میں انسانی جسموں کو دفن نہیں بلکہ سپرد آتش یا جلایا جاتا ہے۔ اس طرح سے فانی انسان کے جسم کو راکھ میں تبدیل ہونا پڑتا ہے۔ یہ طریقہ بہ طور خاص ہندو مت، بدھ مت، جین مت، وغیرہ میں رائج ہے۔ اکثر ملحد لوگ بھی اسی طریقے کو اپناتے ہیں۔ کیوبا کے سابق صدر فیڈل کاسٹرو کو بھی سپرد آتش کیا گیا تھا۔ سابقًا سپرد آتش لکڑیوں کے جلانے سے ہوتا تھا۔ تاہم جدید طور پر برقی بھٹی یا کریمیٹوریم کا طریقہ رائج ہے، جس میں انسانی جسم کو ڈال برقی طور پر جلا دیا جاتا ہے۔

راکھ کا روز مرہ کی زندگی میں کثرت سے دیگر استعمال بھی ہوتا ہے۔ اس میں کئی بار برتن کے دھونے کے لیے بھی ہوتا ہے، جس کے لیے لکڑی کی راکھ کا استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح سے لکڑی کے چولہے میں پہلے سے بھی راکھ کو رکھا جاتا ہے تاکہ آگے آگ لگائی جا سکتی ہے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم