رہن کا معنی ہے : گروی رکھنا‘ اس کی جمع رہان ہے

اصطلاحی معنی

ترمیم

اصطلاح شرع میں اس کا معنی ہے :۔ دوسرے کے مال کو اپنے حق میں اس لیے روکنا‘ کہ اس کے ذریعہ سے اپنے حق کو کل یا جزء وصول کرنا ممکن ہو‘ رہن میں رکھی ہوئی چیز کو مرہون‘ رہن رکھنے والے کو راہن اور جس کے پاس کوئی چیز رہن رکھی جائے اس کو مرتہن کہتے ہیں‘ عقد رہن بالاجماع جائز ہے۔[1] لغت میں رَھْنٌ کا معنی ہے کسی چیز کو روک لینا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کُلُّ نفس بِمَا کَسَبَتْ رَھِیْنَۃٌ ہر شخص اپنے اعمال سے وابستہ ہے۔ اصطلاح شریعت میں ایسی چیز کو کہتے ہیں جس کو کوئی شخص اپنے حق کے عوض (جائز طور پر) روک لے تاکہ اس سے اپنا حق و صول کرسکے۔ چونکہ روک لینا لغوی معنی ہے اور شرعی معنی میں لغوی معنی ملحوظ رہتے ہیں۔ اس لیے عقد رہن ایک عقد لازم ہے۔ گرو ی کرنے والا جب تک گروی رکھنے والے کے ایک درہم کا بھی قرض دار رہے گا اپنی چیز واپس لینے کا مستحق نہیں ہوگا۔ چونکہ ایسا ہوتا ہی ہے کہ کاتب نہ ملنے کی صورت میں اعتماد کے لیے کوئی چیز رہن رکھ دی جاتی ہے اس لیے شرط کا مفہوم ان لوگوں کے نزدیک بھی اس جگہ معتبر نہیں جو مفہوم کو معتبر قرار دیتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ انتفاء شرط کے وقت انتفاء حکم ہوجاتا ہے) لہٰذا بالاجماع شہروں کے اندر قیام کی حالت میں جہاں کاتب بھی موجود ہوں رہن رکھنا جائز ہے۔ ہاں مجاہد اور داؤد کا قول ہے کہ رہن رکھنا صرف سفر کی حالت میں جب کہ کاتب نہ مل سکے جائز ہے (ور نہ نا جائز ہے) ہم اپنی دلیل میں عائشہ صدیقہ کی حدیث کو پیش کرتے ہیں جو تمام کتب صحاح میں موجود ہے او رانس بن مالک کی حدیث کو بھی پیش کرتے ہیں جس کو بخاری نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے مدینہ میں اپنی زرہ ایک یہودی کے پاس بیس صاع جَو کے عوض رہن رکھی تھی یہ جَو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے گھر والوں کے صرف کے لیے (قرض) لیے تھے اور وفات اقدس تک وہ زرہ اس یہودی کے پاس رہن رہی۔[2]

حوالہ جات

ترمیم
  1. تبیان القرآن ،غلام رسول سعیدی ،البقرہ، آیت283
  2. تفسیر مظہری ،قاضی ثنا ء اللہ پانی پتی ،سورۃ البقرہ ،آیت283