کلرکہار میں دو بزرگ ہستیوں غوث الاعظم کے پوتوں کا مزار جسے موروں والی سرکار یا سخی آہو باہو کہا جاتا ہے۔

Kalar Kahar Shrine

نام و پہچان

ترمیم

یہ شیخ عبد القادر جیلانی (غوث الاعظم جیلانی) کے بیٹے عبد الرزاق کے دو بیٹوں کے مزارات ہے جن کا اصل نام محمد اسحاق المعروف نور عالم اور محمد یعقوب المعروف فیض عالم ہے اسی وجہ سے اسے زیارت غوث الاعظم بھی کہا جاتا ہے۔[1]

اس علاقے میں آمد

ترمیم

اس علاقے کے کچھ لوگ بصرہ اور موصل زیارت کے لیے گئے جب بغداد پہنچے تو شیخ عبد القادر جیلانی یا ان کے صاحبزادے عبد الرزاق سے ملاقات کی اور اپنے علاقے کے حالات بتا کر درخواست کی کہ ہمارے علاقے میں ہندو مرہٹے ہمیں تنگ کرتے ہیں اور تعلیمات اسلام اور تبلیغ دین میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ تو اس کے جواب میں سینکڑوں علما صوفیا مبلغین او مجاہدین اس علاقے کے مسلمانوں کی مدد کے لیے محمد اسحاق المعروف نور عالم اور محمد یعقوب المعروف فیض عالم سمیت اس جگہ پہنچے۔

ان کی آمد کے اثرات

ترمیم

ان مجاہدین و صوفیاء کی آمد سے اس علاقے میں مسلمان کافی مضبوط ہو گئے۔ اس علاقے کی بزرگ شخصیات بابا روڈیاں والی سرکار اور شاہ ولایت میراں کے ساتھ تبلیغ و اصلاح کا کام کافی تیز ہو گیا وہ ہندو مرہٹے جو پہلے اس علاقے میں کافی یورشیں کر چکے تھے اب ہر حملہ میں پسپا ہو جاتے بالخصوص کلر کہار پرحملہ کرنے پر ان بزرگان کی وجہ سے وہ مکمل طور پر رک گئے اور مسلمانوں نے سکھ کا سانس لیا ۔

جنگ جنگولا

ترمیم

کلر کہار کے قریب جنگولا کے مقام ایک گھمسان کی جنگ ہوئی جس میں یہ دونوں شہزادے شہید ہوئے۔

مزار اقدس

ترمیم

ان کی شہادت کے بعد اس علاقے کے لوگوں نے ایک بلند مقام موجودہ مزار پر دفن کر دیا جو بعد میں مزار کی شکل اختیار کر گیا۔

موروں کی سلامی

ترمیم

اس مزار پر مور خوبصورت پائل ڈالتے اور عوامی زبان میں طواف کرتے صبح شام دیکھے جاتے ہیں اور باوجود لوگوں کی موجودگی کے وہاں پر حاضری دیتے ہیں اسی وجہ سے انھیں موروں والی سرکار کہا جاتا ہے۔

تاریخ شہادت

ترمیم

ان بزرگوں کے مزارات پرموجود تحریرکے مطابق 566ھ ہے

مزار پر حاضری

ترمیم

تقریبا آٹھ سو سال سے یہاں پر اولیاء و صالحین اور عقیدتمند حاضری دیتے ہیں جن میں سلطان باہو کے چلہ کاٹنے کی ایک جگہ مخصوص ہے بابا فرید گنج شکر کا چشمہ بھی اس کے قریب آج تک موجود ہے اس کے علاوہ سخی شہباز قلندر ،مخدوم جہانیاں جہاں گشت، حیدر علی شاہ اور زمان شاہ کی حاضری کے ثبوت ملتے ہیں ۔[2][3]

حوالہ جات

ترمیم
  1. زیارت غوث الاعظم
  2. کتبہ لوح مزار از بابا جی وزیر محمد واسو والے1919 ءترجمہ عبد الکریم ثمر لاہور 1960ء
  3. Shrines | Chakwal Online