پرانے زمانے میں یورپ میں اکثر حکومتیں بحری ڈاکووں (یعنی قزاقوں) کی سرپرستی کیا کرتی تھیں۔ ایسے قزاقوں کو privateer کہا جاتا تھا۔ یہ حکومت کی بحری فوج (نیوی) کا حصہ نہیں ہوتے تھے مگر ان کو سرکاری اجازت نامہ دیا جاتا تھا کہ وہ دشمنوں یا اجنبیوں کے جہازوں کو لوٹ لیں اور ان کے لوگوں کو غلام بنا لیں یا ان پر تشدد کریں۔ ایسے اجازت نامے letter of marque and reprisal کہلاتے تھے۔ ایسے ڈاکو بڑے باعزت ہوتے تھے کیونکہ اس کام سے حب الوطنی بھی ظاہر ہوتی تھی اور منافع بھی بہت ملتا تھا۔ عام طور پر لوٹ کے مال کا نصف حکومت کا حصہ ہوتا تھا اور باقی نصف ڈاکو آپس میں تقسیم کر لیتے تھے۔ فرانس میں letter of marque کو lettre de course کہا جاتا تھا۔

فرانسس ڈریک اسپین کے جہاز سے ملنے والے خزانے کا جائزہ لے رہا ہے۔ اس مال غنیمت کا ایک حصہ ملکہ برطانیہ الزبتھ اول کو بھی ملا جبکہ ملکہ نے اسے جھوٹ قرار دیا۔ 1581 میں ملکہ نے ڈریک کو سر کا خطاب عطا کیا۔

اس مقصد کے لیے قزاق جو جہاز بناتے تھے وہ بڑے مضبوط اور تیز رفتار ہوتے تھے۔ ان جہازوں کا آگے کا حصہ اکثر اتنا مضبوط ہوتا تھا کہ دوسرے جہاز کو ٹکر مار کر توڑ سکے۔ چونکہ یہ خاص طور پر لڑنے کے لیے بنائے جاتے تھے اس لیے ان پر بہت ساری توپیں بھی نصب ہوتی تھیں اور دیگر اسلحے اور عملے کی بھی فراوانی ہوتی تھی۔ انھیں اپنے ملک کے جہازوں کو لوٹنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی لیکن اپنی سرحد کے باہر یہ نہ صرف دشمن کے جہازوں پر لوٹ مار کرتے تھے بلکہ اکثر ساحلی شہروں میں بھی قتل و غارتگری مچاتے تھے۔

1588 میں ڈریک کے ہاتھوں اسپین کے بحری بیڑے کی تباہی۔

امریکا

ترمیم

اپریل 1781ء میں امریکہ کی جنگ آزادی کے دوران کانگریس نے ایسے اجازت نامے جاری کیے جو سلطنت برطانیہ سے تعلق رکھنے والے جہازوں کی لوٹ مار کی اجازت دیتے تھے۔

اکیسویں صدی

ترمیم

11 ستمبر کے حملوں کے بعد امریکی کانگریس میں Marque and Reprisal Act of 2001 کا بل پیش کیا گیا جس کے تحت دہشت گردوں کو قزاقوں کے مترادف قرار دیا گیا اور بغیر جنگ چھیڑے privateer کی مدد سے انھیں تباہ کرنے کی قانون سازی تجویز کی گٰئ۔
2009ء میں صومالیہ کے بحری قزاقوں سے نمٹنے کے لیے بھی ایسی ہی قانون سازی پر غور کیا گیا۔ یہ دونوں بل منظور نہیں ہوئے۔

مزید دیکھیے

ترمیم

بیرونی ربط

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم