اسلام کے عقائد کی رو سے سلسبیل جنت کے ایک چشمے کا نام ہے جس کاذکر قرآن مجید میں ہے عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا ۔ اہل عرب کہتے ہیں ماء سلسل،سلاسل،سلسبیلا یعنی بہت کثرت سے بہنے والا پانی۔

جنت کے چشمے

ترمیم

جنت کے پانچ چشمے جن کے نام یہ ہیں:(1)کافور (2)زنجبیل (3) سلسبیل (4) رحیق (5) تسنیم۔[1] الدھر : 18 میں فرمایا : اس چشمہ کو جنت میں سلسبیل کہا جاتا ہے۔ جب رسول اللہ سے پوچھا گیا کہ جنت میں ان کا(اہل جنت) پینا کیا ہوگا فرمایا ایک چشمہ ہے جس کو سلسبیل کہا جاتا ہے [2] ایک دوسری روایت میں واقعہ معراج کے ذیل میں درج ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے وہاں چار نہریں دیکھیں، دو نہریں خفیہ طور پر اور دو ظاہر طور پر بہہ رہی تھیں۔ میں نے پوچھا: جبرائیلؑ! یہ کیا ہیں؟ کہا گیا: یہ جو ڈھکی ہوئی نہریں جاری ہیں یہ تو جنت کی نہریں ہیں ایک کوثر اور دوسری سلسبیل اور یہ جو ظاہر نہریں جا ری ہیں یہ نیل اور فرات ہیں۔

سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی ازواج سے مخاطب ہو کر فرمایا: میرے بعد جو کوئی تمھارے اوپر شفقت کرے گا وہ انتہائی سچا اور صالح ہوگا۔ یا اللہ! تو عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جنت کے سلسبیل نامی چشمے سے سیراب کرنا۔ [3]

{وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا: اور جنت میں انھیں ایسے جام پلائے جائیں گے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ جنت میں ان نیک بندوں کو پاکیزہ شراب کے ایسے جام پلائے جائیں گے جن میں زنجبیل یعنی ایسا پانی ملا ہوا ہو گا جو ذائقے میں ادرک کی طرح ہو گا اور اس کے ملنے کی وجہ سے شراب کی لذت اور زیادہ ہوجائے گی اور زنجبیل جنت میں ایک چشمہ ہے جسے جنتی فرشتے سَلسَبیل کہتے ہیں کیونکہ اس کاپانی رواں اور آسانی سے حلق میں اتر جانے والا ہے۔ یاد رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے مُقَرّب بندے خالص اسی چشمے سے پئیں گے جبکہ ان سے کم درجے والے نیک بندوں کی شرابوں میں اس چشمے کا پانی ملایا جائے گا اور یہ چشمہ عرش کے نیچے سے جنّتِ عدن سے ہوتا ہوا تمام جنتوں میں گزرتا ہے۔[4]

پھر جب قیامت کا دن ہو گا، اللہ تعالی اس آدمی سے فرمائیں گے، اس دن تو میری رحمت کے سائے میں چل، جبکہ میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں اور میری جنت کے پھلوں میں سے کھا اور حوض کوثر سے پانی پی اور نہر سلسبیل میں غسل کر تو میرا بندہ اور میں تیرا رب ہوں۔ [5]

لفظیات

ترمیم

ابن الاعرابی نے کہا :” سلسبیل “ کا لفظ صرف قرآن میں آیا ہے، عربی زبان میں یہ لفظ نہیں ہے، اس لیے یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ ” سلسبیل “ کا مادہ کیا ہے اور یہ کس لفظ سے مآخوذ ہے اور اکثر علما نے کہا ہے کہ جو مشروب میٹھا ہو اور آسانی سے حلق سے اتر جائے، اس کو مشروب ” سلسال “ یا ” سلسبیل “ کہا جاتا ہے۔ زجاج نے کہا : لغت میں ” سلسبیل “ اس چیز کی صفت ہے جو انتہائی سلاست میں ہو یعنی جو چیز انتہائی آسان اور رواں ہو، اس چشمے کا پانی سونٹھ کے چشمہ کی طرف ہوگا اور آسانی اور روانی سے حلق سے اترے گا۔[6]

حوالہ جات

ترمیم
  1. تفسیرروح البیان،البقرۃ،
  2. صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 715
  3. (مسند احمد: 27094)
  4. ( روح البیان،الانسان،تحت الآیۃ:17-18،10 / 272، خازن، الانسان، تحت الآیۃ: 17-18، 4 / 340-341، ملتقطاً)
  5. تفسیر قرطبی
  6. تفسیر تبیان القرآن۔ مولانا غلام رسول سعیدی