رحیق اسلامی عقائد کی رو سے جنت کے چشموں میں سے ایک چشمہ اور ایک شراب کا نام ہے۔
يُسْقَوْنَ مِن رَّحِيقٍ مَّخْتُومٍ رحیق کے لفظی معانی خالص شراب، صاف و شفاف شراب ہیں۔ مقاتل نے کہا ہے الرحیق : الخمر العتیقۃ البیضائ (رح) اصافیۃ من الغش النیرۃ (قرطبی) یعنی پرانی شراب جس کا رنگ سفید، جو ہر میل سے پاک اور چمک دار ہو اسے رحیق کہتے۔[1]
مقرب لوگ جو اہل جنت میں سب سے افضل ہیں چشمہ تسنیم کا خالص مشروب پیتے ہیں جو جنت میں سب سے بہتر و اشرف مشروب ہے اور ابرار یعنی اصحب الیمین کو تسنیم کا مشروب ان کی شراب رحیق میں ملاکر دیاجاتا ہے۔ رحیق اس سے کم درجے کا مشروب ہے۔[2]
ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس مسلمان نے کسی بے لباس مسلمان کو لباس پہنایا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کا سبز لباس پہنائے گا اور جس مسلمان نے کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلایا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے پھلوں سے کھلائے گا اور جس مسلمان نے کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلایا، اللہ اس کو ” رحیق مختوم “ ( مشک کے ذائقہ والی شراب) پلائے گا۔[3]
ابی بن کعب نے روایت نقل کی ہے، عرض کی گئی یارسول اللہ یہ رحیق مختوم کیا ہے؟ فرمایا، شراب کے تالاب، ایک قول یہ کیا گیا ہے برتنوں میں مہرلگی ہوگی یہ اس سے مختلف ہے جو نہروں میں چلتی ہے۔[4]

حوالہ جات

ترمیم
  1. تفسیر ضیاء القرآن پیر کرم شاہ
  2. تفسیرحقانی : ج 5 ص 290-289، تفسیرعثمانی : ج 2، ص 793-792
  3. سنن ابو داؤد حدیث نمبر: 1672
  4. تفسیر قرطبی۔ ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ابوبکر قرطبی