سلسلہ شاذلیہ تصوف کا ایک سلسلہ ہے جس کے بانی ابوالحسن شاذلی بن عبد اﷲ شریف حسینی المغربی (پیدائش591 ہجری۔ وفات656ہجری) سیدنا ابو الحسن کا نام علی بن عبد اللہ شاذلی ہے جو قریہٴ غمارہ(اسکندریہ ) میں پیدا ہوئے۔ پیدائش کا سن 591ہجری ہے اور ملک یمن کے صحرائے عیذاب میں ساحل کے قریب بمقام مخا رحلت فرمائی۔(صحرائے عیذاب وادی ہمان کے نزدیک مصر میں واقع ہے) وفات کا سن 656 ہجری ہے۔ اور شاذلہ جو جبل زعفران کے نزدیک تیونس میں واقع ہے کی نسبت سے شاذلی کہلاتے ہیں سیدنا ابو الحسن علی بن عبد اللہ الشاذلی  نسباً سادات بنی حسن سے ہیں۔ جن کا 17 واسطوں سے نسب حسن بن علی کے ساتھ ملتا ہے۔ آباواجداد کا مولد ومسکن مغربی اقصیٰ مراکش (شمالی افریقا)ہے۔ موصوف نے اوائل عمری میں تونس میں مقیم ہو کر تحصیل علم کی اور طریقت میں تونس کے شیخ المشائخ عبد السلام بن مشیش سے فیضیاب ہوئے طریقہ شاذلیہ بواسطہ جابر جعفی سیدنا امام حسن  سے ملتا ہے۔[1] سلسلہ شاذلیہ کے بنیادیں ان اصولوں پر استوار ہیں

  1. -اخلاص،
  2. -توبہ،
  3. - نیت
  4. -اتباع کتاب و سنت
  5. -خلوت
  6. -جہاد بالنفس و دشمنان دین
  7. - تربیت نفس
  8. -دنیا سے بے رغبتی
  9. -عبودیت (بندگی خدا)
  10. -طاعات (عبادات ترک نہ کرنا)
  11. -علم الیقین
  12. -ذکر (ذکر خدا قلب و زبان کے ساتھ)،
  13. -ورع (تقویٰ)
  14. -زہد (قلب کوغیر خدا سے خالی کرنا)،
  15. -توکل علی اللہ
  16. -رضائے خدا
  17. - محبت الہی۔[2]

تصوف میں سلسلہ شاذلیہ مشہور سلسلہ ہے ،جو مصر ،تیونس، ترکی ،االجزائر اور دیگر ممالک میں رائج ہے، پاکستان کے علاقہ کوہاٹ میں آباد ہیں ،

حوالہ جات

ترمیم
  1. "دعا حزب البحر"۔ 18 جولا‎ئی 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 06 اگست 2015 
  2. "شاذلیه | سایت پژوهه پژوهشکده باقرالعلوم"۔ 27 ستمبر 2011 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 06 اگست 2015