سلیم راز (29 مارچ 1939 – 17 مئی 2021) عالمی امن پشتو کانفرنس کے چیئرمین اور صدارتی ایوارڈ یافتہ پشتو ادیب، معروف ترقی پسند، انقلابی شاعر، ادیب، صحافی اور نقاد تھے۔

سلیم راز
معلومات شخصیت
پیدائش 29 مارچ 1939  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
چارسدہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 17 مئی 2021 (82 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

پیدائشترميم

سلیم راز 29 مارچ 1939ء کو ایک پولیس افسر ملک امان خان کے ہاں گاؤں ”سکڑ دوابہ “(ضلع چارسدہ ) میں پیدا ہوئے، سلیم راز کے اجداد کا تعلق ضلع بٹگرام (ہزارہ ) کے علاقہ”ٹیکری “ سے ہے اور قبیلہ یوسف زئی کے ذیلی شاخ ملکال (عثمانی )میں شمار ہوتے ہیں سات بہن بھائیوں میں وہ دوسرے نمبر پر ہیں[1]

ابتدائی حالاتترميم

ابتدائی تعلیم مشن پرائمریاسکول بنوں سے حاصل کی جہاں 1947ء میں ان کے والد ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے۔ سلیم راز گلستان اور بوستان کے علاوہ قرآن پاک ترجمہ کے ساتھ پڑھ چکے ہیں۔ بچپن میں پشتو کی لوک داستانیں اور رومانوی قصے کہانیاں بڑے شوق سے سنتے تھے پریوں کی کہانیوں میں بہت دلچسپی لیتے تھے اور خود کو کہانی کا مرکزی کردار سمجھ کر ہمیشہ پری زادوں کو دیو کے پنجے سے آزاد کرنے کی خواہش دل میں لیے ہوتے تھے، [2]

عملی زندگیترميم

سلیم راز کی ادبی سرگرمیاں اور اعزازات بے شمار ہیں، وہ پشتو عالمی کانفرنس کے بانی چئیرمین ہیں اور عالمی سطح پر دو پشتو عالمی کانفرنس کرا چکے ہیں۔ ملک گیر سطح پر پاکستانی زبانوں کی ترقی پسند تنظیم عوامی ادبی انجمن (پشتو شاخ) پختونخوا کے کنوینر ہیں، نیز وہ مسلسل بائیس سال تک انجمن مصنفین (خیبر پختونخوا) کے جنرل سیکریٹری رہے۔ اس وقت وہ عالمی پشتو جرگہ کے چئیرمین ہیں۔ انٹر نیشنل کانگریس آف رائٹرز کے بانی ممبر ہیں، اکادمی ادبیات پاکستان کے تاحیات ممبر ہیں اس کے علاوہ بے شمار ادبی تنظیموں کی بنیاد رکھی ہے اور ان کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ ان کو فارسی پر بھی عبور حاصل ہے اور اپنے وقت میں گلستان اور بوستان اور قرآن حکیم کا ترجمہ بھی پڑھا اور حج بیت اللہ کی سعادت بھی حاصل کی ہے۔ نیشنل عوامی پارٹی اور پاکستان کمیونسٹ پارٹی سے گہرا تعلق رہا۔ فیض احمد فیض، سید سبط حسن، میر غوث بخش بزنجو، خان عبدالغفار خان (باچا خان) اجمل خٹک سمیت نامور شخصیات سے صحبت رہی، امام علی نازش بھی کافی قریب رہے، روس، بھارت اور افغانستان کا مطالعاتی دورہ کر چکے ہیں۔ راز کی شاعری میں محبت بھی ہے اور نفرت بھی، ان کو انسانیت سے محبت ہے اورظلم اور استحصال اور سرمایہ داریت اور جاگیرداریت سے نفرت ہے۔ سلیم راز کو متعدد ایوارڈز مل چکے ہیں، [3]

تصانیفترميم

  • دزخمونو پسرلے (زخموں کی بھار)
  • تنقیدی کرخے،
  • لہ باڑے تر باڑہ گلی (باڑے سے باڑہ گلی تک) رپوتاژ،
  • زہ لمحہ لمحہ قتلیگم، (میں لمحہ لمحہ قتل ہوتا رہا)
  • پشتو شاعری اکسٹھ سال،
  • پشتو انشائیہ پچاس سال،
  • پشتو سفر نامہ پچاس سال،
  • یقین اردو مقالوں کا مجموعہ

اس کے علاوہ سلیم راز کے پچاس سے زیادہ کتابیں غیر مطبوعہ ہیں۔پشتو کے مقبول ترین کلاسیک شاعر رحمان بابا کی شاعری پر سلیم راز اپنی نوعیت کی پہلی اور منفرد کتاب مارکیٹ میں موجود ہے جس کو ادبی حلقوں میں بھرپورمقبولیت حاصل ہے کتاب کا نام ہے ’’ رحمان بابا ایک فکری مطالعہ‘‘ اس کتاب میں ایک نئے انداز میں رحمان بابا کی شاعری اور طرز فکر کو موضوع بحث بنایا گیا[4]

سوانحترميم

روخان یوسفزئی کی کتاب’’ سلیم راز شخصیت اور فن ‘‘ جنوری 2018ء میں شائع ہو چکی ہے[5]

حوالہ جاتترميم