صحافی ایسے شخص کو کہاجاتا ہے جو مختلف ٹی وی چینلوں اور اخبارات کے لیے مختلف خبریں لاتا ہے اور در بہ در گھوم پھر کر مختلف تازہ ترین خبریں دیتا ہے۔ صحافی کے اس کام کو صحافت کہا جاتا ہے۔ ایک صحافی معاشرے میں بیداری پیدا کرنے میں بڑا کردار ادا کر سکتا ہے اور ایک خبر کو وہاں تک پہنچاسکتا ہے جہاں شاید عام انسان کے لیے ناممکن ہو۔

ایک خاتون صحافی مائک پکڑ کہ کیمرے کے سامنے کھڑی ہے۔

مولانا سید غافر رضوی صاحب قبلہ فلکؔ چھولسی (تاریخ پیدائش 2 جنوری 1983): مولانا سید غافر رضوی چھولسی دور حاضر کے صحافیوں کے درمیان ایک با صلاحیت اور اچھے صحافی شمار کئے جاتے ہیں، ان کا تعلق سرزمین ہندوستان سے ہے جو اردو ادب میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں۔ مولانا کے مضامین مشہور و معروف اردو کے اخبارات میں نظر آتے ہیں۔ زمانہ دن بہ دن ترقی کر رہا ہے، گزشتہ زمانوں میں تو صحافت اتنی زیادہ عام نہیں تھی لیکن موجودہ زمانہ یعنی 2022ء میں سرزمین ہندوستان پر چینلوں کی تعداد شمارش سے باہر ہے۔[1]

سید عمر اویس گردیزی (تاریخ پیدائش 13 جون 1989) ان کا تعلق آزاد کشمیر کے علاقہ باغ سے ہے ، پاکستانی صحافت سے وابستہ ہیں ، روزنامہ امّت ، ہفت روزہ تکبیر انٹرنیشنل میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے حالات پر رپورٹنگ کیساتھ عالمی منظر نامے پر رپورٹنگ کرچکے ہیں ، پاکستان کے نامور سیاستدانوں ، حکمرانوں کے انٹرویوز کیساتھ مقبوضہ کشمیر میں جا کر رپورٹنگ کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں ، ماہنامہ دی مشن انٹرنیشنل کے ایڈیٹر ہیں اور اس وقت بین الاقوامی ساختہ نیوز چینل اے این این نیوز کے پاکستان میں بیورو چیف ہیں . 2005 تک تو پاکستان اس شعبہ صحافت میں اتناآگے نہ تھا تاہم اب پاکستان اس شعبے میں انتہائی ترقی کر رہا ہے اور آج کل 30 سے زائد پاکستان کے نیوز چینلز ہیں۔[2]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. https://ur.wikipedia.org/wiki/سید_غافر_رضوی_چھولسی
  2. https://ur.wikipedia.org/wiki/پاکستان