• عدد کو سنہری تناسب کہا جاتا ہے۔

Golden ratio line.png تصویر میں لکیر کے بڑے حصہ a اور چھوٹے حصہ b کا تناسب اور پوری لکیر a+b اور بڑے حصہ a کا تناسب، برابر اور سنہرا ہے، یعنی

ریاضی میں کوئی بھی دو مقداریں a اور b سنہری نسبت (Golden ratio) میں ہوتی ہیں اگر مقدار a اور b کے مجموعے اور مقدار a کے درمیان وہی نسبت ہو جو مقدار a اور مقدار b کے درمیان ہے۔

درج ذیل اعداد و شمار سنہری نسبت کی ہندسیاتی تعلق کی وضاحت کرتے ہیں۔ جوکہ الجبری طریقے سے ظاہر کیے گئے ہیں۔

کسی بھی دو مقداروں a اور b کے لیے a > b > 0

a + b / a = a / b = Φ

جہاں یونانی حرف فائی Φ سنہری نسبت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ غیر ناطق عدد (irrational number) ہے۔ جو کہ دو درجی مساوات (Quadratic equation) کا حل ہے۔

x^2 - x - 1 = 0

اور جسکی قیمت یہ ہے۔
Φ = 1 + √5 / 2 = 1.6180339887..... (i)

سنہری نسبت کو سنہری اوسط، زرین اوسط یا اصولِ اعتدال (golden mean) اور زریں قطعہ (Golden Section) بھی کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسے انتہائی و وسطی نسبت (extreme and mean ratio)، متوسط قطعہ (medial section)، خدائی تناسب (divine proportion)، خدائی قطعہ (divine section)، زرین تناسب یا سنہری تناسب (golden proportion)، سنہری کاٹ (golden cut) اور سنہری یا زریں عدد (golden number) کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔

یونانی ریاضی دان اقلیدس (Euclid) نے سنہری نسبت کی خصوصیات کا مطالعہ کیا۔ خاص طور پر باقاعدہ مخمس (Regular pentagon) اور سنہری مستطیل (golden rectangle) کے ابعاد (dimensions) میں اس کا ظاہر ہونا، جو کہ اسی تناسبِ نظر یا ابعادی نسبت (aspect ratio) کے چھوٹے مربعوں (squares) اور مستطیلوں (rectangles) میں تقسیم ہو سکتے ہیں۔ سنہری نسبت کو فطرتی اشیاء اور انسان کے بنائے ہوئے نظامات کے تجزیے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ کچھ صورتوں میں یہ مالیاتی منڈیوں کے مشکوک اعداد وشمار پر پورا اترتا ہے۔ سنہری نسبت کا اظہار کچھ فطرتی نمونوں سے بھی ہوتا ہے۔ جیسا کہ پتوں کی مرغولہ نما (Spiral) ترتیب اور پودوں کے دوسرے حصوں وغیرہ سے۔ کچھ بیسویں صدی کے فنکار اور معمار جن میں لے کوربوزیہ (Le Corbusier) اور سیلواڈور ڈالی (Salvador Dalí) شامل ہیں، نے اپنی تعمیرات کو تقریباً سنہری نسبت سے تعمیر کیا۔ خاص طور پر سنہری مستطیل کی صورت میں جس میں لمبے حصے سے چھوٹے حصے کی نسبت، سنہری نسبت ہوتی ہے۔ سنہری نسبت میں تعمیر کی گئی تعمیرات جمالیاتی لحاظ سے دلکش سمجھی جاتی ہیں۔

حسابترميم

دو مقداریں a اور b سنہری نسبت فائی (Φ) میں ہونگی اگر

a + b / a = a/b = Φ

فائی (Φ) کی قیمت معلوم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ داہنی کسر سے شروع کیا جائے۔ کسر کو مختصر کرنے اور اسے b/a = 1/Φ سے بدلنے سے

a + b / a = a/b + b/a = 1 + b/a= 1 + 1/Φ

اسلیے 1 + 1/Φ = Φ فائی (Φ) سے ضرب دینے سے Φ + 1 = Φ^2

جن کو ایسے ترتیب دیا جاسکتا ہے۔

Φ^2 - Φ -1 = 0

دو درجی مساوات سے دو حل حاصل ہوتے ہیں۔

1 + √5 / 2 = 1.6180339887........ اور 1 - √5 / 2 = 0.6180339887........

چونکہ فائی (Φ) مثبت مقداروں کے درمیان نسبت ہے۔ اسلیے فائی (Φ) لازمی طور پر مثبت ہوگا۔

Φ = 1 + √5 / 2 = 1.6180339887........

تاریخترميم

سنہری نسبت کا مطالعہ سب سے پہلے قدیم یونانی ریاضی دانوں نے کیا کیونکہ یہ علمِ ہندسہ (Geometry) میں بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ خط کی انتہائی نسبت ( extreme ratio) اور اوسط نسبت (mean ratio) میں تقسیم ( یعنی سنہری قطعہ (golden section) میں تقسیم) باقاعدہ پانچ کونی تاروں (pentagrams) اور مخمسوں (pentagons) کے ہندسہ (geometry) میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پانچویں صدی قبلِ مسیح میں یونامی ریاضی دان ہیپاسس (Hippasus) نے دریافت کیا کہ سنہری نسبت نہ تو مکمل اعداد (whole number) ہیں اور نہ ہی غیر ناطق اعداد (irrational number)۔ ہیپاسس کے اس دریافت نے اس وقت کے فیثا غورثی مکتبِ فکر (Pythagoreans) کو حیران کر دیا تھا۔ 300 قبل مسیح میں یونانی ریاضی دان کی کتاب اصولِ اقلیدس (Euclid's Elements) (جسے عربی میں الأصول یا العناصر کہتے ہیں) میں ایسے کئی قضیے (Theorems) اور ان کے ثبوت موجود ہیں، جن کے حل کے لیے سنہری نسبت کو استعمال کیا گیا ہے۔ اور یہ پہلی معلوم کتاب ہے جس میں سنہری نسبت کی تعریف کی گئی ہے۔ سنہری نسبت اپنی دریافت سے اگلے ہزا سال تک استعمال ہوتی رہی۔ اسلامی عہدِ زریں میں مصری ریاضی دان ابو کامل الحاسب نے دہ گوشوں (decagon) اور مخمسوں (pentagons) کے ہندسی حسابات (geometric calculations) میں اسے استعمال کیا۔ ان کی ریاضیاتی تَحْرِیرات نے اطالوی ریاضی دان فیبوناشی (Fibonacci)، (لیونارڈ آف پسا(Leonardo of Pisa)) کو بہت متاثر کیا جس نے ہندسی مسائل میں سنہری نسبت کو استعمال کیا۔ فیبوناشی نے اپنی کتابوں خصوصاً لیبر اباکی (Liber Abaci) میں ابوکامل الحاسب کے ریاضیاتی کام کی نقل کی ہے۔ اطالوی ریاضی دان لوکا پاچیولی (Luca Pacioli) نے افلاطونی مُجَسَّموں (Platonic solids) میں سنہری نسبت کے خصوصیات کا کھوج لگانے کے بعد اس پر اطالوی زبان میں ایک کتاب ڈیوائنا پروپورشنے (Divina proportione) کے نام سے لکھی ۔ جس کے عنوان کو اطالوی زبان سے لاطینی زبان کے لفظ دے ڈیوائنا پروپورشنے (De divina proportione) سے بدل دیا گیا۔ انگریری میں اس کا مطلب (Divine proportion) یعنی سنہری تناسب ہے۔ عربی میں اس کتاب کو ’’النسبة الذهبية‘‘ کہتے ہیں۔ اطالوی ریاضی دان جس نے مذکورہ بالا کتاب کی شرح لکھی نے اس سنہری نسبت کو سنہری قطعہ (sectio aurea)، ('golden section') کے نام سے پکارا ہے۔ سولہویں صدی عیسوی کے ریاضی دان رافائيل بومبيلی (Rafael Bombelli) نے ہندسیاتی مسائل کے حل کے لیے سنہری نسبت کو استعمال کیا۔