سورہ الصف

قرآن مجید کی 61 ویں سورت
(سورہ صف سے رجوع مکرر)

قرآن مجید کی 61 ویں سورت جس کے 2 رکوع میں 14 آیات ہیں۔

الصف
دور نزولمدنی
زمانۂ نزولقربتِ جنگ احد
اعداد و شمار
عددِ سورت61
عددِ پارہ28
تعداد آیات14

نام

چوتھی آیت کے فقرے یقاتلون فی سبیلہ صفًا سے ماخوذ ہے۔ مراد یہ ہے کہ یہ وہ سورت ہے جس میں لفظ صف آیا ہے۔

زمانۂ نزول

کسی معتبر روایت سے اس کا زمانۂ نزول معلوم نہیں ہو سکا۔ لیکن اس کے مضامین پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ غالباً جنگ احد کے متصل زمانے میں نازل ہوئی ہوگی، کیونکہ اس کے بین السطور میں جن حالات کی طرف اشارہ محسوس ہوتا ہے وہ اسی دور میں پائے جاتے تھے۔

موضوع اور مضمون

اس کا موضوع ہے مسلمانوں کو ایمان میں اخلاص اختیار کرنے اور اللہ کی راہ میں جان لڑانے پر ابھارنا۔ اس میں ضعیف الایمان مسلمانوں کو بھی مخاطب کیا گیا ہے اور ان لوگوں کو بھی جو ایمان کا جھوٹا دعویٰ کر کے اسلام میں داخل ہو گئے تھے اور ان کو بھی جو مخلص تھے۔ بعض آیات کا خطاب پہلے دونوں گروہوں سے ہے، بعض میں صرف منافقین مخاطب ہیں اور بعض کا روئے سخن صرف مخلصین کی طرف ہے۔ اندازِ کلام سے خود معلوم ہو جاتا ہے کہ کہاں کون مخاطب ہے۔

آغاز میں تمام ایمان لانے والوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی کی نگاہ میں نہایت مبغوض ہیں وہ لوگ جو کہیں کچھ اور کریں کچھ اور نہایت محبوب ہیں وہ لوگ جو راہ حق میں لڑنے کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹ کر کھڑے ہوں۔

پھر آیت 5 سے 7 تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت کے لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اپنے رسول اور اپنے دین کے ساتھ تمھاری روش وہ نہ ہونی چاہیے جو موسٰی علیہ السلام اور عیسٰی علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل نے اختیار کی۔ حضرت موسٰی کو وہ خدا کا رسول جاننے کے باوجود جیتے جی تنگ کرتے رہے اور حضرت عیسٰی سے کھلی کھلی نشانیاں دیکھ لینے کے باوجود وہ ان کو جھٹلانے سے باز نہ آئے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ اس قوم کے مزاج کا سانچا ہی ٹیڑھا ہو کر رہ گیا اور اس سے ہدایت کی توفیق سلب ہو گئی۔ یہ کوئی ایسی قابل رشک حالت نہیں ہے کہ کوئی دوسری قوم اس میں مبتلا ہونے کی تمنا کرے۔

پھر آیت 8 – 9 میں پوری تحدی کے ساتھ اعلان کیا گیا کہ یہود و نصاریٰ اور ان سے ساز باز رکھنے والے منافقین اللہ کے اس نور کو بجھانے کی چاہے کتنی کوشش کر لیں، یہ پوری آب و تاب کے ساتھ دنیا میں پھیل کر رہے گا اور مشرکین کو خواہ کتنا ہی ناگوار ہو، رسول برحق کا لایا ہوا دین ہر دوسرے دین پر غالب آ کر رہے گا۔

اس کے بعد آیات 10 – 13 میں اہل ایمان کو بتایا گیا ہے کہ دنیا اور آخرت میں کامیابی کی راہ صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول پر سچے دل سے ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرو۔ آخرت میں اس کا ثمرہ خدا کے عذاب سے نجات، گناہوں کی مغفرت اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت کا حصول ہے اور دنیا میں اس کا انعام خدا کی تائید و نصرت اور فتح و ظفر ہے۔

آخر میں اہل ایمان کو تلقین کی گئی ہے جس طرح حضرت عیسٰی علیہ السلام کے حواریوں نے اللہ کی راہ میں ان کا ساتھ دیا تھا اسی طرح وہ بھی "انصار اللہ" بنیں تاکہ کافروں کے مقابلے میں ان کو بھی اسی طرح اللہ کی تائید حاصل ہو جس طرح پہلے ایمان لانے والوں کو حاصل ہوئی تھی۔