سید شاہ حبیب الحق عمادی

حبیب الاولیاء سید شاہ حبیب الحق عمادی خانقاہ عمادیہ قلندریہ کے ساتویں سجادہ نشیں ہیں۔

پیدائشترميم

آپ کی ولادت 28؍رمضان المبارک بروز جمعہ 1295ھ کو ہوئی۔

نامترميم

سید شاہ حبیب الحق اورتاریخی نام صابر بخت ہے۔

تعلیمترميم

ابتدائی کتابیں بیشتر اپنے والدماجد شاہ رشید الحق سے پڑھیں اور متوسطات مولوی حفیظ اللہ اور مولوی حکیم علی حیدر اور مولوی عبد اللہ سے پڑھیں، ہدایہ آخریں، صدرا، شمس بازغہ، حمد اللہ، قاضی مبارک، زوائد ثلاثہ،شرح چغمنی، شرح مواقف، توضیح تلویح، مسلم الثبوت، صحاح ستہ من اولہم الی آخر ہم، محمد کمال محدث بہاری علی پوری سے پڑھیں۔12؍ ربیع الاول 1318ھ کو مولانا محمد کمال نے آپ کے سر پر دستارفضیلت باندھی۔

بیعتترميم

28؍شوال 1311ھ کو بروز عرس چراغ عظیم آباد مولانا حافظ سید شاہ محمد نصیر الحق سے آپ کی بیعت ہوئی اور اسی وقت اجازت و خلافت تفویض ہوئی۔ شاہ رشید الحق کے وصال کے چوتھے دن شاہ محمد حبیب الحق کی سجادہ نشینی ہوئی آپ کی شخصیت صبر و توکل کا پیکر تھی۔ دنیاوی جاہ و منصب کو کبھی خاطر میں نہ لائے۔ مرید بھی ہر کس و ناکس کو نہیں کرتے تھے۔ احکام شریعت کے سخت پابند تھے۔

تالیفاتترميم

آپ نے قرآن مجید کے تیسوں پارے کی تفسیر لکھی اور ایک رسالہ آثار قیامت کے نام سے لکھا یہ دونوں شائع ہو چکی ہیں۔

وفاتترميم

25؍رمضان المبارک 1361ھ مطابق 22؍دسمبر 1942ء کو ظہر کے وقت آپ نے رحلت فرمائی۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. انوار الاولیاء ،حسیب اللہ مختار،صفحہ 143،بساط ادب کراچی پاکستان 2000ء