شاعری ایک فن ہے۔ یہ ما قبل تاریخ کے زمانہ سے موجود ہے۔[1] زمانہ قدیم میں روایتی تاریخ، نسب نامہ اور قوانین کوشاعری کی شکل میں شفوی طور پر یاد کرلیا جاتا تھا۔ نجومی اور کاہن بھی اپنے منتر اور دعا شاعری کی شکل میں پڑھتے تھے۔ شاعری ہمیشہ موسیقی سے قریب تر رہی ہے۔[2] ابتدا میں بھجن اور منتر کو بطور شعر پرھا جاتا تھا جیسے سمیری کے پجاری لوگ کیا کرتے تھے۔ زمانہ کے زیادہ شعری نمونے دعا، منتر، بھجن، مذہبی کہانیوں پر مشتمل ہے مگر محبت کے نغمے[3]، روزمرہ کے موضوعات اور سماجی و تاریخی واقعات بھی صنف شعر میں محفوظ کئے گئے ہیں۔ چونکہ قافیہ بند کلام کو یاد کرنا آسان ہوتا ہے لہذا جب لکھنے کا رواج نہیں تھا تب اہم واقعات کو شعر کے اوزان میں محفوظ کرلیا کرتے تھے۔ اسی لئے وید کا زمانہ (1500 ق م تا 1000 ق م ) اور اوڈیسی کا زمانہ (800 ق م تا 675 ق م ) کے واقعات اور حالات کو ما قبل تاریخ کے زمانہ میں شعر میں محفوظ کیا گیا اور شفوی طور زمانہ در زمانہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ لکھنا ایجاد ہوا اور انہیں قلمبند کیا گیا۔[4] تمام تر قدیم ادب اور زبان کا سب سے پہلا اور ابتدائی نمونہ ادب شاعری میں ہی دستیاب ہے۔ گویاکہ کہ کسی بھی زبان میں ادب کی ابتدا ہی شاعری سے ہوتی ہے۔

براعظم افریقا میں ما قبل تاریخ کے زمانہ سے ہی شاعری کی ابتدا ہو چکی تھی اور شکار کے واقعات، مدحیہ شاعری، درباری شاعری، دریائے نیل کی سلطنتوں اور بادشاہوں کے حالات اور واقعات پر مبنی شاعری، جنگوں کے حالات پر مبنی شاعری اور دریائے نیل اور نیجر کے علاقوں کے سماجی حالات کی شاعری کے نمونے ملتے ہیں۔[5]. افریقا میں برمی ادب کے چند تحریری شعری نمونے ملے ہیں جو 25ویں صدی ما قبل مسیح کے ہو سکتے ہیں۔ افریقا میں جدید آبادکاری اور کالونائزیشن سے قبل شاعری کی محفلیں اور شعری تھیٹر عام تھے اور تقریباً تمام ثقافتوں میں اس کا رواج موجود تھا۔[6]

حوالہ جاتترميم

  1. http://www.yukon-news.com/arts/poet-goes-from-newsprint-to-verse/
  2. Francis, Norbert (2017)۔ Bilingual and mutlicultural perspectives on poetry, music and narrative: The science of art۔ Lanham MD: Rowman and Littlefield.
  3. https://www.nytimes.com/2006/02/14/international/europe/14poem.html
  4. For one recent summary discussion, see Frederick Ahl, The Odyssey Re-Formed (1996)۔ Others suggest that poetry did not necessarily predate writing. See, for example, Jack Goody, The Interface Between the Written and the Oral (1987)۔
  5. Oral Literature in Africa, Ruth Finnegan, Open Book Publishers, 2012
  6. African Traditional Drama and Issues in Theater and Performance Criticism, John Conteh-Morgan, Comparative Drama, 1994