شاہینہ شاہین بلوچ

بلوچستان کی نمایاں صحافی، مصورہ، سماجی کارکن

شاہینہ شاہین کا تعلق بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت شہر سے تھا۔

انھوں نے ابتدائی تعلیم تربت میں حاصل کی اور اس کے بعد فائن آرٹس میں ڈگری حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی آف بلوچستان میں داخلہ لیا۔

انھوں نے فائن آرٹس میں 2018ء میں نہ صرف بی ایس کی ڈگری حاصل کی بلکہ اپنی ذہانت کے باعث گولڈ میڈل بھی حاصل کیا۔

انھوں نے سنہ 2019ء میں بلوچی زبان میں بھی ایم اے کی ڈگری فرسٹ پوزیشن کے ساتھ حاصل کی۔

وہ صحافت کے پیشے سے بھی وابستہ تھی اور ایک بلوچی میگزین دزگہار (سہیلی ) کی مدیر بھی تھیں۔

کوئٹہ میں یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران وہ پی ٹی وی بولان کے بلوچی زبان میں مارننگ شو کی میزبانی بھی کرتی تھی۔

شاہینہ بلوچ کا کوئی بھائی نہیں تھا بلکہ وہ پانچ بہنیں تھیں۔

سنہ 2018ء میں یونیورسٹی آف بلوچستان میں جب فائن آرٹس کے فائنل ایئر کے طلبا و طالبات کی پینٹنگز کی نمائش کی گئی تو اس میں شاہینہ کی پینٹنگز نہ صرف شامل تھیں بلکہ ہر لحاظ سے نمایاں بھی تھیں۔

یونیورسٹی میں اس نمائشں کے دوران انھوں نے اپنی والدہ اور چاربہنوں کی بھی پینٹنگز بنائی تھی۔

انھوں نے پینٹنگز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا کوئی بھائی نہیں لیکن یہ خواتین ان کی طاقت ہیں اور وہ انہی کی مدد سے اس مقام تک پہنچی ہیں۔

2018ء میں یونیورسٹی آف بلوچستان میں جب فائن آرٹس کے فائنل ایئر کے طلبا و طالبات کی پینٹنگز کی نمائش کی گئی تو اس میں شاہینہ کی پینٹنگز نہ صرف شامل تھیں بلکہ ہر لحاظ سے نمایاں بھی تھیں۔

یونیورسٹی آف بلوچستان میں پینٹنگز کی نمائش کے دوران انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ بلوچستان کی خواتین صلاحیتوں میں کسی سے بھی کم نہیں ۔

’بلوچستان کی خواتین بہادر ہیں اور وہ سب کچھ کرسکتی ہیں لیکن انہیں خاندان کی جانب سے مدد کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ اگر لوگ اپنی خواتین کی سپورٹ کریں گے تو وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک رول ماڈل بنیں گی۔ شاہینہ شاہین نے پانچ ماہ قبل کراچی کی مقامی عدالت میں پسند کی شادی کی تھی،

5 ستمبر 2020ء کو ان کے شوہر نے تربت میں قتل کر دیا،[1] پولیس کے مطابق شاہینہ شاہین کا شوہر واردات کے بعد فرار ہو گیا جب کہ مقتولہ کے ماموں کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں شاہینہ شاہین کے شوہر محراب گچکی کو نامزد کیا گیا۔

ملزم کی گرفتاری کے لیے علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے نائن ایم ایم پستول سے شاہینہ شاہین پر فائرنگ کی اور پھر فرار ہو گیا۔[2] مقتولہ شاہینہ شاہین بلوچ کو تین گولیاں لگیں،[3]

حوالہ جاتترميم