مرکزی مینیو کھولیں

بلوچی زبان (Balochi language) بلوچ قوم کی زبان ہے۔ ہند یورپی خاندانِ السنہ کی ایک شاخ ہند ایرانی جو مروجہ فارسی سے قبل رائج تھی، کی ایک بولی ہے۔ پاکستانی صوبہ بلوچستان ایرانی بلوچستان، سیستان، کردستان اور خلیج فارس کی ریاستوں میں بولی جاتی ہے۔

بلوچی

بلۏچی

Balòci
Balòci.png
مقامی  پاکستان، ایران، افغانستان، ترکمانستان، متحدہ عرب امارات، عمان
مقامی متکلمین
7.6 ملین (2007)ne2007
لہجے
رسمی حیثیت
دفتری زبان
Flag of Pakistan.svg پاکستان (بلوچستان) (صوبائی)
Flag of Iran.svg ایران (سیستان و بلوچستان)
Flag of Afghanistan.svg افغانستان (نیمروز)
منظم از بلوچی اکادمی (پاکستان)
زبان رموز
آیزو 639-2 bal
آیزو 639-3 balمشمولہ رمز
انفرادی رموز:
bgp – مشرقی بلوچی
bgn – رخشانی (مغربی) بلوچی
bcc – جنوبی بلوچی
ktl – کوروشی
کرہ لسانی 58-AAB-a> 58-AAB-aa (مشرقی بلوچی) + 58-AAB-ab (مغربی بلوچی) + 58-AAB-ac (جنوبی بلوچی) + 58-AAB-ad (بشکردی)

بلوچی ادبترميم

بلوچی ادب کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا رند دور جو 1430ء سے 1600ء تک کے عرصے پر محیط ہے۔ دوسرا خوانین کا دور جس کی مدت 1600ء سے 1850ء تک ہے۔ تیسرا دور برطانوی دور جو 1850ء سے شروع ہوا اور اگست 1947ء میں تمام ہوا۔ چوتھا ہمعصر دور جس کا آغاز قیام پاکستان سے ہوا۔

کلاسیکی دورترميم

رند یا کلاسیکی دور میں بلوچ شعرا نے چار بیت طرز کی رزمیہ داستانیں اور مشہور بلوچ رومان نظم کیے۔ اُس دور کے شعرا میں سردار اعظم میرچاکرخان رند، میر بیو رغ رند، سردارگوہرام لاشاری، میر ریحان رند، شے مرید، میر شہدادرند، میر جمال رند اور شے مبارک قابل ذکر ہیں۔ خوانین قلات کے دور میں خان عبد اللہ خان، جیئند رند، جام درک ڈومبکی، محمد خان گیشکوری، مٹھا خان رند اور حیدربالاچانی شعرا نے شہرت پائی۔ برطانوی دور نے ملا فضل رند ،ملاقاسم رند، مست توکلی، رحم علی،پلیہ کھوسہ ،محمد علی چگھا،رحمن چاکرانی ،جوانسال بگتی، بہرام جکرانی، حضور بخش جتوئی ،ملاعبدالنبی رند، ملاعزت پنجگوری، نور محمد بمپُشتی، ملاابراہیم سربازی، ملا بہرام سربازی اور اسماعیل پل آبادی جیسے شعرا اور ادبا پیداہوئے۔

قیامِ پاکستان کے بعدترميم

قیام پاکستان کے بعد بلوچی ادب کی ترقی و فروغ کے لیے موثر کوشیشیں کی گئیں۔ 1949ء میں بلوچستان رائٹر ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا۔ 1951ء میں بلوچ دیوان کی تشکیل ہوئی اور بلوچی زبان کاایک ماہوار مجلہ اومان کا اجرا ہوا۔ کچھ عرصے بعد ماہنامہ بلوچی جاری کیا گیا۔ اس کے فوری بعد ماہنامہ اولس اور ہفت روزہ ’’دیر‘‘ شائع ہوئے۔ 1959ء میں بلوچی اکیڈیمی قائم ہوئی جس کے زیر اہتمام متعدد بلوچی کلاسیکی کتب شائع ہو چکی ہیں۔

ہمعصر بلوچی شعرا میں سیّد ظہور شاہ ہاشمی، عطا شاد، مراد ساحر، میرگل خان نصیر، مومن بزدار، اسحاق شمیم، ملک محمد طوقی، صدیق آزاد ،اکبر بارکزئی،مراد آوارانی، میرعبدالقیوم بلوچ، میر مٹھا خان مری اور ملک محمد پناہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ نئی پود میں امان اللہ گچکی، نعمت اللہ گچکی، عبد الحکیم بلوچ، عبد الغفار ندیم ،اللہ بخش بزدار،قاضى مبارک ،سيدخان بزدار،عيدالغفور لغارى اور صورت خان مری نے بلوچی ادب کے ناقدین کو کافی متاثر کیا ہے۔

چند حقائقترميم

  1. اس زبان کی تقریباً لگ بھگ 20 ملین بولنے والے ہیں، انہیں دنیا کے سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر بولی جانے والے 60 زبانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
  2. ایک وسیع علاقے میں بولی جانے والی زبان ہے۔ جنوب مشرقی ایران، جنوب مغربی پاکستان اور جنوب مشرقی افغانستان (جو ایک وسیع خطے جسے "بلوچستان" کے نام سے جانا جاتا ہے) کے علاوہ عربستان، ترکمنستان، افریقہ اور دیگر علاقوں کے بلوچ تارکین وطن کے زبان ہیں۔ اور بصورت دیگر سنٹرل ایشیا کو مڈل ایسٹ سے ملانے والی زبان۔
  3. اس زبان (بلوچی) کی ایک تاریخی پس منظر ہے، اس کی قدیم فارسی، سنسکرت، اوستائی اور پارتھین کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔
  4. ان کے بے شمار لہجے ہیں، مگر پھر بھی یہ سب (لہجے) ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں (ہر بلوچ انہیں باآسانی سمجھ سکتا ہے)۔
  5. ان کی بڑے پیمانے کی ادبی سرمایہ اور کلاسیک (اساطیر) ہیں، جن میں سے زیادہ ابھی تک (دیگر زبانوں میں) ترجمہ نہیں ہوئے ہیں۔
  6. اردو بولنے والوں کے لیے انکا سیکھنا نسبتاً آسان ہے، اگر قواعد کو دیکھا جائے تو بلوچی ایک آسان زبان ہے۔ ان کی "اسم" کی کوئی جنس نہیں ہوتی، "اسم" کو تعریف کی ضرورت نہیں اور تقریباً تمام تر فعل با قاعدگی سے ماضی میں جاکے کھڑے ہوتے ہیں۔
  7. بلوچی ہند یورپی زبانوں کے خاندان کی ہند ایرانی شاخ کا حصہ ہے۔ لہذا، اگر کچھ بلوچی سیکھی جائے تو یقینی طور پر یہ فارسی، کوردی اور ہندی سیکھنے میں مدد گار ثابت ہوگی۔
  8. اس زبان کو سیکھنا آپ کو ان سارے لوگوں سے ایک اور الگ سا درجہ دیتا ہے جن کو دیگر ایرانی زبانوں کی کم تعلیم حاصل ہے۔

بیرونی روابطترميم