مہاراجا شری گپتا (280ء-240ء) [1] سلطنت گپتا کے پہلے شہنشاہ تھے، جن کا تعلق شمالی بھارت سے تھا۔ آپ سلطنت گپتا کے بانی بھی تھے۔ شمالی یا وسطی بنگال کا علاقہ شری گپتا کا آبائی علاقہ تصور کیا جاتا ہے مگر اس کے ٹھوس شواہد دستیاب نہیں ہیں۔
مہاراجا شری گپتا بارے تحریری شکل میں دستیاب پہلا مواد ایک بدھ ای چینگ کی تصانیف میں ملتا ہے، جو 690ء میں پونا کے تانبے پر نقش کی گئیں ہیں اور اس میں پربھاوتی گپتا جو چندر گپتا کی بیٹی ہیں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مہاراجا شری گپتا سلطنت گپتا کے بانی ہیں۔ ای چینگ کے مطابق شری گپتا نے “منگ شکوانہ“ کے مقام پر ایک مندر تعمیر کرنے کا حکم دیا جو چین سے آنے والے بدھ یاتریوں کے استعمال میں رہے اور اس مندر کو چالیس گاؤں سے امداد بھی فراہم کی گئی۔[2]
تاریخ دان، اے کے نارائن (1983ء) کے مطابق، معلوم تاریخ سے کوئی شواہد ایسے میسر نہیں ہیں جن کے مطابق مہاراجا شری گپتا کے مذہبی نظریات بارے کچھ ثبوت ملتا ہو، اس کی بڑی وجہ اس دور کے تمام تر تاریخی شواہد ضائع ہو چکے ہیں۔ نرائن کے مطابق چونکہ شری گپتا نے چینی بدھ یاتریوں کے لیے ایک مندر کی تعمیر کا حکم صادر کیا، جس کے واضع ثبوت ہیں تو اس سے ایک اندازہ یہ لگایا جا سکتا ہے کہ شری گپتا غالباً بدھ مذہب سے متاثر تھے یا پھر ہندو مذہب کے پیروکار رہے ہوں اور ویش فرقے سے تعلق رکھتے ہوں۔ ہندوؤں کا ویش فرقہ، بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے نرم گوشہ رکھتا تھا اور ان پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ دوسرے نظریے بابت خیالات زیادہ پختہ یوں بھی ہیں کہ بعد کے گپت شہنشاہ ہندو مت کے پیروکار تھے اور ان کا تعلق ویش فرقے سے رہا ہے۔ بہرحال، مہاراجا شری گپتا بارے یہ بات نہایت وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ انھوں نے اپنے دور حکومت میں مذاہب جیسے بدھ مت، ہندو مت اور جین مت کے پیروکاروں کو مذہبی آزادی عطا کی۔

شری گپتا

حوالہ جات

ترمیم
  1. رادھا کرشنا مکھرجی (1995ء)۔ "اول"۔ سلطنت گپتا۔ موتی لعل بنارسی داس۔ صفحہ: 11 
  2. اے کے نارائن (1983)۔ سلطنت گپتا بابت۔ صفحہ: 35