شنیوار واڑہ صوبہ مہاراشٹر کے شہر پونہ میں واقع ایک تاریخی قلعہ نما عمارت ہے جو سنہ 1732ء میں تعمیر ہوئی۔[1] اس عمارت کی اصل تاریخی اہمیت یہ ہے کہ یہ 1818ء تک مرہٹہ سلطنت کے پیشواؤں کا پایہ تخت تھی۔ 1818ء میں تیسری اینگلو مرہٹہ جنگ میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد پیشوا کو ملک بدر کر دیا گیا تھا۔ مرہٹہ سلطنت کے دور عروج یعنی اٹھارہویں صدی عیسوی میں یہ عمارت ہندوستانی سیاست کا مرکز تصور کی جاتی تھی۔[2]

شنیوار واڑہ کا باب الداخلہ
مقامپونہ، بھارت
تعمیر1732ء
طرزِ تعمیرمرہٹہ

بد قسمتی سے سنہ 1828ء میں عمارت کا بڑا حصہ آتش زدگی کی وجہ سے برباد ہو گیا تاہم جو حصہ بچا رہا اسے اب تک ایک سیاحتی مقام کی حیثیت سے باقی رکھا گیا ہے اور اس کی مناسب دیکھ بھال کا انتظام ہے۔

تاریخ

ترمیم

شنیوار واڑہ اصلاً مرہٹہ سلطنت کے پیشواؤں کی سکونت کے لیے تعمیر شدہ سات منزلہ مرکزی عمارت تھی۔ اس پوری عمارت کو پتھروں سے تعمیر کیا جانا تھا لیکن ابھی پہلی یا دوسری منزل ہی مکمل ہوئی تھی کہ مرہٹہ سلطنت کے پایہ تخت ستارا کے لوگوں نے چھترپتی شاہو کی خدمت میں عرض گزاری کہ پتھروں کی عمارت بنانے کی اجازت اور تعمیر صرف چھترپتی کے اختیار میں ہیں، پیشواؤں کو اس کی اجازت نہیں ہے۔ چنانچہ چھترپتی کے دربار سے باضابطہ شاہی فرمان جاری ہوا جس میں پیشوا کو ہدایت دی گئی کہ عمارت کا باقی ماندہ حصہ پتھروں کی بجائے اینٹوں سے بنایا جائے، فرمان کی تعمیل ہوئی اور بقیہ حصہ اسی طرز پر تعمیر ہوا۔ تقریباً نوے برس بعد جب انگریزوں نے اس عمارت پر ہلہ بولا تو اوپر کی چھ منزلیں منہدم ہو گئیں اور صرف پتھروں سے تعمیر شدہ حصہ باقی رہا۔ چنانچہ اب شنیوار واڑہ کا صرف یہی حصہ باقی ہے اور آج بھی پونہ کے پرانے شہر میں یہ تاریخی عمارت مرجع خلائق ہے۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. S. Gajrani (2004)۔ History, Religion and Culture of India۔ III۔ صفحہ: 255۔ ISBN 978-81-8205-062-4 
  2. "Shaniwarwada was centre of Indian politics: Ninad Bedekar"۔ Daily News and Analysis۔ Mumbai, India۔ November 29, 2011۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ April 19, 2012