شہنائی

الغوزہ (اوبو) کی طرح کا موسیقی کا آلہ، ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں عام ہے

ِِ

شہنائی
Shehnai.jpg
دیگر نامShehnai
صنف بندی

.

متعلقہ آلات

شہنائی : ایک سازموسیقی ہے۔ یہ خاص طور پر شمالی ہندوستان میں عام ہے۔ اس ساز کا استعمال اکثر شادی بیاہ، مذہبی جلوس میں ہوتا ہے۔ جنوبی ہندوستان میں ٹھیک اسی طرح کا ایک ساز ہے جسے ناداسورم کہتے ہیں، اسے آندھرا پردیش میں سنائی بھی کہتے ہیں۔شہنائی کے مشہور فنکار بسم اللہ خان تھے۔

شہنائی کی ابتداترميم

شہنائی کی ابتدا کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ ایک یہ بات کچھ لوگوں نے کہی ہے کہ یہ اس کا آغاز وادئ کشمیر میں ہوا۔ ایک دوسری اور غالبًا زیادہ معروف طور تسلیم کی گئی بات یہ بھی ہے کہ شہنائی لفظ ہی فارسی زبان سے ماخوذ ہے۔ اس میں دو الفاظ ہیں: شہ اور نائے۔ ان دونوں کے مرکب سے دو لفظ بنتا ہے وہ شہنائی ہے۔ اس طرح شہنائی ایک آلۂ موسیقی کے طور پر ایران کی ایجاد قرار پاتی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ لفظ اس کے موجد کی وجہ سے بنتا ہے۔ یہ کہا گیا ہے شہنائی موجد بو علی سینا تھے۔ تو یہ آلہ پہلے پہل سینائی تھا، تو بعد میں شہنائی کہلایا جانے لگا۔ اس طرح سے یہ آلے کا نام موجد کے نام سے ماخوذ ہے۔

عوام مین رائج تصوراتترميم

شہنائی ایک ہوا پھونکنے جیسا موسیقی کا آلہ ہے جس کے بارے ایک عام تصور ہے کہ اس سے خوش قسمتی حاصل ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اس آلے کو شمالی بھارت میں شادیوں اور دیگر تقاریب سے دوران کثرت سے بجایا جاتا ہے۔[1]

مذہبی مقامات میں اہمیتترميم

شہنائی کو مذہبی مراسم کی ادائیگی میں بھی خاص اہمبیت حاصل ہے۔ روایتی طور اسے منگل وادیا کہا گیا ہے جس کا مطلب سازگار آلہ ہے۔ اس کی سریلی آواز کی وجہ سے مذہبی تقاریب میں یہ کثیر الاستعمال ہے۔ کچھ جگہوں پر تو یہ شادیوں اور تہواروں میں لازمی بھی ہے۔[1]


بناوٹترميم

شہنائی کی شکل اندر اور باہر سے لکڑی سے بنے مخروط کی سی ہے۔ اس میں بیلسنیکل کا رنگ چڑھا ہوا دھات شامل ہوتا ہے۔ شہنائی میں آٹھ سوراخ ہوتے ہیں۔[1]


استعمال کا طریقہترميم

شہنائی کا فن کار اس آلے کے سب سے اونچے مخروطی حصے میں اپنی زبان کو لگاتا ہے۔ پھر اس مجموعے لکڑی اور اس کی پکڑ سے جڑا دیا جاتا ہے۔ یہ آلہ ہوا کے ایک بند خانے کی طرح ہے۔ بجانے کے دوران ہونٹوں کو منہ کے اوپری حصے پر لے جایا جاتا ہے اور یہ اس چھڑی کو منہ میں ڈالنے کے کام آتا ہے۔ منہ اس آلے کا اب حصہ بن چکا ہوتا ہے اور یہ ہوا کے خانے کا کام دیتا ہے۔

منہ میں لینے سے پہلے متعلقہ حصے کو گیلا کر کے نرم بنایا جاتا ہے۔ عام طور سے اس کے لیے پانی میں کم سے کم پانچ منٹ رکھا جاتا ہے۔ اگر اس کے بغیر بھی آواز خوش نما ہو، تو پانی سے گیلا کرنا لازم نہیں ہے۔ فن کار کے دائیں ہاتھ کی انگلیاں نیچے کے چار سوراخوں پر ہوتی ہیں جب کہ بائیں ہاتھ کی انگلیاں دائیں جانب نیچے کے چار ہوتھوں پر ہوتی ہیں۔ پہلے بائیں ہاتھ کی انگلیاں چار اوپری سوراخوں پر رکھ دی جاتی ہیں۔ اس کوشش سے ہوا کو زبان کے ذریعے پھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ آواز اپنے آپ ہی پیدا ہوتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ ہوا دینے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔[1]


مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  • Ranade، Ashok Damodar (2006). Music contexts: a concise dictionary of Hindustani Music. Bibliophile South Asia. ISBN 8185002630. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  • Hoiberg، Dale; Indu Ramchandani (2000). Students' Britannica India. Popular Prakashan. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ.  Cite uses deprecated parameter |coauthors= (معاونت);

بیرونی روابطترميم