صدوقیت یہودیوں کا ایک خفیہ فرقہ تھا جو یہودیت میں دوسرے ہیکل کے دور میں متحرک رہا۔ یہ دور دوسرے صدی قبل مسیح سے شروع ہو کر 70 سی ای تک جاری رہا اور دوسرے ہیکل کی تباہی پر ختم ہوا۔ اس دور کو یوسیفس نے یہودی معاشرے کے اوپری معاشرتی اور معاشی درجے سے منسلک کیا۔[1] مجموعی طور پر اس فرقے نے سیاسی، سماجی اور مذہبی کردار ادا کیا جس میں ہیکل کی دیکھ بھال بھی شامل تھی۔ صدوقیت کا اکثر دیگر فرقوں جیسا کہ فریسیوں اور اسینیوں سے مقابلہ کیا جاتا ہے۔ یہ مانا جاتا ہے کہ ہیرود کے ہیکل کی تباہی کے کچھ عرصہ بعد یہ فرقہ معدوم ہو گیا۔ تاہم یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ قرائین فرقے کی بنیاد کسی نہ کسی طور پر صدوقیت سے جا ملتی ہے۔ ابراہام گیگر کے مطابق یہودیوں میں صدوقیت نے اپنا نام زدوک سے لیا ہے جو قدیم اسرائیل میں سب سے بڑا کاہن تھا اور پہلے ہیکل کو اس کی زیرِ نگرانی دیا گیا تھا۔[2]

خیر، وجہ کوئی بھی ہو، صدوق کا تعلق شاڈق کی بنیاد سے ہے۔ شاید اس طرح اُن لوگوں کے معاشرتی رتبے کا اظہار کیا جاتا ہو۔[3]

مزید فلاویس یوسیفس نے اُس دور کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: ‘گمالا شہر کے ایک یہودی اور ایک گاولونائٹ نے اپنے ہمراہ ایک صدوق اور ایک فریسی کو لیا اور انھیں بغاوت پر آمادہ کرنے کی کوشش کرنے لگے۔۔۔‘[4]

دوسرے ہیکل کا عہد وہ ہے جس میں دوسرا ہیکل تعمیر ہوا اور پھر رومنوں نے اسے تباہ کر دیا۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. "۔.۔while the Sadducees are able to persuade none but the rich, and have not the populace obsequious to them, but the Pharisees have the multitude on their side." یوسیفس۔ AJ۔ ترجمہ بقلم ولیم وسٹن۔ 13۔10۔6 ۔
  2. Abraham Geiger, Urschrift، pp. 20 &c
  3. سانچہ:StrongHebrew
  4. یوسیفس۔ AJ۔ ترجمہ بقلم ولیم وسٹن۔ 18۔1۔1 ۔