خیبر پختونخوا کا ایک ضلع۔ نوشہرہ پشاور کي پراني تحصيل تھي۔ جس نے يکم جولائي 1988ء کو ضلع کي حيثيت اختيار کي۔ اب يہ پشاورڈويژن کا تيسرا ضلع ہے جو پشاور ضلع سے جدا کيا گيا ہے۔يہ ضلع قومي شاہراہ پشاور تا پنجاب کے کنارے واقع ہے۔ محل وقوع کے لحاظ سے یہ ضلع تاريخي اہمیت کا حامل ہے۔يہ ضلع مرکزي ايشيا اور انڈيا کو ملانے والا دروازہ بھيک ہلاتا ہے۔ اور دریائے سندھ کے کنارے واقع ہونے کي وجہ سے باقي علاقوں پر فوقيت بھي رکھتا ہے۔ يہ علاقہ تین ہم عصر علما خوشحال خان خٹک، کا کا صاحب اوران کے استاد شیخ اخوند ادین سلجوقی کے علاوہ پير مانکي شريف جيسے مذہبي پيشوائوں کي وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ يہ حقيقت ہے کہ پرانا ضلع پشاور نوشہرہ تحصيل کي وسيع صنعتي بنياد کي وجہ سے مشہور تھا۔ شروع سے یہاں بڑے بڑے صنعتي کارخانے قائم ہیں۔ اس ضلع میں اب رسالپور اور چراٹ بھي صنعتي اعتبار سے ترقي کر رہے ہيں۔

ضلع
ملکپاکستان
صوبہخیبر پختونخوا
صدر مقامنوشہرہ
رقبہ
 • کل1,748 کلومیٹر2 (675 میل مربع)
آبادی (2014)
 • کل1,394,000
 • کثافت500/کلومیٹر2 (1,000/میل مربع)
منطقۂ وقتپاکستان میں وقت (UTC+5)

نوشہرہ فوجي ٹريننگ و تربيت گاہ اور ريلوے لوکو موٹو فيکٹري کي بنا پر بہت اعليٰ مقام رکھتا ہے۔يہاں صنعتوں کو مزيد فروغ دینے کے زریں مواقع موجود ہيں۔ اس ضلع نے افغان مہاجرين کو پناہ دينے ميں بہت اہم کردارادا کيا ہے۔ يہاں افغان مہاجرين کو آباد کرنے کيلئے بڑے بڑے کيمپ بنائے گئے ہيں۔ مضبوط صنعتي بنياد کے ساتھ ساتھ بہترين افرادي قوت اورسياحوں کي دلچسپي کے لیے تاريخي مناظر موجود ہيں۔ دريائے کابل نوشہرہ کے ساتھ بہتا ہے اور کُنڈ کے مقام پر دو دريائوں، دريائے کابل اور دريائے سندھ کا سنگھم ايک قابلِ ديد نظارہ پیش کرتا ۔

شماريات

ترمیم
  • ضلع کا کُل رقبہ 1748 مربع کلوميٹر ہے۔
  • یہاں في مربع کلومیٹر 608 افراد آباد ہيں
  • سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 1063000 تھی
  • دیہي آبادي کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے۔
  • کُل قابِل کاشت رقبہ52540 ہھيکٹيرزھے

حوالہ جات

ترمیم