طواف کی ایک قسم، اسے طوافِ رخصت بھی کہا جاتا ہے۔ حاجی اور عمرہ کرنے والے کے لیے اس کا الگ الگ حکم ہے۔ آفاقی کے لیے طواف زیارت کے فوراً بعد طوافِ رخصت کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔ ہرطواف مطلقاً طواف کی نیت سے بھی ادا ہوجاتا ہے۔ اگر روانگی سے قَبل طواف زیارت کے بعد اگر کوئی نفلی طَواف کر لیا ہے تو طواف رخصت ادا ہوچکا۔[1]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. محمد الیاس قادری، رفیق الحرمین، صفحہ 270-73، فروری 2014ء مکتبۃ المدینہ، کراچی۔
  یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔