عاصم بن عمر بن خطاب

جمیلہ بنت ثابت اور دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمر بن خطاب کے بیٹے

عاصم بن عمر بن خطاب (ولادت: 628ء – وفات: 689ء) جمیلہ بنت ثابت اور دوسرے خلیفہ راشدین حضرت عمر بن خطاب کے بیٹے تھے۔

عاصم بن عمر بن خطاب
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 628ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 689ء (60–61 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد حافظ ابن عاصم ،  لیلہ بنت عاصم ،  عمر ابن عاصم   ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد عمر ابن الخطاب   ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ جميلہ بنت ثابت   ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ محدث   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حالات زندگی

ترمیم

عاصم بن عمر تابعین میں سے تھے اور حدیث کے راویوں میں سے ایک تھے۔

مالک کی ایک حدیث[1]

"انصار کی ایک عورت جميلہ بنت ثابت کی شادی عمر بن الخطاب سے ہوئی۔ اس شادی سے عاصم بن عمر کی ولادت ہوئی اور پھر دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔ عمر قبا تو اپنے بیٹے، عاصم کو مسجد کے صحن میں کھیلتا ہوا پایا۔ انھوں نے اسے بازو سے پکڑ کر سامنے بیٹھا لیا۔ بچے کی نانی نے جب یہ دیکھا تو جھگڑنے لگی۔ یہاں تک کہ دونوں ابوبکر صدیق کے پاس گئے۔ عورت نے کہا کہ میرا بیٹا ہے۔ پس ابوبکر نے فرمایا کہ عورت کے پاسس رہنے دو۔ راوی کا بیان ہے حضرت عمر نے کچھ نہیں کہا۔ یحییٰ نے امام مالک کو فرماتے سنا کی اس بارے میں اسی پر عمل ہے۔" [2] ،[3]

حوالہ جات

ترمیم
  1. ""Muwatta Malik » Wills and Testaments - كتاب الوصية""۔ sunnah.com 
  2. تهذيب الكمال في أسماء الرجال للمزي - عاصم بْن عُمَر بْن الخطاب الْقُرَشِيّ العدوي (1) آرکائیو شدہ 2017-12-11 بذریعہ وے بیک مشین
  3. تهذيب الكمال في أسماء الرجال للمزي - عاصم بْن عُمَر بْن الخطاب الْقُرَشِيّ العدوي (2) آرکائیو شدہ 2017-12-11 بذریعہ وے بیک مشین