عبد اللہ بن ابی اوفی

(عبداللہ بن ابی اوفی سے رجوع مکرر)

عبد اللہ بن ابی اوفی صحابی رسول تھے۔

حضرت ابن ابی ادفیٰ ؓ
معلومات شخصیت
رہائش مدینۃ الرسول

نام و نسبترميم

علقمہ اور عبد اللہ نام، ابو معاویہ کنیت، ابن ابی اوفی کے نام سے مشہور ہیں، نسب نامہ یہ ہے علقمہ بن خالد بن حارث بن ابی اسید بن رفاعہ بن ثعلبہ بن ہوازن بن اسلم بن اقصیٰ۔

اسلام و غزواتترميم

صلح حدیبیہ کے قبل مشرف باسلام ہوئے،حدیبیہ میں آنحضرتﷺ کے ہمرکاب تھے بیعتِ رضوان میں شرفِ جان نثاری حاصل کیا [1]حدیبیہ کے بعد غزوہ خیبر ہوا، سب سے پہلے اس میں میدان جنگ میں اترے [2] پھر حنین میں داد شجاعت دی ہاتھوں میں کاری زخم لگا جس کا نشان مدتوں باقی رہا [3] فتح مکہ کے بعد حنین میں شریک ہوئے،[4] اوراسلام کی مدافعت میں سات لڑائیوں میں ان کی تلوار بے نیام ہوئی [5] اوراس ایثار و قربانی کے ساتھ کہ بعض لڑائیوں میں سدرِ مق کے لیے صرف ٹڈی کھاکر بسر کرنا پڑا۔ [6]

کوفہ میں قیامترميم

عہدِ نبویﷺ سے حضرت عمرؓ کے ابتدائی زمانہ تک مدینۃ میں رہے، جب کوفہ آباد ہوا تو یہاں منتقل ہو گئے اور اپنے قبیلہ اسلم کے محلہ میں گھر بنالیا۔

خارجیوں کی سرکوبیترميم

خلافتِ صدیقی سے لے کر خلافت مرتضوی تک کہیں ان کا پتہ نہیں چلتا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں گوشہ گیر رہے، حضرت علیؓ کے دورِ خلافت میں جب خارجیوں نے سر اٹھایا تو آنحضرت ﷺ کے فرمان کے مطابق ان کے مقابلہ کو نکلے،[7] اور اپنے ساتھ اور مسلمانوں کو بھی ان کے استیصال پر آمادہ کیا اوران کو لکھ بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جنگ کے موقع پر فرمایا تھا کہ لوگو! دشمن سے مقابلہ کی آرزو نہ کیا کرو اور خدا سے امن و عافیت کی دعا کیا کرو، لیکن جب مقابلہ ہوجائے تو ثابت قدم رہو اور یقین رکھو کہ تلواروں کے سایہ کے نیچے جنت ہے۔

وفاتترميم

حضرت ابن ابی اوفیٰؓ نے کافی عمر پائی، بنی امیہ کے دور تک زندہ رہے، اخیر عمر میں آنکھوں سے معذور ہو گئے تھے، اسی حالت میں 86ھ اور 87ھ کے درمیان وفات پائی، یہ اصحاب نبوی میں آخری بزرگ تھے، جنہوں نے کوفہ میں انتقال کیا۔ [8]

فضل و کمالترميم

چونکہ اسلام کے بعد قیام مدینہ ہی میں رہا اور بیشتر غزوات میں آنحضرت ﷺ کی ہمرکابی کا شرف حاصل کرتے رہے، اس لیے اکثر احادیث نبوی ﷺ سننے کا اتفاق ہوتا تھا؛ چنانچہ 1ن کی 95 مرویات حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں، جن میں سے دس متفق علیہ ہیں اور 5 میں امام بخاری اور ایک میں امام مسلم منفرد ہیں، رواۃ میں عمرو بن مرہ، طلحہ بن مطرف، عدی بن ثابت اور اعمش وغیرہ قابل ذکر ہیں۔[9]

ان کا علمی پایہ ان کے معاصرین میں مسلم تھا، مختلف فیہ مسائل میں لوگ تحقیق کے لیے ان کی طرف رجوع کرتے تھے ایک مرتبہ عبد اللہ بن ابی شداد اور ابو بردہ میں بیع سلم کے بارے میں اختلاف ہوا تو دونوں نے فیصلہ کے لیے ان کے پاس آدمی بھیجا، انہوں نے تفصیلی جواب سے ان کی تشفی کردی،[10] ایک مرتبہ بعض لوگوں کو خیبر کی پیداوار کا مصرف معلوم کرنے کی ضرورت ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں وہ کن مصارف میں صرف ہوتی تھی، تو ان کی طرف رجوع کیا انہوں نے بتایا کہ اس کی کوئی خاص تقسیم نہ تھی؛ بلکہ ہر شخص بقدر ضرورت اس میں سے لے لیتا تھا۔

دعائے نبوی :ایک مرتبہ ان کے والد کچھ صدقہ لیکر خدمتِ نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے، آپ نے دعا فرمائی کہ خدایا آل ابی اوفی پر رحمت فرمائیے۔

پاس فرمان رسولترميم

ابن ابی ؓ اوفی کسی موقع پر بھی فرمانِ رسول سے سرموتجاوز نہ کرتے تھے، ان کی ایک لڑکی کا انتقال ہو گیا ،عورتوں نے رونا پیٹنا شروع کیا، ابن ابیؓ اوفی نے کہا بین نہ کرو، رسول اللہ ﷺ نے بین سے منع فرمایا ہے،البتہ آنسو بہاسکتی ہو، اس کے بعد مسنون طریقہ سے نماز جنازہ پڑھا کر فرمایا ،جنازہ میں رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔

حوالہ جاتترميم

  1. (مسند احمد بن حنبل:4/354)
  2. (ابن سعد:4/36)
  3. (بخاری کتاب المغازی باب قول اللہ تعالی ویوم حنین الخ)
  4. (بخاری کتاب الصوم باب متی یحل فطر الصائم)
  5. (مسند ابن حنبل:4/353)
  6. (ایضاً،ومسند دارمی، کتاب الصید،باب اکل البحراہ مستدرک حاکم:3/757)
  7. (مسند احمد بن حنبل:4/382)
  8. (مستدرک حاکم:3/557،571)
  9. (تہذیب الکمال:11)
  10. (مسند احمد بن حنبل:4/354)