غزوہ خیبر

مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان جنگ

غزوہ خیبر محرم 7ھ (مئی 628ء) میں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان یہ جنگ ہوئی جس میں مسلمان فتح یاب ہوئے۔ خیبر یہودیوں کا مرکز تھا جو مدینہ سے 150 کلومیٹر عرب کے شمال مغرب میں تھا جہاں سے وہ دوسرے یہودی قبائل کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ مسلمانوں نے اس مسئلہ کو ختم کرنے کے لیے یہ جنگ شروع کی۔

غزوہ خیبر
سلسلہ مہمات نبوی کی فہرست   ویکی ڈیٹا پر (P361) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عمومی معلومات
ملک سعودی عرب   ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مقام خیبر   ویکی ڈیٹا پر (P276) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
25°41′55″N 39°17′33″E / 25.698611111111°N 39.2925°E / 25.698611111111; 39.2925   ویکی ڈیٹا پر (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
متحارب گروہ
مسلمانانِ مدینہ یہودیانِ خیبر
قائد
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرحب
قوت
1600 دس ہزار سے زائد
نقصانات
16 شہادتیں ھلاکتیں اور کثیر مالی نقصان
Map

پس منظر

خیبر کا علاقہ بالخصوص اس کے کئی قلعے یہودی فوجی طاقت کے مرکز تھے جو ہمیشہ مسلمانوں کے لیے خطرہ بنے رہے اور مسلمانوں کے خلاف کئی سازشوں میں شریک رہے۔ ان سازشوں میں غزوہ خندق اور غزوہ احد کے دوران یہودیوں کی کارروائیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ خیبر کے یہود نے قبیلہ بنی نظیر کو بھی پناہ دی تھی جو مسلمانوں کے ساتھ سازش اور جنگ میں ملوث رہے تھے۔ خیبر مدینہ منورہ سے 60میل کے فاصلے پر واقعہ یہودیوں کا بڑا شہر تھا۔ یہودی سازشیں کرتے تھے، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان پر حملہ کر کے قلعہ خیبر فتح کر لیا۔ یہاں کی زمینوں کی پیداوار کا نصف حصہ اسلامی حکومت کے تصرف میں آیا۔ یہود کے تعلقات بنو قریظہ کے ساتھ بھی تھے جنھوں نے غزوہ خندق میں مسلمانوں سے عہد شکنی کرتے ہوئے انھیں سخت مشکل سے دوچار کر دیا تھا۔ خیبر والوں نے فدک کے یہودیوں کے علاوہ نجد کے قبیلہ بنی غطفان کے ساتھ بھی مسلمانوں کے خلاف معاہدے کیے تھے۔ محرم 7ھ (مئی 628ء) میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم 1600 کی فوج کے ساتھ، جن میں سے ایک سو سے کچھ زائد گھڑ سوار تھے، خیبر کی طرف جنگ کی نیت سے روانہ ہوئے اور پانچ چھوٹے قلعے فتح کرنے کے بعد قلعہ خیبر کا محاصرہ کر لیا جو دشمن کا سب سے بڑا اور اہم قلعہ تھا۔ یہ قلعہ ایک نسبتاً اونچی پہاڑی پر بنا ہوا تھا اور اس کا دفاع بہت مضبوط تھا۔

جنگ

یہودیوں نے عورتیں اور بچے ایک قلعے میں اور سامانِ خور و نوش و دیگر سازوسامان ایک اور قلعہ میں رکھ دیا اور ہر قلعہ پر تیر انداز تعینات کر دیے جو قلعہ میں داخل ہونے کی کوشش پر تیروں کی بارش کر دیتے تھے۔[1] مسلمانوں نے پہلے پانچ قلعوں کو ایک ایک کر کے فتح کیا جس میں پچاس مجاہدین زخمی اور ایک شہید ہوئے۔ یہودی رات کی تاریکی میں ایک سے دوسرے قلعے تک اپنا مال و اسباب اور لوگوں کو منتقل کرتے رہے۔ باقی دو قلعوں میں قلعہ قموص سب سے بنیادی اور بڑا تھا اور ایک پہاڑی پر بنا ہوا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باری باری حضرت ابوبکر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ، حضرت عمر رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ اور حضرت سعد بن عبادہ رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی قیادت میں افوج اس قلعہ کو فتح کرنے کے لیے بھیجیں مگر مسلمان کامیاب نہ ہو سکے۔[2] پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ 'کل میں اسے علم دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ وہ شکست کھانے والا اور بھاگنے والا نہیں ہے۔ خدا اس کے دونوں ہاتھوں سے فتح عطا کرے گا'۔ یہ سن کر اصحاب خواہش کرنے لگے کہ یہ سعادت انھیں نصیب ہو۔ اگلے دن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو طلب کیا۔ صحابہ کرام نے بتایا کہ انھیں آشوبِ چشم ہے۔ لیکن جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ آئے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا لعابِ دہن ان کی آنکھوں میں لگایا جس کے بعد تا زندگی انھیں کبھی آشوب چشم نہیں ہوا۔[2][3] حضرت علی کرم اللہ وجہہ قلعہ پر حملہ کرنے کے لیے پہنچے تو یہودیوں کے مشہور پہلوان مرحب کا بھائی مسلمانوں پر حملہ آور ہوا مگر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اسے قتل کر دیا اور اس کے ساتھی بھاگ گئے۔ اس کے بعد مرحب رجز پڑھتا ہوا میدان میں اترا۔ اس نے زرہ بکتر اور خود پہنا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ایک زبردست لڑائی کے دوران حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کے سر پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ اس کا خود اور سر درمیان سے دو ٹکرے ہو گیا۔ اس کی ھلاکت پر خوفزدہ ہو کر اس کے ساتھی بھاگ کر قلعہ میں پناہ گزین ہو گئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے قلعہ کا دروازہ جو بیس آدمی کھولتے تھے، اکھاڑ لیا اور اسے قلعہ کے دروازہ کے سامنے والی خندق پر رکھ دیا تاکہ افوج گھڑسواروں سمیت قلعہ میں داخل ہو سکیں۔ اس فتح میں 93 یہودی ہلاک ہوئے اور قلعہ فتح ہو گیا۔[4]

نتائج

مسلمانوں کو شاندار فتح ہوئی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہودیوں کو ان کی خواہش پر پہلے کی طرح خیبر میں رہنے کی اجازت دی اور ان کے ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ اپنی آمدنی کا نصف بطور جزیہ مسلمانوں کو دیں گے اور مسلمان جب مناسب سمجھیں گے انھیں خیبر سے نکال دیں گے۔ اس جنگ میں بنی نضیر کے سردار حئی بن اخطب کی بیٹی صفیہ بھی قید ہوئیں جن کو آزاد کر کے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا۔[5]

پیش منظر

اس جنگ سے مسلمانوں کو ایک حد تک یہودیوں کی گھناؤنی سازشوں سے نجات مل گئی اور انھیں معاشی فوائد بھی حاصل ہوئے۔ اسی جنگ کے بعد بنو نضیر کی ایک یہودی عورت جس کا نام زینب تھا نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گوشت پیش کیا جس میں ایک سریع الاثر زہر ملا ہوا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے یہ محسوس ہونے پر تھوک دیا کہ اس میں زہر ہے مگر ان کے ایک صحابی حضرت بشر بن براء جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھانے میں شریک تھے شہید ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسب عادت اپنا بدلہ تو اس عورت سے نہیں لیا لیکن حضرت بشر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بدلے میں اس عورت کو قتل کر دیا گیا ایک صحابی کی روایت کے مطابق بسترِ وفات پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ان کی بیماری اس زہر کا اثر ہے جو خیبر میں دیا گیا تھا۔[6]
مسلمانوں کو اس جنگ سے بھاری تعداد میں جنگی ہتھیار ملے جن سے مسلمانوں کی طاقت بڑھ گئی۔ اس جنگ کے اٹھارہ ماہ بعد مکہ فتح ہو گیا۔ اس جنگ کے بعد حضرت جعفر طیار رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ حبشہ سے واپس آئے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ 'سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کس بات کے لیے زیادہ خوشی مناؤں۔ فتحِ خیبر کے لیے یا جعفر کی واپسی کے لیے۔' [7]

حوالے

  1. مغازی جلد 2 صفحہ 637
  2. ^ ا ب تاریخ ابنِ کثیر جلد 3
  3. انسائکلوپیڈیا آف اسلام
  4. المغازی واقدی جلد 2 صفحہ 700
  5. تاریخ ابن کثیر جلد 3 صفحہ 375
  6. السیرۃ النبویۃ از ابن ھشام صفحہ 144-149 (انگریزی ترجمہ۔ Stillmans-1979)
  7. صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 35