عضلات (muscles) گوشت کے سرخ ٹھوس حصہ کو کہتے ہیں۔ ان کی دو اقسام ہیں۔ عضلات کی واحد عضلہ ہوتی ہے۔ اسے پنجابی میں پٹھے کہا جاتا ہے۔

ارادی عضلات

ترمیم

انھیں دماغ قابو میں رکھتا ہے اور اعصاب (nerves) کے ذریعے انھیں کیمیائی اور برقی پیغامات پہنچا کر مطلوبہ کام کرواتا ہے اسی وجہ سے ان کو ارادی عضلات (voluntary) کہا جاتا ہے۔ عام طور پر انکا خوردبینی مطالعہ کرنے پر گہری اور ہلکی دھاریاں نظر آتی ہیں جس کی وجہ سے ان کو دھاری دار عضلات بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بلا واسطہ یا بالواسطہ مضبوط سفید ریشوں کے ذریعہ ہڈیوں کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں اور ان میں سکڑنے اور پھیلنے صلاحیت پائی جاتی ہے لہذا جب یہ اپنی اسی قوت کے تحت حرکت کرتے ہیں تو اپنے ساتھ ان ہڈیوں کو بھی متحرک کرتے ہیں جن کے ساتھ یہ رباط (ligament) کی مدد سے لگے ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے یہ جاندار کے جسم میں حرکت پیدا کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر یہ ہڈیوں پر جڑنے کی بجائے کھال کے نیچے چپکے ہوئے ہوں تو ان کی وجہ سے کھال میں حرکت پیدا ہوتی ہو مثلا چہرے کی جلد پر تاثرات اسی سبب کی وجہ سے بنتے ہیں۔

غیر ارادی عضلات

ترمیم

یہ براہ راست دماغ کے حکم پر کام نہیں کرتے اور اپنی حرکت میں خاصے خود مختار ہوتے ہیں اور ان کا کام خود بخور اور انسانی خواہش کے بغیر اور اس حصے کی ضروریات کے مطابق جہاں یہ موجود ہوں انجام پاتا ہے، اسی وجہ سے ان کو غیرارادی عضلات (involuntary) کہا جاتا ہے۔ انکا خوردبینی مطالعہ کرنے انپر گہری اور ہلکی دھاریاں نظر نہیں آتیں جس کی وجہ سے ان کو غیردھاری دار عضلات بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عضلات سانس کی نالیوں، خون کی نالیوں، معدہ، دل اور جسم کے دیگر حصوں میں پائے جاتے ہیں۔