فتح الباری

فتح الباريً لصحيح البخاري

فتح الباری کتاب حافظ ابن حجر عسقلانی کی تالیف کردہ صحیح بخاری کی شرح ہے، اہل سنت والجماعت کے یہاں بخاری کی سب سے مستند اور مرجع شرح خیال کی جاتی ہے۔ نیز اس کتاب کو حافظ ابن حجر کی اہم ترین کتاب سمجھا جاتا ہے، اس کو انھوں نے نہایت محنت و دقت اور باریکی سے تقریبا پچیس سالوں میں جمع و تالیف کیا، سنہ 817ھ سے کتاب کی تالیف کا آغاز کیا اور رجب 842ھ میں مکمل کیا۔ اس کتاب میں انھوں بخاری کی احادیث کی صحت، اس کے مشکلات کا حل، اجماعی مسائل کی وضاحت، فقہی اختلاف کی تشریح، احادیث کی صحت و ضعف اور لغت و قرات کے ساتھ ساتھ راویوں کے ضبط و حالات اور روایات کے مابین فرق پر بحث کی ہے۔[1]

فتح الباری
Fathul Bari bisyarhi Shahih al-Bukhari Imam Khairul Annas.JPG
 

مصنف ابن حجر عسقلانی
اصل زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P407) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
موضوع حدیث
تاریخ اشاعت 1372  ویکی ڈیٹا پر (P577) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

وجہ تسمیہترميم

اس کتاب سے پہلے صحیح بخاری کی اسی نام سے کئی شروحات لکھی جا چکی تھیں، جو یا تو مکمل نہیں ہو سکی یا کسی وجہ سے مقبول نہیں ہو سکی، اس وجہ سے ابن حجر عسقلانی نے اسی سابقہ نام پر ایک جامع شرح لکھنے کا ارادہ کیا جو مکمل بھی ہوئی اور مقبول بھی ہوئی۔

ابن رجب حنبلی نے اس کتاب سے پہلے "فتح الباری" نام سے "صحیح بخاری" کی احادیث پر شرح کا کام آغاز کیا تھا لیکن مکمل ہونے سے پہلے ان کا انتقال ہو گیا۔[2]

اسی طرح شوکانی نے بیان کیا ہے کہ ابن حجر کے شیخ اور استاذ مجد الدین فیروز آبادی نے بھی فتح الباری نام سے کتاب لکھی ہے۔[3]

کتاب کی تالیف کا منہجترميم

کہا جاتا ہے کہ کتاب کو دو مرحلوں میں تالیف کیا گیا ہے۔

  • پہلے پانچ سال: حافظ ابن حجر کتاب کو از خود لکھتے تھے۔
  • اس کے بعد مشاورت کے طرز پر: جس میں وہ اپنے ذہین و ذی استعداد شاگردوں کے ساتھ مل کر کتاب لکھواتے تھے، طلبا اپنے استاذ کی معروضات کو نقل کرتے تھے، پھر ہفتے میں کسی ایک دن مناقشہ میں لکھے ہوئے اسباق کی تصحیح کرتے تھے۔[4]

کتاب کا منہجترميم

ابن حجر عسقلانی نے کتاب کے مقدمہ میں اپنے منہج کا تفصیل سے ذکر کیا ہے، یہاں اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:[5]

  • ہر باب کے آغاز میں باب اور اس کی احادیث کا خلاصہ، اگر احادیث کی ایک دوسرے سے مناسبت مبہم ہو تو اس کی بھی تشریح۔
  • حدیث کی سند اور متن پر گفتگو، بعض غموض کی وضاحت، اسی طرح امہات الکتب اور رجال کی کتابوں کے حوالے سے تدلیس اور متابعت کی بھی وضاحت۔
  • بعض موقوف و معلق روایات کی منقطع اسناد کی توضیح۔
  • تمام مشکلات کا حل، خواہ وہ لغت کا کوئی لفظ ہو یا نام اور صفات ہو یا غریب و غیر مانوس لفظ یا جملہ ہو۔
  • احادیث سے ائمہ کے مسالک مع دلائل نقل کرنے کے بعد راجح اور مرجوح کا تذکرہ، نیز کسی لحاظ سے معارض احادیث و روایات کی تطبیق و توضیح۔
  • ہر کتاب کے اختتام میں ایک خاتمہ، جس میں متعلقہ احادیث مرفوع، موقوف، معلق اور مکرر کا جمع کرنا، نیز متفق علیہ اور غیر متفق علیہ روایات کی تنقیح۔
  • کتاب کے اختتام پر بخاری کی تمام روایات کی تعداد مکررات و معلقات کے ساتھ اور بغیر مکرر کے، نیز امام مسلم کی موافق و غیر موافق روایات کی تعداد کا تجزیہ۔[6]

حوالہ جاتترميم

  1. نبذة عن الكتاب في مكتبة مشكاة آرکائیو شدہ 2016-05-16 بذریعہ وے بیک مشین
  2. شرح علل الترمذي، كتاب مُحقق، ابن رجب، 1/285-301.
  3. البدر الطالع، 1/89.
  4. الجواهر والدرر، ورقة 156/أ.
  5. هدي الساري، ص. 4-5.
  6. فتح الباري، 13/543.