فیضان پیرزادہ (ولادت: 1958ء، لاہور - وفات: 21 دسمبر 2012ء، لاہور) نامور پُتلی ساز، مصور، فیشن ڈیزائنر اور رفیع پیر تھیٹر کے ڈائریکٹر تھے۔[1]

فیضان پیرزادہ
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1958ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 21 دسمبر 2012ء (53–54 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت پاکستان   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ گرافک ڈیزائنر ،  پتلی باز   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حالات زندگی

ترمیم

فیضان پیرزادہ 4 اکتوبر 1958ء کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے نیشنل کالج آف آرٹس سے فیشن ڈیزائن کے شعبے میں ڈگری حاصل کی اوراس کے بعد 80ء کی دہائی میں نیو یارک شہر میں ایک آرٹ گیلری قائم کی۔ امریکا میں چند ماہ گزارنے کے بعد فیضان پیرزادہ نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیااورپاکستان میں رفیع پیرتھیٹر ورکشاپ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ اس ادارے کے پلیٹ فارم سے انھوں نے پہلی مرتبہ گرینڈ میوزک فیسٹیول کاآئیڈیا دیا اورپھر اپنی بے پناہ صلاحیتوں کے ساتھ ایک ایسا فیسٹیول ڈیزائن کیا جس کو پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے لوگوں نے بہت سراہا۔ اس فیسٹیول میں پاکستان سمیت دنیا کے بیشترممالک کے فنکاروں نے حصہ لیا۔ یہ شاید وہ پہلا موقع تھا جب مغربی ممالک سمیت دنیا کے دیگرممالک کے فنکاروں کی بڑی تعداد نے پاکستان میں ایک فیسٹیول میں پرفارم کیا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ فیسٹیول میں جہاں ہمارے ملک کے معروف فنکاروں نے حصہ لیا وہیں ایسے علاقائی فنکاروںکو بھی اپنے فن کے اظہارکا موقع دیا گیا جو عرصہ دراز سے اپنے علاقے کے کلچرکو پیش کرنے کے لیے پلیٹ فارم تلاش کر رہے تھے۔

فیضان پیرزادہ نے گائیکی، مصوری اور سازندوں میں ملک کے کونے کونے سے ایسا ٹیلنٹ تلاش کیا اور پھر ان کو اس منفرد انداز سے پیش کیا کہ آج وہ لوگ پاکستان کی پہچان بنے بیٹھے ہیں۔ چاروں صوبوں کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے فنکار اپنے خطے، قبیلے کی عکاسی کرتے ہوئے جب فیسٹیول میں پر فارم کرنے کے لیے پہنچے توان کے ذریعے لوگوںکو بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔ انھوں نے پاکستان میں فیسٹیولزکواس خوبصورتی سے پیش کیا کہ مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ ہمارے پڑوسی ملک کے فنکاروںکی بڑی تعداد بھی لاہور پہنچنے لگی اور یہاں پرفارم کرکے انھیں بہت اچھا محسوس ہوتا تھا۔ فیضان پیرزادہ نے پپٹری (پتلی تماشا) کو بھی بھرپورانداز سے پاکستان میں متعارف کروایا۔وہ پہلے پاکستانی تھے جنھوں نے یہاں پپٹری میوزیم قائم کیا۔ وہ پاکستان کے ہی نہیں بلکہ پپٹری کی عالمی تنظیم ’’یونیما‘‘ کے بھی صدر تھے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انھیں فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دینے پرتمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ اس کے علاوہ دنیا کے بیشترممالک کی طرف سے بھی فیضان پیرزادہ کو خصوصی اعزازات دیے گئے۔

وفات

ترمیم

فیضان پیرزادہ 21 دسمبر 2012ء کو لاہور میں دل کا دورہ پڑنے سے وفات پاگئے۔[2]

حوالہ جات

ترمیم
  1. "uppeteer, painter, fashion designer and a master of light and sound Faizan Peerzada"۔ Dawn۔ December 22, 2012۔ اخذ شدہ بتاریخ April 19, 2013 
  2. "Rafi Peer's Faizan Peerzada dies at 54"۔ tribune.com.pk۔ December 21, 2012۔ اخذ شدہ بتاریخ April 19, 2013 


(بشکریہ پاکستان کرونیکل از عقیل عباس جعفری)