قلعہ فجیرہ (عربی زبان:قلعة الفجيرة) متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ کا ایک قلعہ ہے۔ اس کی تعمیر 16ویں صدی کے قبل عمل میں آئی ہے۔ 16ویں صدی سے ہی یہ قلعہ ملک کے اہم قلعوں اور کاسلوں مین شمار ہوتا آیا ہے۔ ملک میں آبادکاری کرنے والوں کے خلاف جنگ میں اس قلعہ کا بھی اہم کردار رہا ہے۔[حوالہ درکار] موجودہ دورمیں یہ سیاحت کا اہم مرکز ہے۔[1] غالبا یہ قلعہ متحدہ عرب امارت میں قدیم ترین قلعہ ہے۔ اسے ایک زمانہ میں وہابیوں کے اپنے قبضہ میں لے لیا تھا۔[2]

قلعہ فجیرہ

جائے وقوع

ترمیم

جدید فجیرہ شہر کے وسط سے یہ قلعہ 2 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ در حقیقت اس کا جائے وقوع قدیم فجیرہ شہ رہے۔ قدیم فجیرہ شہر میں یہ تقریباً 20 میٹر اونچی پتھریلی پہاڑی پر بنا ہے اور ساحل سمندر سے ایک کلومیٹر کی مسافت پر ہے۔[1][3][4]

تاریخ

ترمیم

قلعہ کی چہار دیواری کے اندر ایک مسجد، ایک کاسل اور کئی قدیم مکانات موجود ہیں۔ اس کے چاروں طرف اس کی حفاظت کے لیے تین گول دیدبان اور ایک مربع نما دید بان نصب کیے گئے ہیں۔ چاروں دید بان اور مرکزی عمارت دیواروں سے متصل ہیں۔ مرکز میں ایک ہال ہے جو دیدبانوں اور دیواروں سے گھرا ہوا ہے۔ قلعہ کا غیر معمولی نقشہ جگہ کی پتھریلی ہونے کی وجہ سے۔ ایک وجہ وہ پتھر بھی ہیں جن پر یہ قلعہ بنا ہوا ہے۔ قلعہ کے در و دیوار وہیں کے پتھروں، گارا مٹی اور دیگر علاقائی چیزوں سے بنائے گئے ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق اس قلعہ کو 1500ء-1550ء کے درمیان میں تعمیر کیا گیا ہے۔ 1650ء-1700ء میں اس کی توسیع و تزئین کی گئی۔ 1925ء میں سلطنت برطانیہ کے شاہی بحریہ نے غلام مخالف پالیسی کے دوران میں اس کے 3 میناروں کو منہدم کر دیا۔[2][5] ایچ ایم ایس نے اس دوران میں قلعہ پر بمباری کردی۔ شیخ حملہ کی تاب نہ لا سکا اور نتیجتا اس پر 1500 روپیہ کا جرمانہ عائد ہوا۔ 1997ء/2000ء میں فجیرہ کی انتظامیہ نے اسی وسائل سے قلعہ کی تزئیین و توسیع کی جس سے قلعہ کو بنایا گیا تھا۔[6]

آج بھی قلعہ اپنی آب و تاب کے ساتھ موجود ہے اور شہر میں آنے والے سیاحوں اور زائرین کو دعوت نطارہ دیتا ہے۔ یہ قلعہ علاقہ میں سیاسی اتھل پتھل، قبائلیوں کی جد و جہد آزادی اور اپنی شناخت قائم کرنے اور اسے باقی رکھنے کی مشقت کی داستان سناتا ہے۔

نگار خانہ

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. ^ ا ب قلاع وحصون الفجيرة صورة من الماضي الجميل۔ Al-Khaleej۔ Retrieved جنوری 13, 2018.
  2. ^ ا ب Rym Ghazal (11 دسمبر 2010)۔ "Fujairah Fort opens to public to reveal the pivotal role it played in nation's past"۔ The National 
  3. "Fujairah Fort Fact File"۔ گلف نیوز۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 جولائی 2018 
  4. "The Fujairah Fort"۔ www.uaeeastcoast.com۔ UAE: East Coast Tourism۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 جولائی 2018 
  5. Matthew S Hopper۔ Imperialism and the Dilemma of Slavery in Eastern Arabia and the Gulf, 1873–1939۔ Itinerario: International Journal on the History of European Expansion and Global Interaction 30, no. 3 (2006): 76-94. 
  6. قلعة الفجيرة آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ nras.gov.ae (Error: unknown archive URL)۔ National Registry of Archaeological Sites۔ Retrieved جنوری 13, 2018.