لس بیلہ کے شیخ بے حد مخلوط قبیلہ ہے۔ اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے، اس کا ایک حصہ نومسلم کہلاتا ہے۔ جو نسباً حسباً شیخ ہیں۔ ان کے بڑے حصے ہمرانی، محمود لکھا اور کہیرای ہیں اور آخری الذکر کو عربی النسل سمجھا جاتا ہے۔ شیخ کے ساتھ شیخ راج میں اّنے والے لاسی قبائل کے علاوہ کم و بیش انتالیس بوقلموں حصے بھی شامل ہیں ۔

لاسی ان کی اتنی عزت کرتے ہیں، جتنی بلوچ، براہویوں اور افغانوں میں سیّدوں کی۔ وہ ماروائی قوتوں ے مالک سمجھے جاتے ہیں اور فضلوں کی وبا دور کرسکتے ہیں، علاج و معالجہ کرسکتے ہیں اور کئی قسم کی کرمات دیکھا سکتے ہیں۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. بلوچستان گزیٹیر ترجمہ انور رومان 1988 ناشر گوشہ ادب کوئٹہ