سید

سادات کے نام کا حصہ

سید کا لفظ ان لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو حضرت علی علیہ السلام اور حضرت خاتونِ جنت سیدۃ نساء العالمين حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد سے ہیں۔ عربی میں ان کے لیے شریف کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ سید کا لفظی مطلب سردار کا ہے جو احتراماً ان کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرابت کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ سادات ساری دنیا میں پائے جاتے ہیں مگر ان کی زیادہ تعداد عرب علاقوں، ایران، پاکستان، ہندوستان، ترکی اور وسط ایشیا میں پائی جاتی ہے۔ سادات سنی اور شیعہ دونوں مسلکوں میں پائے جاتے ہیں۔ سادات کی بہت سی اقسام ہیں جن کا تفصیلی ذکر سید قمر عباس اعرجی ہمدانی نے اپنی کتاب مدرک الطالب فی نسب آل ابی طالب اور القمری فی انساب الطالبیین میں کیا۔[حوالہ درکار][1]

لغوی مآخذ

سید کی اصطلاح لغوی اعتبار سے سردار کے معنی میں ہے۔ رب تعالٰی حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے:"سَیِّدًا وَّحَصُوۡرًا وَّنَبِیًا مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ"۔ حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اولاد کو آج سید کہتے ہیں وہ یہاں سے لیا گیا ہے۔ سید اصل میں سیود تھا جس میں اعلال کے نتیجے میں واؤ ی ہو کر ی میں مدغم ہو گئی، بعض نے فرمایا کہ سید وہ ہے جس کا غصہ اس کی عقل پر غالب نہ ہو، بعض نے فرمایا کہ سید وہ ہے جو خیروبرکات میں دوسروں سے بڑھ کر ہو۔ حضرت حسن بن علی نسب، حسب، علم و عمل، سیادت میں دوسروں سے اونچے ہیں۔[2] سید کے معنی :بڑی جماعت کا سردار کے ہیں چونکہ قوم کے رئیس کا مہذب ہونا شرط ہے اس اعتبار ہر فاضل النفس آدمی سید کہا جاتا چنانچہ آیت وَسَيِّداً وَحَصُوراً [3] اور سردار ہوں گے اور عورت سے رغبت نہ رکھنے والے۔ میں بھی سید کا لفظ اسی معنی پر محمول ہے۔ اور آیت : وَأَلْفَيا سَيِّدَها [4] اور دونوں کو عورت کا خاوند مل گیا۔ میں خاوند کو سید کہا گیا ہے کیونکہ وہ بیوی کا نگران اور منتظم ہوتا ہے اور آیت : رَبَّنا إِنَّا أَطَعْنا سادَتَنا[5] اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا۔ میں سادتنا سے دلاۃ اور حکام مراد ہیں ۔[6]

افغانستان

افغانستان میں ، سید (سادات) کو ایک نسلی گروہ کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

13 مارچ 2019 کو ، صدارتی محل (ارگ) میں سادات کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ، صدر اشرف غنی نے کہا کہ وہ سادات نسلی گروہ کو نئے الیکٹرانک قومی شناختی کارڈ (ای این آئی سی) میں شامل کرنے کے بارے میں ایک حکم نامہ جاری کریں گے۔ [7][8]

صدر اشرف غنی نے 15 مارچ 2019 کو الیکٹرانک قومی شناخت میں 'سادات قبیلے' کے ذکر کا حکم دیا.[9]

شمال کے سید عام طور پر بلخ اور قندوز میں واقع ہیں۔ جبکہ مشرق میں وہ ننگرہار میں مل سکتے ہیں۔ جبکہ زیادہ تر سنی مسلمان ہیں ، بامیان صوبے میں کچھ شیعہ ہیں۔[10]

نسب

سید دراصل حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت سیدۃ نساء العالمین بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد سے ہیں۔ اس سلسلہ میں امام علی رضا نے فرمایا کہ ان کے جد موسی کاظم انھیں ان کے جد امام جعفر الصادق انھیں ان کے جد محمد باقر علیہ اسلم انھیں ان کے جد زین العابدین انھیں ان کے جد امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ انھیں ان کے جد امام علی علیہ السلام انھیں رسول کائنات نے فرمایا:

کل نسب و صهر منقطع یوم القیامه سترا من اللّه علیه الانسبی و سببی

کہ خدا بزرگ و برتر نے ارادہ کر رکھا ہے روز محشر ہر نسب اور نسل ختم ہو جائے گا سوائے میری نسل اور نسب کے یہ اللہ کا ارادہ ہے اور خدا کا ارادہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا رسول اللہ کا یہ فرمان کائنات کے ہر زی روح پرواضع کر رہا ہے رسول اللہ کا نسب اور نسل سورہ کوثر کی تفسیر ہے کیونکہ کوثرسے مراد سیدۂ کائنات صلواۃ اللہ علیہا ہیں اس معظمہ بی بی کی نسل روز قیامت کے بعد بھی جاری رہے گی جب دشمن رسول اللہ کے دروازہ پر دستک دے کر کہتے تھے اے محمد تم ابتر ہو تب اللہ نے یہ ارادہ کیا کہ میں روز محشر ہر نسل کوختم کر دوں کا مگر سیدہ فاطمہ زہرا جوقرآن مجید کی سورہ الکوثر کے مطابق " کوثر " ہیں کی نسل قطع نہیں ہو گی۔ اسی حدیث کو صحابہ کی ایک جماعت جن میں عمربن خطاب بھی شامل کہ رسول اللہ نے ف

كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلاَّ سَبَبِي وَنَسَبِ۔

سب حسب نسب روز قیامت قطع ہو جائیں گے سوائے میرے حسب اور نسب کے [11]

دوسری اولاد میں سے جو نسل چلی ہے اس کو علوی کہا جاتا ہے کیونکہ علوی کا لفظ عام طور پر حضرت علی کی دوسری بیویوں کی اولاد کو کہا جاتا ہے۔

سید کون ہیں اور ان کی اولاد کیسے چلی

حضرت علی کے فاطمہ الزہرا کی طرف سے پانچ اولادیں ہوئیں۔ حضرت حسن،حضرت حسین ، سیدہ زینب سیدہ ام کلثوم اور حضرت محسن۔

حضرت حسن کی اولاد

حضرت امام حسن کے سترہ بیٹے تھے جن میں زیادہ تر کی شہادت میدان کربلا میں ہوئی اپ کی کی نسل اپ کے فرزندان حضرت زید الاکبر اور حضرت حسن مثنی سے چلی جو حسنی سادات کہلاتے ہیں اور ان کی اکثریت لبنان اور ایران میں آباد ہے حسن مثنی کربلا سے غازی ہوکر آئے تھے۔ ان کی اولاد سے کوئی امام نہیں ہوئے۔

حضرت امام حسین سے اولاد

حضرت امام حسین کی اولاد میں سے صرف امام علی زین العابدین ہی جنگ سے غازی ہوئے۔ آپ کی بڑی شان ہوئی اور آپ اہلبیت کے چوتھے امام ہوئے اپنے باپ تایا اور دادا کے بعد ۔ حضرت امام علی زین العابدین ہی کی اولاد سے تما م کے باقی سادات کی ولادت ہوئی-

حضرت علی کی سید بیٹیاں

حضرت علی کی بیٹی سیدہ زینب بنتِ سیدہ فاطمہ زہرا بنتِ رسول اللہﷺ کی اولاد زندہ ہیں اور ان کی طرف سے بھی نسل چلی ہے، جیسا کہ امام بخاری اور دیگر بڑے ائمہ و معتبر مؤرخین کا موقف ہے اور آج بھی علما مصر کا یہی موقف ہے۔ چنانچہ سیدہ زینب کی اولاد ساداتِ جعفری زینبی کہا جاتا ہے۔ اور رہی بات سیدہ ام کلثوم کی تو آپ نسل آج موجود نہیں ہے۔ "چنانچہ سید حضرت امام حسن، امام حسین اور سیدہ زینب بنتِ سیدہ فاطمہ زہرا بنتِ رسول اللہﷺ کی اولاد کو کہا جاتا ہے۔"

اقسام

سیدوں کی دراصل کوئی قسم نہیں ہوتی سید سید ہوتا ہے۔ ہاں البتہ جب تعداد بڑھنے لگی تو سادات نے اپنی پہچان کی خاطر اپنے اس امام کے نام کو اپنی پہچان بنایا جس کی نسل سے ان کا تعلق ہے تا کہ ان کے نسب کی آسانی سے پہچان ہو سکے سادات کی مختلف شاخیں ہیں کہ جن میں اہم اور اصلی درج ذیل ہیں : حسنی، حسینی، عابدی ، موسوی ،رضوی ، تقوی اور نقوی جبکہ ہر موسوی سید، حسینی بھی ہے، لیکن اسے موسوی کہتے ہیں نہ کہ حسینی. اس بات کی دلیل وہ قاعدہ جو علم نسب میں ہے جس کے مطابق، سادات کو جو ان کے شجرے نامے میں آخری امام ہو، اس کے ساتھ منسوب کرتے ہیں، مثال کے طور پر جو شخص امام موسیٰ کاظم(ع) کے خاندان سے ہے اسے موسوی یا کاظمی سید کہتے ہیں حسینی نہیں کہتے یعنی اسے امام حسین(ع) یا امام علی(ع) سے منسوب نہیں کرتے. اسی لیے۔

ہر تقوی سید رضوی ہے لیکن ہر رضوی تقوی نہیں 
ہر رضوی سید موسوی ہے لیکن ہر موسوی رضوی نہیں 
ہر موسوی سید حسینی ہے لیکن ہر حسینی موسوی نہیں 
ہرحسینی سید فاطمی ہے لیکن ہر فاطمی حسینی نہیں
ہر فاطمی سید علوی ہے لیکن ہر علوی فاطمی نہیں 
ہر علوی سید  طالبی ہے لیکن ہر طالبی علوی نہیں


سادات حسنی

امام حسن ابن علی علیہ الصلواۃ والسلام کی اولاد پاک کو حسنی سادات کہا جاتا ہے۔ امام حسن مجتبٰی علیہ الصلواۃ والسلام کی نسلِ مطہر حضرت حسن مثنیٰ ابن امام حسن علیہ الصلواۃ والسلام سے چلی۔ یہ ایران اور لبنان میں کثیر تعداد میں آباد ہیں، ایران کے طباطبائی سادات اسی قبیلے میں سے ہیں۔

حسنی حسینی سادات کے جد امجد، شیخ الطالبین، حضرت سیدنا امام عبد اللہ محض کامل رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 70ھ مدینۂ منورہ میں ہوئی۔ آپ سیدنا امام حسن کے پوتے اور سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہما کے نواسے تھے۔ آپ کو محض اسی لیے کہتے ہیں کہ آپ دنیا میں پہلے شخص تھے جن کے ماں باپ دونوں سیدہ بتول زہراء صلی اللہ تعالی علی ابیہا الکریم وعلیہا وسلم کی اولاد امجاد ہیں، یعنی والد ماجد امام حسن مثنی بن حسن مجتبی اور والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ صغری بنت امام حسین شہید کربلا صلی اللہ تعالی علی ابیہم وعلیہم وبارک وسلم۔ آپ اپنے زمانے کے سردار بنی ہاشم، تابعی، عالم باعمل اور حدیث کے ثقہ راوی ہیں۔ 10 ذوالحجہ 145ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک شنافیہ، صوبہ دیوانیہ، عراق میں ہے۔ (الاعلام للزرکلی، تاریخ ابن عساکر، تاریخ بغداد، فتاوی رضویہ)

کچھ مشہور حسنی سادات

سادات حسینی

امام حسین علیہ الصلواۃ والسلام کی نسلِ نورانی امام زین العابدین علیہ الصلواۃ والسلام سے چلی، اسی وجہ سے امام زین العابدین علیہ الصلواۃ والسلام کا ایک لقب "آدمِ آلِ حسین علیہ الصلواۃ والسلام" بھی ہے۔

حسنی حسینی سادات کے جد امجد، شیخ الطالبین، حضرت سیدنا امام عبد اللہ محض کامل رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 70ھ مدینۂ منورہ میں ہوئی۔ آپ سیدنا امام حسن کے پوتے اور سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہما کے نواسے تھے۔ آپ کو محض اسی لیے کہتے ہیں کہ آپ دنیا میں پہلے شخص تھے جن کے ماں باپ دونوں سیدہ بتول زہراء صلی اللہ تعالی علی ابیہا الکریم وعلیہا وسلم کی اولاد امجاد ہیں، یعنی والد ماجد امام حسن مثنی بن حسن مجتبی اور والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ صغری بنت امام حسین شہید کربلا صلی اللہ تعالی علی ابیہم وعلیہم وبارک وسلم۔ آپ اپنے زمانے کے سردار بنی ہاشم، تابعی، عالم باعمل اور حدیث کے ثقہ راوی ہیں۔ 10 ذو الحجہ 145ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک شنافیہ، صوبہ دیوانیہ، عراق میں ہے۔ (الاعلام للزرکلی، تاریخ ابن عساکر، تاریخ بغداد، فتاوی رضویہ)

کچھ مشہور حسینی سادات

ہمدانی سادات

عابدی سادات کا یہ قبیلہ ایران کے شہر ہمدان سے ہجرت کر کے آیا ہے۔ یہ سادات امام زین العابدین علیہ الصلواۃ والسلام کے پوتے حضرت عبیداللہ الاعرج ابن حضرت حسین الاصغر ابن امام زین العابدین علیہ الصلواۃ والسلام کی اولاد میں سے ہیں، جس کی وجہ سے انھیں ساداتِ عرب کے سب سے بڑے قبیلے "سادۃ الأعرجي" میں بھی شامل سمجھا جاتا ہے۔ ہمدان کی طرف ہجرت کرنے سے قبل یہ سادات "ساداتِ بلخ" کے نام سے معروف تھے۔) یہ ایران، تاجکستان، ہندوستان، کشمیر اور پاکستان میں خصوصاً پنجاب کے اضلاع راولپنڈی، چکوال، تلہ گنگ کے علاقوں میں آباد ہیں۔

بارھوی سادات

عابدی سادات کا یہ قبیلہ سادات حضرت زید شہید ابن امام زین العابدین علیہ الصلواۃ والسلام کی اولاد ہیں اس نسبت سے انھیں اکثر زیدی کہا جاتا ہے اور چونکہ یہ شہر بارھہ شریف سے ہجرت کر کے آئے ہیں اس کی وجہ سے انھیں بارھوی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ زیادہ تر ہندوستان اور پاکستان میں خصوصاً کراچی اور سندھ کے اضلاع میں آباد ہیں۔

ترمذی سادات

سادات ترمذی مختلف شجرہ ہائے نسب سے ہیں جیسا کہ ترمذی نقوی سادات ان میں مشہور اولاد پیر بابا رح جو صرف ترمذی لکھتے ہیں اور یہ خیبر پختونخوا میں بکثرت موجود ہیں ہزارہ سوات اور دیگر علاقوں میں

اسی طرح سادات ترمذی نقوی دو کوہی ہیں جو دو کوہہ جالندھر کی شہرت بلدی رکھتے ہیں

اس کے علاؤہ عابدی سادات کے خاندان کی ایک شاخ بھی ہے جو شہرِ ترمذ سے ہجرت کر کے آئے ہیں ان کو ترمذی عابدی سادات کہتے ہیں۔

شیرازی سادات

ان کا سلسلہ نسب امام جعفر ابن محمد الصادق علیہ الصلواۃ والسلام سے ملتا ہے۔ یہ جعفری سادات کا سب سے بڑا قبیلہ ہے جو ایران کے شہر مشہور شیراز سے ہجرت کر کے آئے ہیں۔ یہ زیادہ تر ایران، پاکستان اور ہندوستان میں آباد ہیں۔سادات

سبزواری سادات

یہ جعفری سادات کا دوسرا بڑا قبیلہ ہے جو ایران کے معروف شہر سبزوار سے ہجرت کر کے آئے ہیں۔ یہ پاکستان میں خصوصاً ملتان میں آباد ہیں، انھیں شمسی سادات کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

خوارزمی سادات

جعفری سادات کے اس قبیلے نے خوارزم سے برِصغیر کی جانب ہجرت کی ہے۔

گردیزی سادات

انھوں نے گردیز سے ہجرت کی ہے۔ یہ پاکستان میں خصوصاً ملتان کے علاقے میں آباد ہیں۔

مشہدی سادات

مشہدی کاظمی سادات کا سلسلہ نسب امام موسیٰ ابن جعفر الکاظم عليہ الصلواۃ والسلام سے ملتا ہے سرزمینِ ہندوستان پر آنے والے زیادہ تر کاظمی سادات مشہدِ مقدس سے ہجرت کر کے آئے ہیں۔ یہ پاکستان میں خصوصاً پنجاب کے اضلاع راولپنڈی، چکوال، جہلم میں کثیر تعداد میں آباد ہیں۔

مشہدی سادات

ان سادات کا سلسلہ امام علی رضا علیہ الصلواۃ والسلام سے ملتا ہے یہ مشہدی رضوی سادات کہلاتے ہیں یہ بھی مشہد سے ہجرت کر کے آئے ہیں۔ یہ زیادہ تر ہندوستان اور پاکستان میں ہیں۔

نقوی سادات

حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی اولاد کو نقوی کہا جاتا ہے ایران عراق اور باقی عرب اور سندھ میں آپ کی نسل کو رضوی کہا جاتا ہے زیادہ تر نقوی سادات امام علی نقی علیہ السلام کے بیٹے حضرت جعفر ثانی علیہ السلام کی نسل ہیں

سرسوی نقوی سادات

سرسی سادات ضلع سنبھل اترپردیش ہند میں آباد نقوی سادات کے مورثِ اعلیٰ حضرت سید علی عرب نقوی نیشاپوریؒ شہید نیشاپور ایران سے 632 ہجری مطابق 1236 AD میں ہندوستان تشریف لائے اور 635 ہجری مطابق 1239 AD میں شہید کر دیے گئے۔اس سادات کی جاگیر کا ذکر عہد اکبری کی تصنیف "آئنِ اکبری" میں بھی ہے۔ [12]

بھاکری و بخاری سادات

باکھری سادات کا سلسلہ حضرت جعفر الزکی علیہ السلام ابن امام علی نقی علیہ السّلام سے ملتا ہے حضرت جعفر ثانی علیہ السلام کی اولاد مختلف بیٹوں سے جاری ہوئی باکھری سید اور بخاری سید حضرت سید علی اصغر بن جعفر ثانی بن امام علی نقی علیہ السلام کی اولاد سے ہیں زیادہ تر بھاکری سادات پاکستان ہندوستان میں ہیں اور سرائیکی علاقوں میں کثیر تعداد میں ہیں بلکہ جہاں جہاں بخاری سادات ہے وہاں وہاں بھاکری (بکھری سادات) بھی موجود ہیں حضرت سید جلال الدین نقوی البخاری اور حضرت مخدوم بدرالدین بھاکری میں جو رشتہ ہوا تب سے یہ دونوں سادات نسل در نسل ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئے

نقوی بخاری سادات کا سلسلہ حضرت جعفر الزکی ابن امام علی نقی علیہ الصلواۃ والسلام سے ملتا ہے یہ ازبکستان کے شہر بخارا سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے ہیں۔ یہ ہندوستان اور پاکستان میں خصوصاً بہاولپور، سرائیکی بیلٹ اور پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں بہت کثیر تعداد میں آباد ہیں۔

امروہوی سادات

یہ امروہہ ہندوستان میں رہنے والے نقوی سادات ہیں جن میں سے کچھ خاندانوں نے پاکستان کی طرف ہجرت کی ہے۔

حسنی سید

حسنی سادات امام حسن علیہ السلام کے فرزند حسن مثنیٰ کی اولاد سے ہیں اور زیادہ تر ایران و لبنان میں آباد ہیں خصوصاً ایران کے طباطبائی سادات حسنی سادات ہیں۔ بہت سارے سادات خاندانوں نے اپنے امام کے نام کے ساتھ ان علاقوں کے نام کا اضافہ کر لیا جہاں سے وہ ہجرت کر کے آئے ہیں جیسے کہ نقوی بخاری بخارہ سے ہجرت کرنے والے ماژندرانی ماژندران سے جعفری شیرازی شیراز سے، جعفری سبزواری سبزوار سے، عابدی ہمدانی ہمدان سے، زیدی بارھوی بارھہ سے، امروہوی امروہہ، ہندوستان سے)]


حسینی سید

جیسے : جعفری سید امام جعفر صادق علیہ الصلواۃ والسلام کی اولاد سے عابدی سید امام زین العابدین علیہ الصلواۃ والسلام کی اولاد سے، زیدی حضرت زید جو امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے بھائی تھے کاظمی سید امام موسیٰ الکاظم علیہ السلام کی اولاد ہیں رضوی اور تقوی سید امام محمد تقی علیہ السلام کی اولاد ہیں کیونکہ امام علی رضا علیہ السلام کے واحد فرزند امام محمد تقی علیہ السلام ہیں نقوی سید امام علی نقی علیہ السلام کی اولاد ہیں جبکہ اپ کے فرزند امام حسن عسکری علیہ السلام کی واحد اولاد امام مہدی علیہ السلام ہیں یوں تو ہر نسبی سید امام علی علیہ الس نسل سے ہے مگر انھوں نے صرف پیچان کے لیے اپنے اپ کو اس امام کے ساتھ لکھتے ہیں جس کی وہ نسبی اولاد ہیں تاکہ ان کی آسانی سے پہچان ہو جائے ۔ مثلاً اگر کوئی سید یہ کہے کہ میں فلاں کا بیٹا ہوں اور سید ہوں تو آپ آسانی سے اس کی پہچان نہیں کر پائیں گے اگر وہ یہ کہے کہ میں عابدی سید ہوں اور امام علی زین العابدین علیہ الصلواۃ والسلام کی اولاد ہوں تو آپ فوراً پہچان کر لیں گے،

کاظمی سادات

موسیٰ کاظم کی اولاد کاظمی کہلاتی ہے،

سادات کے احکام

شریعت میں سادات کے لیے بہت سے انفرادی احکام ہیں۔ مثال کے طور پر سادات کے لیے غیر سادات سے واجب صدقات اور زکوۃ لے کر استعمال کرنا حرام ہے، البتہ غیر واجب صدقات دے جا سکتے ہیں بمطابق فقہ جعفریہ اور غریب سادات خمس سے سہم سادات استعمال کر سکتے ہیں۔ اسلام کے فقہ جعفریہ میں سید زادی کا نکاح غیر سید سے جایز ہے اور قرآن و حدیث کے مطابق اس میں کوئی شرعی ممانعت نہیں اہلِ سنت کے تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ بھی سید زادی کا غیر سید سے نکاح جائز سمجھتے ہیں۔


کچھ خاص سادات


اسلامی القاب

حوالہ جات

  1. https://archive.org/details/MudrikAlTalib2ndEddition
  2. مرقات بحوالہ مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح
  3. [ آل عمران/ 39]
  4. [يوسف/ 25]
  5. [ الأحزاب/ 67]
  6. مفردات القرآن امام راغب اصفہانی
  7. "President Ghani to Issue Legislative Decree on Recognizing 'Sadat' as Ethnic Group"۔ Ariana News (بزبان انگریزی) 
  8. "'Sadat Ethnicity' to be Inserted in e-NIC"۔ 13 March 2019۔ 09 مئی 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جون 2021 
  9. Azizullah Hamdard (15 March 2019)۔ "Ghani decrees mentioning Sadat tribe in electronic ID card" (بزبان انگریزی) 
  10. "Ethnic Identity and Genealogies"۔ Program for Culture and Conflict Studies – Naval Postgraduate School (بزبان انگریزی) 
  11. منابع (حوالہ جات) ولهذا الحديث روايات كثيرة عن جماعة من الصحابة رضوان الله عليهم ، فقد رواه الطبراني في " المعجم الكبير " ( 3 / 129 ) عن ابن عباس رضي الله عنهما ، ورواه الطبراني في " المعجم الكبير " ( 1 / 124 ) والحاكم في " المستدرك " ( 3 / 142 ) والبيهقي في " سننه " ( 7 / 114 ) من حديث عمر بن الخطاب رضي الله عنه ، ورواه أحمد في " مسنده " ( 31 / 207 ) من حديث المسور بن مخرمة رضي الله عنه ، ورواه أحمد – أيضاً – في " مسنده " ( 17 / 220 ) من حديث أبي سعيد الخدري رضي الله عنه .
  12. تاریخِ انوارالسادات سید ظفریاب ترمذی، آئن اکبری، زین المتقین سید محمد تقی نقوی

https://archive.org/details/MudrikAlTalib2ndEddition