لیلۃ الجائزہ یا شب انعام شب عید الفطر اور عید الاضحی دونوں سے پہلے آتی ہےـ رمضان المبارک کے ساتھ خاص طور پر اہمیت حاصل ہے اور اس ماہ کے تمام روزے اور اچھے کاموں کے بدلے اجر حاصل کرنے کی رات ہےـ یہ مسلمانوں کے لیے ایک با برکت رات ہے۔ ابو امامہ باہلی سے روایت ہے کہ سیدنا محمد نے فرمایا:

”جس نے عید الفطر اور عید الاضحی کی دونوں راتوں کو اجر و ثواب کی نیت سے اللہ تعالیٰ کے لیے قیام کیا اس کا دل اس دن مردہ نہیں ہو گا جس دن دل مر جائیں گے۔“[1]

یہ حدث ضعیف ہے۔ ”الاذکار“ میں نووی کہتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے، اسے ہم نے ابو امامہ کے طریق سے مرفوع اور موقوف روایت کیا ہے اور یہ دونوں طریق ضعیف ہیں۔ عبد الرحیم عراقی نے ”تخریج احیاء علوم الدین“ میں اس کی سند کو ضعیف کہا ہے۔ اور ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں کہ یہ حدیث غریب اور مضطرب الاِسناد ہے۔[2]

علی بن ابو بکر ہیثمی کہتے ہیں کہ اسے طبرانی نے ”الاوسط“ اور ”کبیر“ میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عمر بن ہارون بلخی ہے، جس پر ضعف غالب ہے اور ابن مہدی نے اس کی تعریف کی ہے، لیکن اکثر نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم۔[3]

محمد ناصر الدین البانی نے ابن ماجہ کی حدیث کو 'ضعیف ابن ماجہ' میں موضوع جبکہ 'السلسلہ الاحادیث الضعیفہ' میں ضعیف جداً (سخت ضعیف) کہا[4] اور طبرانی کی حدیث کو بھی موضوع کہا ہے۔[5] اور ابن تیمیہ كہتے ہيں: "جن احاديث ميں عيدين كى رات كا ذكر ہے وہ پیغمبر اسلام پر جھوٹ ہيں۔"

تاہم ان تفصیلات کا یہ مفہوم نہيں كہ ان راتوں میں عبادت مستحب نہيں، بلكہ ہر رات قيام اور نفل نوافل ادا كرنا مشروع ہے۔ اسى لیے علمائے اسلام كا اتفاق ہے كہ عيد كى رات قيام كرنا مستحب ہے۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. سنن ابن ماجہ: 1782
  2. ابن علان، الفتوحات الربانیہ علی الاذکار النواویہ (4/ 235)
  3. علی بن ابو بکر الہیثمی، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، اَبواب العیدین » باب اِحیاء لیلتی العید، ص 198
  4. السلسلہ الاحادیث الضعیفہ (521)
  5. السلسلہ الاحادیث الضعیفہ (520)