ماہواری کے پیڈ (انگریزی: menstrual pads)، جنہیں سینیٹیری نیپکین، سینیٹیری تولیہ یا صرف پیڈ بھی کہا جاتا ہے، ایک جذبی شے ہے جسے خواتین زیر جامہ استعمال کرتی ہیں، جب وہ

ماہواری کے پیڈ
مختلف سائز کے ماہواری کے پیڈ

ماہواری، حیض سے گذر رہی ہوتی ہیں یا کسی نسائیاتی جراحی کے بعد پہنتی ہیں۔ یہ پیڈ اسقاط حمل کے بعد اور ایسی کسی صورت حال کے بعد بھی پہنے جاتے ہیں جس میں عورتوں کی شرم گاہ سے خون کے جاری ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

ماہواری کے پیڈ خواتین کی صاف صفائی کی ایک مخصوص طرز کی مصنوعات میں سے ہے، جو باہری طور پر پہنا جاتا ہے۔ یہ ٹیمپون اور ماہواری کپ سے مختلف ہیں جن کا استعمال عورت کی شرم گاہ میں ہوتا ہے۔ ان پیڈوں کو چوبیسوں گھنٹے کی میعاد میں کئی بار بدلنے کی ضرورت ہو سکتی ہیں، جو اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ ماہواری کا بہاؤ کتنا زیادہ ہے۔

اخراجات

ترمیم

بی بی سی کے ایک جائزے کے مطابق پاکستانی خواتین پیریئڈز یا ماہواری سے متعلق اشیاء اور ادویات پر ایشیا کے 18 ممالک میں سب سے زیادہ رقم خرچ کرتی ہیں۔ اس جائزے کے مطابق پاکستانی خواتین اپنی ماہانہ آمدن کا تقریباً چھ فیصد ایسی مصنوعات اور ادویات پر خرچ کرتی ہیں جو انھیں ماہواری کے درد اور اس سے منسلک دوسرے مسائل سے نمٹنے میں مدد کرتی ہیں۔یہ رقم ان اخراجات سے نسبتاً دوگنی سے بھی زیادہ ہے جو ایک اوسط پاکستانی گھرانہ صحت یا تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ [1]

اس کے بر عکس بھارت کی حکومت نے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکنان کی کئی ماہ کی کوششوں کے بعد خواتین کی حفظان صحت کی سینٹری مصنوعات پر عائد 12 فیصد ٹیکس 2018ء میں واپس لے لیا ہے۔ یہ اعلان حکومت کی جانب سے تمام اشیا پر لگائے جانے والے نئے ٹیکس جی ایس ٹی کے ایک سال بعد کیا گیا۔ اس ٹیکس کے تحت خواتین کے ماہواری کے ایام میں حفظان صحت فراہم کرنے والی مصنوعات پر بھی 12 فیصد ٹیکس لگائے گئے تھے۔ اس ٹیکس کے خلاف سرگرم کارکنوں کا کہنا تھا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں پانچ میں سے چار خواتین اور لڑکیوں کو ابھی بھی ماہواری کے پیڈ جیسی چیزیں دست یاب نہیں ہیں، وہاں اس پر ٹیکس لگانے کا مطلب اسے مزید بعید الحصول بنانا ہے[2]۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم