مسجد شب بھر

بیرون شاہ عالمی دروازہ لاہور میں واقع راتوں رات تعمیر کی گئی ایک تاریخی مسجد

مسجد شب بھر شہر لاہور میں شاہ عالمی دروازہ سے بہت پہلے شاہ عالم مارکیٹ کے آغاز پر ایک مندر کے سامنے واقع ہے۔ اسے قیام پاکستان سے قبل مسلمانوں نے ایک رات میں تعمیر کرایا۔ مندر نے سڑک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔
اسی مسجد کے بارے میں علامہ اقبال نے یہ شعر موزوں کیا تھا:

مسجد شب بھر
Shab Bhar Mosque
مسجد شب بھر
بنیادی معلومات
متناسقات31°34′31″N 74°19′03″E / 31.5753°N 74.3176°E / 31.5753; 74.3176
مذہبی انتساباہل سنت
ملکپاکستان
تعمیراتی تفصیلات
نوعیتِ تعمیرمسجد
طرز تعمیرہند-اسلامی طرز تعمیر، مغلیہ طرز تعمیر
سنہ تکمیل1917 عام زمانہ
تفصیلات
گنبد1
مینار4
مواداینٹ، سنگ مرمر
مسجد تو بنادی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

ایک رات میں مسجد کی تعمیر کا دلچسپ واقعہ

ترمیم

لاہور کے شاہ عالم چوک میں ایک ایسی مسجد واقع ہے جسے ایک رات میں تعمیر کیا گیا تھا- اس مسجد کی اتنے قلیل وقت میں تعمیر کی وجہ اور واقعہ بھی انتہائی دلچسپ اور ایمان افروز ہے-

تاریخ بتاتی ہے کہ انگریزوں کے دور میں اس مقام سے ایک مسافر کا گذر ہوا اور اس نے یہاں نماز ادا کی جبکہ یہ علاقہ اس وقت ہندوؤں کی اکثریت کا حامل تھا- ہندوؤں کو یہ برداشت نہ ہوا اور اور انھوں نے ہنگامہ آرائی شروع کردی-

معاملہ عدالت تک جا پہنچا اور وہاں ہندوؤں کا مؤقف تھا کہ اس جگہ پر مندر تعمیر ہوگا جبکہ مسلمان یہاں مسجد تعمیر کرنا چاہتے تھے- اس موقع پر مسلمانوں کے وکیل نے انھیں تجویز دی کہ اگر وہ یہاں صبح فجر سے پہلے مسجد تعمیر کرلیتے ہیں تو کیس کا فیصلہ ان کے حق میں ہو جائے گا- مسلمانوں کی جانب سے اس کیس کی پیروی قائد اعظم محمد علی جناح کر رہے تھے-

یہ سننا تھا کہ مسلمانوں نے گاماں پہلوان کی قیادت میں راتوں رات مسجد تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا اور جس مسلمان کے پاس جو سامان تھا اس نے وہ مسجد کی تعمیر کے لیے وقف کر دیا۔ یہاں تک کہ خواتین رات بھر اپنے سروں پر پانی رکھ کر لاتی رہیں تاکہ مسجد کی تعمیر ممکن ہو سکے-

دوسری جانب مسجد کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد عدالت نے بھی مسلمانوں کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔

یہ مسجد 1917ء میں تعمیر کی گئی اور اس کا نام “مسجد شب بھر “ رکھا گیا- یہ مسجد 3 مرلے کے رقبے پر تعمیر ہے-[1]

علامہ اقبال کو جب تیسرے روز اس مسجد کی تعمیر کا پتہ چلا تو آپ یہاں تشریف لائے اور بہت خوش ہوئے اور یہی وہ موقع تھا جب انھوں نے یہ مشہور شعر کہا:

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

درج بالا کتھا تو اس روایت پر مبنی ہے جو سینہ بہ سینہ چلتی آرہی ہے اور زباں زد عام ہے۔ یعنی ہر ایک نے زیب داستاں کے لیے حسب ضرورت اس میں اضافہ کیا ہے۔ اصل معاملہ تھوڑا مختلف ہے۔ نقوش لاہور نمبر میں اس مسجد کی تعمیر کا احوال یوں درج ہے " ابتدا میں یہاں ایک کچا سا چبوترا تھا جس پر لوگ نماز پڑھا کرتے تھے۔ اس کے قریب ہی ہندوؤں کا ایک مندر تعمیر ہوا. مسلمانوں کو مسجد پختہ کرنے کا خیال آیا تو حکومت نے ہندو مسلم فساد کے پیش نظر اس کی اجازت نہ دیں. مئی 1922ء میں ایک روز پرجوش نوجوانوں نے آپس میں مشورہ کر کے رات رات میں یہاں مسجد کھڑی کردی. وہ عشاء کی نماز کے بعد کام پر لگے اور فجر کی نماز کے بعد فارغ ہو گئے۔ چونکہ مسجد میونسپل کمیٹی کی اجازت کے بغیر زبردستی کھڑی کی گئی تھی. اس لیے حکومت نے پولیس کی مدد سے زبردستی گرادی. 1353ھ میں اس جگہ منظوری کے ساتھ مسلمانوں کے چندے سے انجمن اسلامیہ نے یہ عمارت تعمیر کی جو آج بھی موجود ہے." اس وقوعہ کی مزید وضاحت مولانا غلام رسول مہر کے اس بیان سے ہوجاتی ہے "لاہور کے مسلمانوں نے اچانک جمع ہوکر ایک رات میں شاہ عالمی دروازہ کے باہر مسجد بنا کر کھڑی کردی. اس مسجد کے لیے مدت سے درخواست دے رکھی تھی اور وہ درخواست منظور نہ ہوتی تھی. انھوں نے چپکے چپکے سارا مسالا فراہم کر لیا. شام کے بعد بنانے لگے اور صبح سے پہلے پہلے مسجد مکمل کرلی. کچھ مدت بعد حکومت نے فوج کھڑی کر کے اس مسجد کو گرا دیا۔ پھر باقاعدہ منظوری حاصل کر کے یہ از سر نو تعمیر ہوئی." مولانا صاحب چونکہ اخبار نویس بھی تھے اس لیے ان کا بیان قابل توجہ ہے۔

منیر احمد منیر کی کتاب "مٹتا ہوا لاہور" میں حافظ معراج دین صاحب کا ایک انٹرویو شامل ہے, جس میں انھوں نے اس واقعہ کا یوں تذکرہ کیا ہے "وہ مسجد ہے نا, مسجد تو بنا دی شب بھر میں. یہ میرے باپ کی سجدہ گاہ ہے۔ پچھلی طرف میوہ منڈی تھی, اس کے اوپر لم سلمی چھت ہوتی تھی. نیچے دکانیں ہوتی تھیں. ان میں میرا دادا کرائے دار تھا۔ دوکانیں تھیں چھوٹی, ایک منزلہ. ایک ملاصدرالدین تھا۔ ساتھ والی دکان اُس کی تھی. مولوی صدرالدین نمازی پرہیزگار آدمی تھا۔ میرے والد صاحب بھی. انھوں نے کہا کہ یہاں تھڑا سا بنادیں. تھڑا بنایا تو اس پر کتے پھریں, پیشاب کریں. پھر اینٹیں لگانی شروع کر دیں. کسی مخیر آدمی نے نلکا لگوا دیا۔ اس طرح مسجد بن گئی۔ اس کے ساتھ ہندوؤں نے مندر بنانا شروع کر دیا۔ ایک رات فوج نے آ کے قبضہ کر لیا. ایک میاں خیر دین ہوتا تھا ہمارے ساتھ مسلم لیگ میں اس نے حصہ لیا. ایک ساجی ہوتا تھا اس نے حصہ لیا. بڑا کچھ ہوا.."

مسجد شب بھر کی تعمیر کا ذکر پروفیسر مسعود الحسن و ڈاکٹر ایس ایم ناز نے بھی کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے تو معروف روایت ہی درج کی ہے جبکہ پروفیسر صاحب کا بیان مولانا مہر سے ملتا جلتا ہے۔ اب اصل معاملہ کچھ اس طرح ہے کہ یہاں ایک چبوترا ہوتا تھا جہاں دکان دار یا مسافر حضرات نماز ادا کر لیا کرتے تھے۔ ہندوؤں نے جب قریب ہی مندر کی تعمیر شروع کی تو مسلمان حساس ہوگے. نیز دونوں کے درمیان کچھ بحث و تکرار بھی ہوئی. اس کے رد عمل میں چند نوجوانوں نے رات بھر میں یہاں باقاعدہ ایک مسجد کا ڈھانچہ بنا دیا۔ چونکہ یہ بلدیہ کی منظوری کے بغیر بنا تھا اس لیے اس کو منہدم کر دیا گیا۔ بعد ازاں انجمن اسلامیہ پنجاب نے اسی مقام پر ایک مختصر سی مسجد تعمیر کردی. اب یہ جج صاحب کی آمد, قائد کی تجویز اور گاما پہلوان کی نگہبانی اضافی چیزیں ہیں۔ نیز یہ بھی درست نہیں ہے کہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوا اور موجودہ مسجد کی عمارت وہی ہے جو رات بھر میں تعمیر ہوئی.

اس مسجد کے متعلق عوام میں بہت سے قصے مشہور ہیں۔ یہاں موجود امام صاحب بھی غلط فہمیوں کی ترویج و ترقی کا باعث ہیں۔ پاکستان ٹوڈے میں تانیا قریشی صاحبہ کا اور روزنامہ دنیا میں بھی ایک مضمون دیکھا. دونوں نے ہی ذرا سی جستجو تک کرنے کی زحمت نہیں کی اور بس زبان زد خلائق افسانہ لکھ دیا۔ اس مسجد کے متعلق میں نے کوئی دو درجن سے زائد ویڈیوذ بھی دیکھیں, سبھی کا کہنا تھا یہ کہ یہ عمارت ١9١٧ء میں بنی. حیرت اس بات پر ہوئی کہ انھوں نے مسجد کی بھرپور عکاسی بھی کی لیکن انھیں مسجد پر درج سن تعمیر نظر نہ آیا. مسجد پر واضح درج ہے کہ "مسجد شہید تعمیر کردہ انجمن اسلامیہ پنجاب رمضان المبارک 1353ھ(1934ء) میر عمارت منشی چغتائی." اس مسجد کا نام بھی مسجد شہید ہے۔ علامہ اقبال کے شعر کے باعث اس کو مسجد شب بھر یا مسجد یک شب بھی کہا جاتا ہے۔ اس شعر کے متعلق بھی شارحین اقبال کی مختلف آراء ہیں۔ یعنی اختلاف ہے کہ اس شعر میں طنز کیا گیا ہے یا خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ ویسے یہ شعر بانگ درا کے آخر میں ظریفانہ کے عنوان تحت درج اشعار میں شامل ہے۔ اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ علامہ نے طنز کیا ہے کہ مسجد تو رات بھر میں بنا لی لیکن نمازی کب بنو گے. پروفیسر یوسف سلیم چشتی نے تو اس شعر کی شرح میں بتایا ہے کہ ہند بھر میں کئی مساجد ہیں جو ایک رات میں تعمیر ہوئیں بطور مثال انھوں نے بجنور کی نگینہ مسجد کا ذکر کیا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس مسجد کے بنانے کا قصہ وہی ہے جو لاہور میں واقع اس مسجد کے متعلق عوام میں مشہور ہے۔ پشاور کی ایک مسجد کے متعلق بھی دعوی کیا جاتا ہے کہ وہ ایک روز میں تعمیر ہوئی تھی.

بہرکیف یہ مسجد اپنے ساتھ جڑی کہانی کے باعث عوام میں بے حد مقبول ہے۔ لوگ دور دور سے اسے دیکھنے آتے ہیں۔ ویسے مسجد ہے تو مختصر لیکن تعمیراتی لحاظ سے حسن و خوبی سے خالی نہیں. مہتمم عمارت نے سرخ و سفید پتھر استعمال کر کے مسجد کو قابل توجہ بنا دیا ہے۔ جب مسجد تعمیر ہونا تھی تب بھی یہاں دوکانیں تھیں. اس لیے ان کو شاید مسجد کے مستقل بندو بست و انتظام کے لے لیے قائم رکھا گیا۔ احباب سے گزارش ہے کہ اندرون لاہور کبھی جانا ہو تو اس چھوٹی مسجد کی زیارت ضرور کریں. مسجد غالباً محکمہ اوقاف کے زیر انتظام ہے تو ان سے التجاء ہے کہ یہاں کم از کم ایک معلوماتی تختی ہی لگادیں. تاکہ یہاں آنے والے اس کی درست تاریخ کو جان سکیں. انہی کوتاہیوں کی وجہ سے غلط و غیر مصدقہ روایات رواج پا جاتی ہیں اور پھر تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ عوام کو صحیح تاریخ سے واقف کروانے کا اہتمام کرے. [2]

نگار خانہ

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. M. Athar Tahir (2001)۔ Pakistan Colours۔ Oxford University Press 
  2. طلحہ شفیق