مفاد عامہ (انگریزی: Public interest) سے مراد عوام الناس اور سماج کا رفاہ اور ان کی خیریت۔[1] اس میں وہ معاملات شامل ہیں جو کسی ایک فرد یا ایک بشر کی خیریت سے متعلق نہیں ہیں بلکہ سماج کے ہر فرد کی بھلائی سے تعلق رکھتے ہیں۔ انفرادی بھلائی پر توجہ دی تو جاتی ہے، مگر وہ اجتماعی خیر کے نقطۂ نظر سے دیکھتے ہوئے طے کی جاتی ہے۔

مفاد عامہ کے چند معاملےترميم

مفاد عامہ کا موضوع کافی وسیع ہے۔ یہ کسی حد تک قومی مفاد کے معاملات کو بھی شامل کرتا ہے۔ مگر قومی مفاد کے معاملات کبھی مفاد عامہ سے ہنگامی حالات میں متصادم ہو سکتے ہیں۔ مثلًا اگر کبھی کسی ملک پر جنگ مسلط کی جائے یا پھر وہ ملک از خود کسی دوسرے ملک سے بر سر پیکار ہو جائے تو ایسے وقت ملک کے وسائل کی سربراہی بنیادی طور پر فوجی ٹھکانوں اور گوداموں کی طرف زیادہ ہوگی۔ اس کی وجہ سے ملک بھی عارضی ہی سہی، اشیاء کی قلت پیدا ہو سکتی، اور یہ بھی ممکن ہے کہ عام حالات کے بالمقابل عوامی مصنوعات کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت ہوں۔ دیگر معاملوں میں مفاد عامہ قومی مفاد کے شانہ بہ شانہ یا اس کا ایک حصہ بنے۔ جیسے کہ تعلیم اور صحت کے موضوعات ہوتے ہیں جو قومی مفاد اور مفاد عامہ دونوں کا حصہ ہو سکتے ہیں اور مجموعی طور عوام کی بھلائی اور خیریت کا سبب ہو سکتے ہیں۔ کچھ معاملات میں، مثلًا سیلاب یا زلزلوں کی صورت میں اسی باہمی پہلو کے پیش نظر مصیبت زدہ عوام الناس کے لوگوں کے بچاؤ اور ان تک راحت کی فراہمی کے لیے فوج اور فضائیہ کی مدد لی جاتی ہے۔

مفاد عامہ عوام کو گمراہی سے بچانے کا بھی نام ہے۔ 2018ء میں پاکستان کی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ چند حلقے مسلح افواج کے اہل کار بن کر لوگوں کو کال کر رہے ہیں۔ کال آنے پر شناختی کارڈ، بینک اکاؤنٹ اور دیگر ذاتی معلومات طلب کی جا رہی تھیں۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہے کہ عوام ایسی کالز آنے پر 1135 اور 1125 پر فوری اطلاع دیں۔ مردم شماری کے نام پر اس قسم کی کالز بھی جعلی ہیں۔[2]


مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. "Public interest", Random House Dictionary.
  2. "آئی ایس پی آر کی جانب سے مفاد عامہ میں آگاہی مہم شروع کردی گئی". 06 دسمبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 06 دسمبر 2019.