ملا دو پیازہ جلال الدین اکبر کے نو رتنوں میں سے ایک رتن تھے۔

نامترميم

اصل نام ابوالحسن بن ابو المحاسن بن ابو المکارم تھا۔ ایک تاریخ داں حافظ محمد شیرانی کہتے ہیں کہ ملادوپیازہ کا اصل نام عبد المومن تھا۔

پیدائشترميم

ملا دو پیازہ کی ولادت1540ء طائف نزد مکہ مکرمہ (عرب) کی تھی۔

ہندوستان آمدترميم

والد سوتیلی ماں سے اختلاف کی بنا پر گھر چھوڑ گئے تو اُنکی تلاش میں قافلہ در قافلہ سفر کرتے ہوئے ایران پہنچ گئے۔ وہاں سے مغل فوج میں تعلق کی بناپر ہندوستان آ گئے اور ایک مسجد میں قیام کر لیا۔1582میں وہ ہندوستان سے ایران چلے گئے۔36برس بعد دوبارہ آئے۔

ملا دو پیازہ وجہ تسمیہترميم

اپنی خوش خلقی اور لطیفہ گوئی سے شہر میں شہرت ہوئی تو ایک دعوت پر مدعو ہونے پر کھانا بہت پسند آیا۔ کھانے کا نام پوچھا تو جواب ملا کہ" دوپیازہ پلاؤ"۔ اُنھوں نے کہا کہ آئندہ کسی بھی دعوت میں شرکت پر اس کھانے کی تمنا ہو گی۔ بس وہاں سے ہی اس نام سے مشہور ہو گیا۔ بیربل کی طرح ملا دو پیازہ کے بھی کئی واقعات نے تاریخ میں کہانیوں کی شکل لے لی ہے ان کو ہمیشہ بیربل کے حریف کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور ان دونوں کی نوک جھونک سے اکبر کے دربار میں کافی تفریح کا سامان مہیا رہتا تھا۔ کئی اسکالرس ان کو ایک افسانوی کردار مانتے ہیں۔ ایک تاریخ داں کا کہنا ہے کہ ملا دوپیازہ عرف ابو الحسن ایران سے ہمایوں کے ساتھ ہندوستان آئے تھے۔ اور اکبر کے دوست ہو گئے۔ ان کو دوپیازہ بہت پسند تھا اور وہ اس کو سید الطوام کہتے تھے۔ اسی لیے ان کا نام ملا دوپیازہ پڑ گیا۔ وہ کسی دعوت اسی وقت قبول کرتے جب کھانے میں دوپیازہ ہوتا تھا۔

وفاتترميم

ابو الحسن عرف ملاّ دوپیازہ نے60برس کی عمر پائی۔ مغل اعظم احمد نگر کے محاصرے سے واپس آ رہے تھے کہ راستے میں ملاّ دوپیازہ بیمار پڑ گئے اور مہینہ بھر بیماری کاٹ کر 1620ء میں قصبہ ہنڈیا میں انتقال کر گئے،[1][2]

حوالہ جاتترميم