جلال الدین اکبر

اکبر

جلال الدین اکبر : سلطنت مغلیہ کے تیسرے فرماں روا (بابر اعظم اور ہمایوں کے بعد)، ہمایوں کابیٹا تھا۔ ہمایوں نے اپنی جلاوطنی کے زمانے میں سندھ کے تاریخی شہر دادو کے قصبے "پاٹ" کی عورت حمیدہ بانو سے شادی کی تھی۔ اکبر اُسی کے بطن سے 1542ء میں عمر کوٹ کے مقام پر پیدا ہوا۔ ہمایوں کی وفات کے وقت اکبر کی عمر تقریباً چودہ برس تھی اور وہ اس وقت اپنے اتالیق بیرم خان کے ساتھ کوہ شوالک میں سکندر سوری کے تعاقب میں مصروف تھا۔ باپ کی موت کی خبر اسے کلانور ضلع گروداسپور (مشرقی پنجاب) میں ملی۔ بیرم خان نے وہیں اینٹوں کا ایک چبوترا بنوا کر اکبر کی رسم تخت نشینی ادا کی اور خود اس کا سرپرست بنا۔ تخت نشین ہوتے ہی چاروں طرف سے دشمن کھڑے ہو گئے۔ ہیموں بقال کو پانی پت کی دوسری لڑائی میں شکست دی۔ مشرق میں عادل شاہ سوری کو کھدیڑا۔ پھر اس نے اپنی سلطنت کو وسعت دینی شروع کی۔

مغل شہنشاہ
جلال الدین اکبر
(اردو میں: جلال الدین محمد اکبر)،(ہندی میں: जलालुद्दीन मुहम्मद अकबर خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
جلال الدین اکبر

مغل شہنشاہ
دور حکومت 27 جنوری ، 1556ء - 27 اکتوبر ، 1605ء
تاج پوشی 14 فروری ، 1556ء کلانور ، گورداسپور
معلومات شخصیت
پیدائش 15 اکتوبر 1542[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
عمرکوٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 27 اکتوبر 1605 (63 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
آگرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات پیچش  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Fictional flag of the Mughal Empire.svg مغلیہ سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام، دین الٰہی
زوجہ مریم الزمانی
رقیہ سلطان
سلیمہ سلطان (1561–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد نورالدین جہانگیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد نصیر الدین محمد ہمایوں  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ حمیدہ بانو بیگم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
بخشی بانو بیگم،مرزا محمد حکیم،الامان مرزا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بہن/بھائی (P3373) ویکی ڈیٹا پر
خاندان خاندانِ تیمور
نسل جہانگیر ، 5 مزید بیٹے اور 6 بیٹیاں
خاندان مغل

1556ء میں دہلی، آگرہ، پنجاب پھر گوالیار، اجمیر اور جون پور بیرم خان نے فتح کیے۔ 1562ء میں مالوہ، 1564ء میں گونڈدانہ، 1568ء میں چتوڑ، 1569ء میں رنتھمپور اور النجر، 1572ء میں گجرات، 1576ء میں بنگال، 1585ء میں کابل، کشمیر اور سندھ، 1592ء میں اڑیسہ، 1595ء میں قندہار کا علاقہ، پھر احمد نگر، اسیر گڑھ اور دکن کے دوسرے علاقے فتح ہوئے اور اکبر کی سلطنت بنگال سے افغانستان تک اور کشمیر سے دکن میں دریائے گوداوری تک پھیل گئی۔

اکبر نے نہایت اعلیٰ دماغ پایا تھا۔ ابوالفضل اور فیضی جیسے عالموں کی صحبت نے اس کی ذہنی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشی۔ اس نے اس حقیقت کا ادراک کر لیا تھا کہ ایک اقلیت کسی اکثریت پر اس کی مرضی کے بغیر زیادہ عرصے تک حکومت نہیں کر سکتی۔ اس نے ہندوؤں کی تالیف قلوب کی خاطر انہیں زیادہ سے زیادہ مراعات دیں اور ان کے ساتھ ازدواجی رشتے قائم کیے۔ اکبر نے ایک ہندو عورت جودھا بائی سے بھی شادی کی جو اس کے بیٹے جہانگیر کی ماں تھی۔ جودھا بائی نے مرتے دم تک اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ نیز دین الہٰی کے نام سے ایک نیا مذہب بھی جاری کیا۔ جو ایک انتہا پسندانہ اقدام تھا اور اکبر کے ہندو رتنوں کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ تھا۔ دین الہًی کی وجہ سے اکبر مسلمان امرا اور بزرگان دین کی نظروں میں ایک ناپسندیدہ شخصیت قرار پایا۔ وہ خود ان پڑھ تھا۔ لیکن اس نے دربار میں ایسے لوگ جمع کر لیے تھے جو علم و فن میں نابغہ روزگار تھے۔ انہی کی بدولت اس نے بچاس سال بڑی شان و شوکت سے حکومت کی اور مرنے کے بعد اپنے جانشینوں کے لیے ایک عظیم و مستحکم سلطنت چھوڑ گیا۔

فہرست

تاریخترميم

جنگیں اور فتوحاتترميم

مذہبی حکمت عملیترميم

بین الاقوامی پالیسیترميم

تعمیراتترميم

 
پنچ محل ، فتح پور سیکری

اکبر کے نو رتنترميم

شہنشاہ اکبر ِاعظم کے اہم درباریوں میں وہ "نورتن"بھی شامل تھے جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ باکمال تھا اور اُن سب کی زندگی کے چند اہم پہلو ہی اُنکی وہ پہچان بنے جس کی وجہ سے آج بھی اُنکا ذکر مختلف شعبوں میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ راجہ ٹو ڈرمل اور عبد الرحیم خان خاناں کے علاوہ کوئی بھی منصب وزارت پر فائز نہ تھا لیکن یہ سب بادشاہ کے جلوت و خلوت کے شریک اور مشیر کار تھے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: http://d-nb.info/gnd/118644181 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد 3،صفحہ 47 جامعہ پنجاب لاہور
جلال الدین اکبر
پیدائش: 14 اکتوبر 1542 وفات: 27 اکتوبر 1605
شاہی القاب
پیشرو 
نصیرالدین ہمایوں
مغل شہنشاہ
1556–1605
جانشین 
نورالدین جہانگیر