مرد اور عورت کے درمیان نکاح کے وعدے یا فیصلے کو منگنی کہتے ہیں۔ جن کے درمیان منگنی ہو انھیں منگیتر کہا جاتا ہے۔

اسلامی شریعت کی روشنی میں

ترمیم

منگنی فرض ہے

ترمیم

اسلامی محقق محمد اکبر نے اپنی کتاب ”اللہ“ کے عنوان نکاح[1] میں سورۃ البقرہ کی آیت 235 سے اسلام میں منگنی کو فرض کہا ہے۔

منگنی کی کوئی شرعی حیثیت نہیں

ترمیم

کچھ لوگوں کے مطابق منگنی کی کوئی شرعی حیثیت نہیں[حوالہ درکار]۔

ثقافت کے اعتبار سے

ترمیم
 
انگوٹھی

برصغیر باک و ہند میں ثقافتی طور پر منگنی کی رسم شادی کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ اس رسم کے موقع پر لڑکا لڑکی یا ان کے سرپرست لڑکا یا لڑکی کو انگھوٹی پہناتے ہیں۔

حوالہ جات

ترمیم