مولوی سید احمد دہلوی

مولوی سید احمد دہلوی کتاب فرہنگ آصفیہ کے مصنف ہیں دہلی ان کا وطن تھا

مولوی سید احمد دہلوی
Syed Ahmad Dehlvi.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 8 جنوری 1846  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 11 مئی 1918 (72 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ماہرِ لسانیات،  فرہنگ نویس،  ماہرِ علم اللسان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں فرہنگ آصفیہ  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ولادتترميم

مولوی سید احمد دہلوی [[1844ء]] میں دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ان کے آباواجداد عرب سے بخارا کی راہ ہندوستان آئے

علمی مقامترميم

مشرقی علوم میں اچھی دستگاہ تھی انھوں نے اردو زبان کی خاص طور پر خدمت کی نوجوانی میں انھیں سات برس تک ایک انگریز مستشرق ڈاکٹر فیلن کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جو اردو انگریزی لغت مرتب کر رہے تھےیہیں سے مولوی صاحب کو جدید لغت نگاری کے اصولوں کے تحت اپنی لغت مرتب کرنے کا خیال آیا۔ نظام حیدرآبادمحبوب علی خان کے یہاں سے پچاس روپیہ ماہوار وظیفہ مقرر تھا ایک ضخیم کتاب فرہنگِ آصفیہ کے مولف ہیںیہ کتاب زبان اردو کا تنہا جامع لغت ہے جو ان کی یادگار ہے اس لغت کو نظام دکن کے لقب آصف کی نسبت سے فرہنگِ آصفیہ کے نام سے طبع کیا۔

تصنیفاتترميم

  • رسوم دہلی
  • فرہنگ آصفیہ
  • ہادی النساء
  • علم اللسان
  • انشاء ہادی النساء
  • لغات النساء
  • محاکمہ مرکزاردو
  • کنز الفوائد[1]
  • 1878 میں انھوں نے ارمغانِ دہلی کے نام سے رسالے کی شکل میں لغت طبع کرنے کا آغاز کیا۔

وفاتترميم

10 مئی 1918ء کو بمقام دہلی انتقال ہوا[2]

  1. https://www.rekhta.org/ebooks?author=syed-ahmad-dehlvii
  2. قاموس المشاہیر،نظامی بدایونی،جلد اول صفحہ 295،نظامی پریس بدایوں 1924ء