موہنی آٹم ((ملیالم: മോഹിനിയാട്ടം)‏) آٹھ ہندوستانی کلاسیکی رقص میں سے ایک ہے جو کیرل میں شروع ہوا اور وہیں مشہور رہا۔ موہنی آٹم کیرل کا کلاسیکی سولو رقص ہے جو کتھاکلی کے نسوانی پہلو لاسیہ اور ٹانڈو پر مبنی ہوتا ہے۔[1][2] یہ رقص دھیمی رفتار کے ساتھ آہستہ آہستہ پر جوش انجام کی طرف بڑھتا ہے۔ اس رقص کے ذریعہ دیوتاؤں کی فتح کو اساطیری انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ روایتی طور پر اس میں عورتیں ہی فن کا مظاہرہ کرتی ہیں۔[3] وشنو نے موہنی کی صورت اختیار کی تھی اور چوں کہ موہنی عورت کے حسن و جمال کی علامت ہے۔ اس لیے اس میں رومانوی فضاؤں کا غلبہ ہوتا ہے۔[4][5] کیرل کا یہ عوامی رقص اپنی رومانوی عناصر اور نسوانی تاثرات کی فن کارانہ اظہار کی وجہ سے ہی مقبول و معروف ہے۔ اس کی آہنگ و دھمک میں نرمی اور گداز ہے۔ ہاتھوں کے معنی خیز حرکت وعمل، آنکھوں کے معنوی تاثرات اور نگہ و ابرو کے تہ دار اشارے، عورت کے خوبصورت وجود اور لذت آمیز جسم اس رقص کو پُر کشش بناتے ہیں۔ شاعر و موسیقار دونوں نے اپنے تخلیقی ہنر سے اس رقص کو عروج و کمال عطا کیا ہے۔ نغمہ و آہنگ کی دھمک ناظرین کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. James G. Lochtefeld (2002)۔ The Illustrated Encyclopedia of Hinduism: A-M۔ The Rosen Publishing Group۔ صفحہ: 359۔ ISBN 978-0-8239-3179-8 
  2. Peter J. Claus، Sarah Diamond، Margaret Ann Mills (2003)۔ South Asian Folklore: An Encyclopedia۔ Routledge۔ صفحہ: 332–333۔ ISBN 978-0-415-93919-5 
  3. James B. Robinson (2009)۔ Hinduism۔ Infobase Publishing۔ صفحہ: 103–105۔ ISBN 978-1-4381-0641-0 
  4. James G. Lochtefeld (2002)۔ The Illustrated Encyclopedia of Hinduism: A-M۔ The Rosen Publishing Group۔ صفحہ: 433۔ ISBN 978-0-8239-3179-8 
  5. Mohini Attam, Encyclopædia Britannica (2016)